تازہ ترین

زندگی بعد از حج!

سیرت بدل گئی خداکو پاگئے

2 اگست 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

پروفیسر فاروق احمد پیر۔۔۔ مترجم :آصف اقبال شاہ
 خالق ِارض و سماء کی تخلیق کردہ وسیع و عریض کا ینات میں رہ رہے ہر کلمہ گو کی یہ آرزو رہتی ہے کہ زندگی میں ایک بار ہی سہیمگرحج کی سعادت نصیب ہو اور اس کے بعد ہی خا تمہ با ِ لخیر ہو۔مکتہ المکّرمہ میں موجود  کعبتہ اللہ کا دیدارنصیب ہونے کے ساتھ ساتھ قربِ الہٰی کا شرفِ عظیم حاصل ہو۔ عبادات میں حج ایک ایسی عبادت ہے جو مشروط ہے اور قرانِ پاک کا واضح حکم اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ فرزندانِ توحید میں جو صاحب استطاعت ہوں، معاشی اعتبار سے مستحکم ہوں اور صحت کے لحاظ سے توانا و تندرست ہوں، شریعت اسلامی کی رُوسے ایسے لوگوں پر حج واجب ہوتا ہے اور حج نہ کرنے کی صورت میں ایسے لوگ گناہِ کبیرہ کے مرتکب ہوتے ہیں۔ ـاللہ کا فرمان ہے :’’ـ اللہ کا حق ہے لوگوں پر خا نہ کعبہ کا حج کرنا ، جو اس کی طرف چلنے کی قدرت رکھتا ہو ‘‘(سورہ آلِ عمران آیت ۹۷)                 
 مسلمانوں کا سفرِ محمود پر جانا اور حرمین کا دیدار کرناکوئی سیر و تفریح کا عمل نہیں ہے جیسا کہ عسائیت میں اس چیز کا تصور موجود ہے اور نہ ہی یہ کام یہو دیوں کی طرح کو ئی رسم ہے کہ انسان جب چاہئے چند رسوم  انجام دے کر اپنے آپ کو بری الذمہ سمجھے۔ اسلام دین فطرت ہے جو اپنے ماننے والوں کو وقت کی پابندی کا درس دیتے ہوئے ایک انسان کونظم وضبط کا پابند بنا دیتا ہے۔ حج کی عبادتِ با سعا دت انجام   دینے کیے لئے ایک خا ص وقت متعین ہے۔ مقررہ ایام گز ر جانے کے بعد حج کا فریضہ انجام نہیں دیا جاسکتا ہے۔ اسلامی سال کے آخری مہینے (ذی الحجہ )کی آٹھویں،نویں اور دسویں تاریخ کے   کے دوران  حج سے وابستہ سبھی مناسک بحسن و خوبی انجام دینے کے سلسلے میں حجاج کرام کووقت کی رعایت کرتے ہوئے فرائض اور واجبات کی ادائیگی کے سلسلے میں متحرک رہنا پڑتا ہے۔ ان ایام کے بعد اگرکوئی مسلمان شخص کعبتہُ اللہ کی زیارت کرنے کے لئے حرمین شر یفین کی مقدس سر زمین پر قدم رنجہ ہونے کی سعادت حاصل کر تا ہے اور تو حید کے نغموں کو وردِ زبان رکھتے ہو ئے  طواف کرتا ہے ، صفا و مروہ کی سعی کرتا ہے لیکن یہ مبارک اور مقدس اعمال انجام دینے کے بعد بھی اُس کے ان سارے مناسک کی ادائیگی حج نہیں کہلا سکتی ہے ۔شر یعت کی روشنی میں معلوم ہوتا ہے کہ اسلام ترجیحات کا تعین اور تنظیم ِوقت ( Time management  Priorities&) سے منضبط ہے۔ سفرِ محمود پر جانے والے خوش نصیب لوگوں پر یہ لازم آ تا ہے کہ وہ مقررہ ایام کے دوران حج سے وا بستہ جملہ مناسک کی تکمیل کو یقینی بنا نے  میں کو ئی دقیقہ فرو گزاشت نہ کریں ۔ایک مسلمان حج کی عبادت کوا نجام دینے کے سلسلے میں بنیادی طور دواہم چیزوں کو ملحوظِ نظر رکھ کر اپنا رختِ سفر کعبۃ اللہ کی جانب باندھنے کی نیت کرتا ہے : پہلی چیز یہ ہے کہ اللہ بزرگ و بر تر کے حکم کی تعمیل ہو اور دوسری بات یہ ہے کہ لاکھوںفر زندانِ تو حید کے جم غفیر میں جہاں اقبال مندانِ ازلی ایک ہی لباس میں ملبوس ہو کے توحید سے لبریز کلمات وردِ زبان کر کے خدا وند متعال کی بار گاہ میں دست بدعا ہونے والوں کے ساتھ ملاقات کرنے کاشرف حاصل ہو جہاں ہر لب اور ہر زبان پر یہ کلمات جاری و ساری رہتے ہیں: میں حاضر ہوں اے اللہ، میں مو جود ہوں ، میں آپ کی ذات و صفات میں کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا ہوں، میں حاضر ہوں اللہ)
 قرانِ کریم ہمارے لئے ایک مقدّس سند ہے جس میں حج بیت اللہ کی اہمیت تفصیلاً وارد ہوئی ہے۔پیغمبر آ خرو زمانﷺ نے ہمیں حج کی اہمیت و افادیت کے بارے میں واضح تعلیم دی ہے۔ آپﷺ نے حضرت ابراہیمؑ کا دین اپنی ا مت تک پہنچا دیا۔ آپ ﷺنے عام لوگوں کو جہالت کی اندھیروں سے نکال کر علم کی روشنی میں داخل کیا ، ان کے عقائد، عبادات، خیالات اور احسا سات اسلام کے سانچے میں ڈھال کر ان کی شخصیتوں کو دُرست کیا۔ دنیائے انسانیت کے سامنے ایک صاف اور واضح دین محبت وراحت پیش کیا جس میں زندگی سے جڑا ہر معاملہ انسانی فطرت کے عین مطابق بیان کیا گیا ہے لیکن سوال پیدا  ہوتا  ہے کہ ہم کس حد تک اس دین مبین کو اپنی انفرادی اور اجتماعی زند گیوں میں عملانے کی کوشش کر تے ہیں؟ ہم اپنی آنکھوں سے اس چیز کا مشا ہدہ کرتے ہیں کہ ہر سال دنیا کے کونے کونے سے فر زندانِ  تو حید حج بیت اللہ سے مستفید و مستفیض ہونے کے ساتھ ساتھ حج کے احکامات اور مسائل سیکھتے سکھاتے ہیں۔ وہ منظر قابل دید ہو تا ہے جب کا ئنات کے چپے چپے سے آئے ہوئے بندگانِ خداا بلا امتیازِ رنگ و نسل،ذات پات، زبان و وطن اورمسلک و مشرب ایک ساتھ فریضہ ٔ حج انجام دیتے ہیں۔ بلاشبہ حج کی وساطت سے اہل ایمان کے درمیان آپسی بھائی چارے، اُ خوت و مروت ، الفت و محبت اور ایثار و قربانی کا ایک منفرد و ممتاز ماحول پیدا ہوتا ہے۔ مختلف جگہوں سے آئے ہوئے حجاج کرام ہمہ وقت عبادات میں منہمک ہوتے ہیں، اس بات کی پرواہ کئے بغیر کہ ہم کس وطن سے آ ئے ہوئے ہیں، کون سی ز بان بولتے ہیں، کس مسلک سے تعلق رکھتے ہیں اور کس تہذیب سے و تمدن سے پیوستہ ہیں۔ ملّی اتحاد و اتفاق کے اس ماحول میںعرش کے فرشتے بھی فرش پر اپنے پروں کو بچھا کر خوشی انبساط محسوس کرتے ہیں۔ یہ یکجہتی، اتفاق، اتحاد اور بھائی چارہ صرف اور صرف دین اسلام کی سر بلندی کا ایک زندہ وجاوید معجزہ ہے۔ تمام حجاجِ کرام روتے بلکتے بارگاہِ ایزدی میں دنیا میں رہ بس رہے جملہ مسلمانوں کے لئے دعا گو ہوتے ہیں، مسلمانوں کی خستہ حالی اور زبوں حالی کو دور ہو ،اس کی خاطراللہ سے دست بدعا ہوتے ہیں۔ 
ہماری آنکھیں اس زندہ معجزے کا چیز کا ہر سال مشا ہدہ کرتی ہیں مگر افسوس کہ کوئی حاجی صاحب حرمین شریفین سے وداع لے کر واپس اپنے گھر کو لوٹے اور حج کا اصل مقصد اور اس کے روحانی فوائد اس کی زندسگی میںکہیں نظر ہی نہ آئیں تو کتنا دُکھ ہوتا ہے۔ انفردای سطح پر اگر چہ حجاج کرام بعداز حج بیت اللہ اس فریضے کے مقاصد ذہن میں رکھ کر مو منا نہ زندگی گزار لیتے ہیں لیکن یہ بھی د یکھنے میں آتا ہے کہ بعد از حج ہماری زندگیوں میں کوئی خاطر خواہ تبدیلی رو نما نہیں ہو تی اور ہم بھول جا تے ہیں کہ ہم نے اللہ کی بارگا میں تجدید ِ عہد کیا ہے کہ اب مابعد حج ہم ایک صالح زندگی گزار لیں گے اور اسلام کی سر بلندی کے لئے ہمہ وقت کام کریں گے ۔ اس کے برعکس جب رشوت خوری، سینہ زوری،تعصب، ذخیرہ اندوزی اور بے حیائی کا ماحول معاشرے میں پروان چڑ ھتار ہے اور ہم خاموش بیٹھے رہیں تو گئے کام سے۔ کیا ہی اچھا ہو تا کہ حرمین  سے لوٹ آئے سبھی حجاجِ کرام حج کی سیکھ سے ہماری زندگیوں میں صالح انقلاب بپا ہوتا۔ اصل میں ہم حج کا مقصد سمجھ ہی نہیں پا تے ہیں اور رسولِ رحمتﷺ کے اُن فرمودات و ار شادات کو فراموش کرتے ہیں جو آپ ﷺ نے حجۃ الوداع کے موقعے پر میدان عرفات میں اپنے لاتعداد صحابہ کے سامنے پیش فرمائے۔ اس فکر انگیز خطبہ میں آپ ﷺ نے فر مایا: لوگو آپ کا خداایک ہے اورآپ کا جدامجد بھی تنہا ہے۔ آپ میں سے سب سے بہتر اور افضل وہ ہے جو پر ہیز گار ہو ۔ کسی عربی کو کسی عجمی پر، کسی گورے کو کسی کالے پر کوئی فضیلت نہیں سوائے پر ہیزگاری کے۔ اللہ بصیر با العباد ہے اوراللہ کی نظروں میں افضل و اشرف وہ ہے جس کے اعمال اچھے ہوں۔آپ وﷺنے یہ بھی فر ما یا کہ دو چیزیں چھوڑ کر میں آپ سے رخصت ہو ر ہا ہوں :پہلی چیز قرانِ پاک اور دوسری چیز سنت نبویﷺ۔ اگر آپ ان دو چیزوں پر عمل کروگے تو کبھی گمرا ہ نہیں ہوجاوگے۔ ہمیں چا ہئے کہ حج کرنے کے بعد ہماری انفردای واجتماعی زندگی مکمل طور بدل جائے اور اس میں ایک صالح انقلاب پیدا ہو ۔یہی قبولیتِ حج کی ضمانت ہو گی۔ 
 9469801021