تازہ ترین

شہر سرینگر کا ڈرینیج بجٹ | 20برسوں میں 22کروڑ سے گھٹا کر ایک کروڑ

انتظامیہ بیدار نہ ہوئی تو احتجاجی مہم چھیڑ دینگے

2 اگست 2019 (00 : 12 AM)   
(   عکاسی: امان فاروق    )

بلال فرقانی
سرینگر// شہر کی غرقابی کیلئے مسلسل حکومتوں اور انتظامیہ کو براہ راست ذمہ دار قرار دیتے ہوئے تجارتی پلیٹ فارم کشمیر اکنامک الائنس نے کہا کہ سٹی ڈرینج کے بجٹ کو20برسوں میں 22کروڑ روپے سے کم کرکے ایک کروڑ روپے کم کردیا گیاہے۔کشمیر اکنامک الائنس کے شریک چیئرمین فاروق احمد ڈار نے متنبہ کیا کہ اگر فوری طور پر گورنر انتظامیہ اقدامات کرنے میں کامیاب نہیں ہوئی تو دکانداروں سمیت وہ سڑکوں پر آکر احتجاجی لہر چھیڑ دینگے۔ سرینگر میں اپنے دفتر میںپریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فاروق احمد ڈار نے کہا کہ ریاست کی مسلسل حکومتوں نے شہر سرینگر کو نظر انداز کیا اور نکاسیٔ آب کے نظام میں بہتری لانے کیلئے نا ہی منصوبہ سازی کی گئی اور نہ ہی رقومات کو واگزار کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ بیروکریٹوں نے سرینگر میں ڈرینج کے منصوبوں کو ٹھنڈے بستے کی نذر کیااور ہمیشہ غفلت شعاری سے کام لیاجس کی وجہ سے روز افزوں صورتحال بد سے بد تر ہوئی اور جمعرات کو ایک گھنٹے کی بارشوں نے شہر سرینگر کو غرقآب کیا۔فاروق ڈار نے کہا کہ سٹی ڈرینیج کو2002میں محکمہ یو ای ی ڈی سے الگ کر کے سرینگر مونسپل کارپوریشن کے حوالے کیا گیااور ناتجربہ کار افسران کو اس میں تعینات کرکے ڈرینج نظام کے تابوت میں کیل ٹھونک دی وہی حیرت انگیز طور پر بجٹ کو بھی22کروڑ سے ایک کروڑ روپے کیا گیا۔فاروق احمد ڈار نے کہا’’1996-97مالی سال کے دوران ڈرینیج کا بجٹ22کروڑ تھا،اور اس میں سال در سال اضافہ ہونا چاہے تھا،تاہم اس کو گھٹا کر محض ایک کروڑ روپے کیا گیا۔‘‘ انہوں نے کہا کہ بارشوں سے دکانداروں کو اس سے کافی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔فاروق ڈار نے کہا کہ فی الوقت سرینگر بلدیہ کے پاس115پانی کے پمپ موجود ہیں،جن میں8پمپ اعلیٰ قوت کے ہیں ،اور یہ پمپ فی گھنٹہ7لاکھ لیٹر پانی کو ٹھکانے لگانے کے اہل ہیں تاہم عملے کی عدم موجودگی کی وجہ سے یہ پمپ وقت پر شروع نہیں کئے گئے۔انہوں نے کہا کہ ان پمپوں کو چلانے کیلئے جہاں250آپریٹروں کی ضرورت ہیوہی سرینگر مونسپل کارپوریشن کے پاس فی الوقت صرف10آپریٹر موجود ہیںکیونکہ حالیہ ایام میں روزانہ اجرت پر کام کرنے والے ان پمپ آپریٹروں کو بھی نکالا گیاجو اس کام پر مامور تھے۔