تازہ ترین

اناو معاملہ: سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں ترمیم کی

3 اگست 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

نئی دہلی//سپریم کورٹ نے اناو معاملہ سے وابستہ سڑک حادثہ معاملہ کو دہلی منتقل کرنے کے اپنے کل کے حکم میں سنیچر کو فوری طورپر ترمیم کی۔ چیف جسٹس رنجن گوگوئی کی صدارت والی بنچ نے سالیسٹر جنرل تشار مہتہ کے خاص طورپر ذکر کے بعد اپنے حکم میں ترمیم کرتے ہوئے کہا کہ جب تک سڑک حادثہ کی جانچ پوری نہیں ہوجاتی تب تک اس معاملہ کو دہلی منتقل نہیں کیا جائے گا۔ مسٹر مہتہ نے جمعہ کو معاملے کا خاص طورپر بنچ کے سامنے ذکر کیا اور کہا کہ چونکہ معاملہ کی جانچ فی الحال جاری ہے ایسی حالت میں اسے دہلی منتقل کرنے سے ملزمین کو حراست میں لینے اور ضمانت وغیرہ قانونی عمل میں دقت ہوگی۔عدالت نے مرکزی تفتیشی بیورو کو سڑک حادثہ معاملہ کی جانچ پوری کرنے کے لئے 14دن کا وقت دیا۔ اس سے پہلے عدالت نے اناو عصمت دری معاملہ کی متاثرہ کو بہتر علاج کے لئے دہلی منتقل کرنے کے فیصلہ پر فوری طورپر روک لگا دی۔  عدالت نے حالانکہ سیکورٹی اسباب سے متاثرہ کے چاچا کو ل جلد از جلد رائے بریلی کی جیل سے دہلی کی تہاڑ جیل منتقل کرنے کی ہدایت دی۔ متاثرہ کے چاچا نے عدالت کو خط لکھ کر جیل کے اندر اپنی جان کو خطرہ بتایا تھا۔ بنچ نے متاثرہ کی حالت اور متاثرہ کی ماں کی بات کو مد نظر رکھتے ہوئے اسے علاج کے لئے فی الحال دہلی ایئرلفٹ نہ کئے جانے کی فیصلہ دیا۔ عدالت نے کہاکہ متاثرہ کی حالت میں بہتری کے بعد اسے دہلی شفٹ کیا جاسکتا ہے لیکن اس پرپیر کو فیصلہ کیا جائے گا۔ متاثرہ کی ماں نے بنچ کو بتایا کہ وہ اپنی بیٹی کا لکھنو کے کنگ جارج میڈیکل کالج میں ہی علاج جاری رکھنا چاہتی ہے ۔ وہ اسے علاج کے لئے دہلی شفٹ نہیں کرنا چاہتی۔ مسٹر مہتہ نے کہاکہ متاثرہ کا کنبہ یہ نہیں چاہتا کہ متاثرہ کو دہلی منتقل کیا جائے ۔ کنبہ کا کہنا ہے کہ متاثرہ کو ابھی تک ہوش بھی نہیں آسکا ہے تو اس کا علاج لکھنو میں ہی ہو۔یو این آئی
 

اناو کیس:متاثرہ کو دہلی منتقل کرنے پر پیر تک کے لئے روک

نئی دہلی //سپریم کورٹ نے اناو عصمت دری معاملے کو بہتر علاج کے لئے دہلی منتقل کرنے کے فیصلے پر جمعہ کو فوری طورپر روک لگادی گئی ہے ۔عدالت نے ،حالانکہ سکیورٹی وجوہات سے متاثرہ کے چچا کو جلد از جلد رائے بریلی کی جیل سے دہلی کی تہاڑ جیل منتقل کرنے کا حکم دیا ہے ۔متاثرہ کے چچا نے عدالت کو خط لکھ کر جیل کے اندر جان کا خطرہ بتایا تھا۔جسٹس رنجن گوگوئی اور جسٹس دیپک گپتا کی بینچ نے متاثرہ کی حالت اور اس کی ماں کی بات کو توجہ میں رکھتے ہوئے اسے علاج کے لئے فی الحال دہلی منتقل نہ کئے جانے کا فیصلہ کیا ہے ۔عدالت نے کہا کہ متاثرہ کی حالت میں بہتری ہونے کے بعد اسے دہلی منتقل کیا جاسکتا ہے ،لیکن اس پر پیر کو فیصلہ کیا جائے گا۔