تازہ ترین

جوانانِ کشمیر

مسابقت کی دوڑمیں پیچھے کیوں؟

1 اگست 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

فدا حسین بالہامی
کائنات  کی ہر شئے کو مسخر کرنا انسان کی ازلی اور فطری خواہش رہی ہے۔ اس خواہش نے انسان اور مظاہر فطرت کے مابین ایک خفیف سی کشمکش کو جنم دیا ہے۔ یہ کشمکش ابتدائے آفرینش سے لے کر آج تک چلی آرہی ہے۔ حقیقت یہی ہے کہ اپنی بے پناہ ذہنی صلاحیتوںکی بدولت انسان نے کائنات کی دیگر مخلوقات پر اپنی برتری کو ثابت کیا ہے۔ انسانی فطرت اسی منزل پر اطمنان کی سانس نہیں لیتی کہ ’’بزمِ انجم میں اس بات کے چرچے ہیںکہ یہ ٹوٹا ہوا تارہ مہِ کامل بن گیا ہے‘‘۔ بقول غالبؔ دریاو سمندر اس کے سامنے ریت پر اپنی جبین گھستے ہیں اور صحرا اس کی جلالت کے آگے اپنے آپ کو ہیچ جان کر پردہ ٔگرد میں چھپا دیتا ہے‘‘ بلکہ چند قدم آگے بڑھ کر انسان کو اس بات کیلئے بھی اُکساتی ہے کہ وہ ذاتی طور اپنے جیسے انسانوں پر بھی اپنی فوقیت ظاہر کردے۔ چنانچہ یہ خواہش ہر انسان میں پائی جاتی ہے۔ لہٰذا ابن آدم میں مسابقت کافطری جذبہ قائم ودائم رہا۔ اسلامی روایت کے مطابق اولین مسابقہ ملائکہ اور آدم کے مابین ہوا جس میں اشرف المخلوق نے میدان مار لیا، اس کے بعد خود خالق دوجہاں کے اہتمام سے فرزندانِ آدم ہابیل اور قابیل آمنے سامنے ہوئے۔ خداوند تعالیٰ کا خود مسابقت کا اہتمام کرنا دراصل بنی نوع انسان کو یہ باور کراتا ہے کہ تقابل سے ہی فرد کی ذاتی قابلیت نکھر کر سامنے آتی ہے اور پھراجتماعی سطح پر ترقی کا باعث بنتی ہے۔
دور حاضر میں زندگی کا کوئی ایسا شعبہ نہیں ہے جس میں مقابلہ آرائی کا طمطراق نہ دیکھا جاتا ہو۔ جس شخص کو بھی اپنی شخصیت و قابلیت کا لوہا منوانا ہو اُس کو مسابقت کے مختلف مراحل سے بہر حال گزرنا پڑے گا۔ ظاہر ہے کہ ہم بھی اس صورتِ حال سے مستثنیٰ نہیں ہیں، لہٰذا ہمارے لئے لازم ہے کہ ہم بھی مسابقت کی دوڑ کیلئے اپنے آپ کو آمادہ اور تیار کرلیں۔ اگر ہم اقوام عالم میں اپنی بزرگی و برتری کا سکہ بٹھانا چاہتے ہیں تو ہمیں وقت کے اس تقاضے اور زمانے کی ضرورت کو سنجیدگی سے قبول کرنا ہوگا کہ دوسروں کو پچھاڑے بغیر آج کی تاریخ میں آگے بڑھنا ممکن ہی نہیں ہے۔ مسابقت کے جذبے سے لیس ستاروں پر کمند ڈالنے کے حوالے سے ہمارا ساراانحصار نوجوانوں پر ہے،مگر ہمارے نوجوان مسابقت کی دوڑ میںوہ امتیازی مقام حاصل کرنے میں اب تک ناکام رہے ہیں جس کے وہ واقعتاً مستحق ہیں۔اس باب میںیہاں پر جو چند ایک اہم سوالات ذہن میں پیدا ہوتے ہیں ، وہ یہ ہیں کہ کیا ان میں وہ امتیازی صلاحیتیں موجود نہیں ہیں کہ جو مسابقت کی دوڑ میں توانائی کا منبع ہوتی ہیں؟کیا ان میں دنیا کے دیگر ممالک یا ریاست کے دیگر خطوں کے نوجوانوں کی طرح محنت و مشقت کرنے کا مادہ ناپید ہے ؟