تازہ ترین

مسلم پرسنل لا بورڈ مومنانہ فراست سے محروم

طلاق ثلاثہ قانون بورڈ کی ناکامی کی دلیل: شاہی امام

2 اگست 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

نئی دہلی//جامع مسجد دہلی کے شاہی امام مولانا سید احمد بخاری نے مسلم پرسنل لا بورڈ کے ذمہ داروں پر مومنانہ فراست سے محروم اور زمینی حقائق و ملک کی سیاسی سماجی صور تحال کوسمجھنے کی صلاحیت سے عاری ہونے کا الزام لگاتے ہوئے آج کہا کہ طلاق ثلاثہ پرقانون سازی اور اس سے قبل سپریم کورٹ کی جانب سے بیک وقت تین طلاقوں کو غیر آئینی و غیر قانونی قرار دینے کا فیصلہ مسلم پرسنل لا بورڈ کی زبردست ناکامی کی دلیل ہے ۔مولانا بخاری نے آج ایک بیان میں کہا کہ عدالتی کارروائی کے دوران بورڈ اور ا سکے ذمہ داران کو یہ موقع میسر آیا تھا کہ وہ طلاق بدعت کے حوالے سے کوئی واضح موقف اختیار کرتے ۔ وہ طلاق حسن اور طلاق احسن کو بھی اپنے موقف کا جز ء یا کُل بناتے ۔ لیکن وہ طلاق ثلاثہ یا طلاق بدعت پر ہی اَڑے رہے ۔ اس کے علاوہ بار بار ایک ایسی شق والے نکاح نامہ کی بات اٹھتی رہی ہے جس میں طلاق دینے والے مرد کو مہر کا کئی گنا رقم ادا کرنے کا پابند بنایا جائے ۔ لیکن وہ کوئی نکاح نامہ تک پیش نہیں کر سکے ۔انہوں نے مزید کہا کہ مسلم پرسنل لا بورڈ کا قیام مسلمانوں کو آئین ہند میں دیے گئے مذہبی حقوق جیسے کہ حق وراثت، شادی بیاہ، طلاق او رنان ونفقہ کے تحفظ اور ان امور میں حکومت کی بیجا مداخلت کو روکنے کے لیے کیا گیا تھا یا بورڈ نے یہ امور خود اپنے دائرہ کار و دائرہ اختیار میں لے لیے تھے ۔ لیکن کیا وجہ ہے کہ وہ ان امور کا تحفظ نہیں کر پا رہا ہے ۔[؟]در اصل بورڈ کے ذمہ داران مومنانہ فراست سے عاری ہیں اور زمینی حقائق اور ملک کی بدلتی ہوئی سیاسی و سماجی صورت حال اور اس کے مضر اثرات کو پڑھنے اور سمجھنے کی صلاحیت سے بیگانہ ہیں۔ یا پھر وہ دانستہ طور پر اسے سمجھنے سے اجتناب کر رہے ہیں۔[؟]شاہی امام نے کہا کہ طلاق کے پورے معاملے پر ایک جامع فقہی بحث کی ضرورت تھی۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا حنفی مسلک ہی اسلامی فقہ کی آخری تشریح ہے ؟ اور کیا طلاق کے حوالے سے دیگر مسالک کا موقف غیر اسلامی ہے ؟ یہ حق مسلمانوں کو کیوں نہیں دیا گیا کہ وہ طلاق کے سلسلے میں قرآنی احکامات و ہدایات پر عمل کریں؟ مولانا بخاری نے الزام لگایا کہ پرسنل لا بورڈ کے ذمہ داروں نے مسلمانوں کو دیوبندی، بریلوی، سنی، وہابی، شیعہ اور اہلحدیث بنا کر چھوڑ دیا ہے اور پوری ملت کو ایک تماشہ بنا دیا۔ انہوں نے دعوی کیا کہ مسلم دشمن طاقتیں مسلم معاشرے کے سب سے مضبوط اور بنیادی ادارے یعنی خاندانی نظام کو منتشر کرنے کے درپے ہیں اور مسلم مر د و زن کے درمیان شکوک و شبہات اور بد اعتمادی کی دیوار کھڑی کرنے کی سازشوں میں مصروف ہیں۔ اگر یہ طاقتیں اس میں کامیاب ہو گئیں تو مسلمانوں کا عائلی اور خاندانی نظام مکمل طور پر تباہ و برباد ہو جائے گا۔امام بخاری نے راجیہ سبھا میں طلاق ثلاثہ بل کی منظوری پر سیکولرسیاسی جماعتوں کو بھی آڑے ہاتھوں لیا اور کہا کہ آج کوئی بھی سیاسی جماعت مسلمانوں کا ہمدرد اور سیکولرہونے کا دعویٰ نہیں کرسکتی۔ انکے ماضی اور حال کے رویے اورمسلم مخالف اقدامات نے یہ ثابت کردیاہے کہ ان کو صرف مسلمانوں کا ووٹ چاہئے ۔یو این آئی