کیا ہمارے یہاں ایسے نظام یا ماحول کا فقدان ہے کہ جس میں صلاحیتیں فطری انداز میں پروان چڑھتی ہیں اور محنتیں رنگ لاتی ہیں؟ یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ سرزمین کشمیر انسانی وسائل کے حوالے سے کافی زرخیز ہے اور یہاں کی قدرتی خوبصورتی سے مالا مال جغرافیائی ہیت ،بود و باش کے لئے معتدل آب وہوا،اور یہاں کی علم پرور تہذیب و ثقافت ، سب سے بڑھ بے پناہ صلاحیتوں سے مزین انسانی اذہان چرب دست وتردماغ کشمیری قوم کے امتیازات کے عکاس ہیں۔تخلیقی شعور تو اہالیانِ کشمیر کے گھٹی میں خاص طور سے خالق کائنات نے رکھا ہے۔المختصر بطنِ کشمیر سے لوگ کورچشم، غبی ذہن اور ضعیف الارادہ ،کاہل و سست پیدا نہیں ہوتے بلکہ گونا گوں صلاحیتوں سے سرشار ہوکر گلشن ہستی میں بمثل گلہائے رنگا رنگ قدم رکھتے ہیں۔ البتہ ان کی پرورش و پرداخت اور دیکھ ریکھ کا خاطر خواہ انتظام عنقا ہے۔ اس اعتبار سے ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہمارے نوجوانوں میں پیدائشی طور کسی چیز کی کوئی کمی نہیں ہے اور نہ محنت و مشقت کے اعتبار سے کسی سے پیچھے ہیں لیکن مناسب ذرائع اور موزوں وسائل کے فقدان کی وجہ سے ہمارے باطنی خزینے خاکی جسم میں چھپے چھپے اور دبے دبے رہتے ہیں اور بالآخر خاک میں خاک ہوجاتے ہیں۔بقول غالبؔ   ؎
سب کہاں کچھ لالہ و گُل میں نمایاں ہوگئیں 
خاک میں، کیا صورتیں ہوں گی جو پنہاں ہوگئیں
مروجہ نظام کی خرابیوں کا شمار کیا جائے تو بے ساختہ یہ ضرب المثل زبان پر آجاتی ہے کہ اونٹ رے اونٹ تیری کون سی کل سیدھی ۔ فرد کی ذاتی استعداد ایک بہترین اجتماعی نظام میں پھلتی پھولتی ہے۔ اجتماعی نظام مختلف نقائض کا مجموعہ ہوتو فردی استعداد کو ابھارنے کے بجائے دبانے کا عمل انجام دیتا ہے۔ ہمارے شاہین صفت نوجوان سیرافلاک کی قدرت تو رکھتے ہیں مگر یہ فرسودہ سسٹم کے محدود پنجرے میں محصور ومقید ہیں۔ غیر معمولی ذہانت کے مالک نہ جانے کتنے نوجوان غالب ؔکے اس شعر کے مصداق ہیں   ؎
ہر چند کہ ہوں طوطیٔ شیریں سخن، ولے
آئینہ آہ! میرے مقابل نہیں رہا
اس سرزمین مردم خیز پر ابھی تک ایسا کوئی نظام متعارف نہیں ہوا ہے جس میں مردم شناسی کے وسائل موجود ہوں۔ سادہ الفاظ میں ہم یوں کہہ سکتے ہیں کہ مختلف صلاحیتوں سے مالا مال نوجوانوں کی مخصوص استعداد کی جانچ کا ہمارے یہاں کوئی انتظام نہیں ہے۔ ترقی یافتہ ممالک اورمائل بہ ارتقاء ریاستوں میں کسی ایک نوجوان کی مخصوص صلاحیت کی نشاندہی کیلئے خاص الخاص طریقہ کار اپنا یا جاتا ہے اور بروقت صحیح مشاورت  (Counselling Proper)کے ذریعے اس کی ایک خاص ذہنی صلاحیت اور اُفتاد ِ مزاج کے مطابق بطور طالب علم کسی مخصوص شعبہ کو اختیار کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ اس طریقہ کار کی کمی کی وجہ سے دیکھا گیا ہے کہ یہاں کے نوجوان بالعموم کوئی ایسا تعلیمی وتدریسی شعبہ چن کرلیتے ہیں جو یا تو ان کی قابلیت و اہلیت سے مطابقت نہیں رکھتا،یا تو ان کا فطری رجحان اس شعبے کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتا ہے۔ نتیجتاً ہمارے نوجوان منزل پر پہنچنے سے پہلے ہی تھک ہار کر بیٹھ جاتے ہیںاور انتخاب کے مرحلے میں ان کے پاس اندھی تقلید کے سوا اور کوئی دوسرا چارۂ کار نہیں ہوتا ہے۔ اکثر و بیشتر طالب ِ علم یہ دیکھتے ہیں کہ کس موضوع subject)) کا چلن ہے تو وہ بھی لنگوٹھی کس کے اسی میدان میں کود پڑتے ہیں۔نتیجتاً چند ایک علمی شعبوں میں حد سے زیادہ بیڑھ باڑھ دیکھنے کو ملتی ہے جب اس طرح کا ماحول تیار ہوتا ہے تو ہر شخص دوسروں کے نقوش قدم دیکھ کر ہی قدم اٹھاتا ہے۔ بجائے اس کے وہ ایسی راہ پر چل کر دوسروں کے لئے نقوشِ راہ چھوڑے جس پر چلنے والوں کی بھیڑ نہ ہو۔
مسابقت میں معلومات کے ساتھ ساتھ فرد کی نفسیات کا قوی ہونا بھی کامیابی کا ایک لازمی عامل ہے ۔ بعض اوقات مسابقتوں میں نوجوان اعصابی کمزوری سے بھی ناکامی کا شکار ہوجاتے ہیں،جس کی بنیادی وجہ بچپن سے مسابقتوں میں شرکت کرنے سے محرومی ہوتی ہے۔ اگر کم عمری سے ہی ایک بچے کو مختلف مسابقتوں (Competitions )میں حصہ لینے کا موقع فراہم کیا جائے، تو وہ ہرگز کسی بھی تقابلی امتحان میں اعصابی دباؤ کا شکار نہیں ہوگابلکہ اس کے لئے مسابقتی امتحانات میں بیٹھنا ایک معمول بن جائے گا۔کیا ابتدائی سے لے ثانوی تعلیمی نظام میں اس طرح کے ماحول فراہم کرنے کا کوئی تصور یا پلان ہے؟
ہمارے بیشتر تعلیمی ادارے اس حوالے سے بالکل کورے ہیں۔ ان میں روایتی اور سالانہ امتحانات کے سوا بچوں کو دیگر صلاحیتیوں کی آزمائش نہیں ہوتی ہے۔ اب راتوں رات ہمارے نوجوان کیونکر ایک بڑی آزمائش کیلئے ذہنی اور علمی لحاظ سے تیار ہوں؟ چند پرائیویٹ اور سرکاری اداروں کو چھوڑ کر تمام تعلیمی ادارے اُ س تدریسی معیار سے کافی دور ہیں جو طالب علموں کو اعلیٰ معیار کے تقابلی امتحانات  (Exams  Competitive  ) کے اہل بنادیتا۔اس لئے یہ کہنا بجا ہوگا کہ کشمیر میں باقی ریاستوں کی بہ نسبت مسابقت کا ماحول (Culture  Competitive  )پوری طرح پروان نہیں چڑھا ہے۔ ملکی سطح پر ہونے والے UPSCاور ریاستی سطح پر ہونے والے  KAS ،,NEETوغیرہ جیسے امتحانات میں کشمیری نوجوانوں کی شرکت آبادی کے تناسب سے آٹے میں نمک کے برابر ہوتی ہے۔ عالمی سطح پر اس وقت جو مختلف علمی اور تکنیکی شعبوں میں جو نت نئے جلوے منظر عام پر آرہے ہیں، ان میںخطۂ کشمیر ہی نہیں بلکہ ریاست جموں کشمیر بھی کسی شمار و قطار ہی میں نہیں ہے۔مثال کے طور پر جو سائنس اور ٹکنالوجی کے میدان میں عالمی سطح پر جو مسابقت کی دوڑ لگی ہے۔ اس میں فی الحال ہماری نمائندگی کے امکانات دور دور تک دکھائی نہیں دیتے ہیں، کیونکہ بنیادی سطح پریہاں کو بچوں اور نوجوانوں وہ سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں جوسائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں اپنے جوہر آزمانے میں معاون ثابت ہوتیں۔چنانچہ یہ سہولیات ترقی یافتہ ممالک کے طالب علموں کو ہر سطح پر دستیاب ہیں۔ ہمارے یہاں سے جن معدودے چند طلباء کو ترقی یافتہ ممالک میں اعلیٰ سطحی تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملا انہوں نے یقیناً وہاں پر اپنی ذہانت و محنت کا لوہا منوا ہی لیا۔
قریباً تین دہائیوں پر محیط نامساعد حالات سے نئی پود متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ پائی بلکہ سب سے زیادہ یہی طبقہ غیر یقینی صورت حال کی بھینٹ چڑھ گیا۔ ان کی نگاہِ شعور جو دیکھنے بھالنے کے لائق ہوئی تو سامنے ماردھاڑ اور پکڑ دھکڑ کے مناظر تھے۔قتل و غارت کے مہیب سائے ان کے ذہن و دل کی چمک کو جیسے کھاگئے۔ کچھ تو براہِ راست ان حالات کے شکار ہوئے اور کچھ بلواسطہ طور اثر انداز ہوئے۔ تعلیم و تعلم کے معیار کو بھی کافی دھچکا لگا۔ اسکول خاکستر ہوئے۔ہڑتالوں نے اکثر و بیشتر طلباء کو اسکول میں کم اور گھر پر زیادہ وقت گزارنے پر مجبور کیا جو عمارتیں ننھے منے وردی پوش بچوں کیلئے وقف تھیں۔ ان میں ہتھیار بند وردی پوشوں نے ڈھیرا ڈالا۔ اُن کی آنکھوں میں وہ ہیبت ناک اور غم انگیز مناظرمرتسم ہوئے جو ذہنی سکون و اطمینان چھین لینے کیلئے کافی تھے۔ غیر یقینی صورت حال نے ان کی خود اعتمادی کو لتاڑا۔ نتیجتاً نئی پود نے جب کچھ کرگزرنے کی منزل میں قدم رکھا تو گوناگوں دیوقامت مسائل منہ پھاڑے کھڑے تھے۔ مسائل کے اُلجھاؤ سے نوجوان طبقہ اعلیٰ مقاصد کی حصول یابی کی منصوبہ بندی نہ کرسکا۔ ان مسائل میں سے روزگار کا مسئلہ سرفہرست ہے۔ روزگار کے محدود مسائل نے کشمیری نوجوانوں کو قناعت پسندی کی چادر اوڑھنے پر مجبور کیا ہے۔ مفلوج پرائیوٹ سیکٹر روزگار کے متعلق ہمارے طلباء کوہنوز وہ اطمینان فراہم نہیں کر پایا جو دیگر ریاستوں میں پرائیویٹ سیکٹر کا خاصہ ہے۔ یہی وجہ ہے تعلیم یافتہ نوجوانوں کی جدوجہد کا مدعاو مقصد ایک عدد سرکاری  قرار پاتا ہے، جس نوجوان کو روزی روٹی کا مستقل کھٹکالگا ہو۔ وہ اعلیٰ اور معیاری مسابقوں میں اپنی ذہانت کے جوہر دکھانے پر تیار ہوگا تو کیسے؟ یہ ایک ایسی مجبوری ہے جس پر علامہ اقبال کا یہ شعر نقل کرنا موزوں لگتا ہے     ؎
اے طائر لاہوتی اْس رزق سے موت اچھی
جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتا ہی
ظاہر ہے کہ اونچی اُڑان بھرنے کے لئے توانائی کاوافر ذخیرہ موجود ہونا چاہیے۔ نوجوانوں کی اکثریت اُسی صورت میں اپنے قیمتی ماہ و سال مسابقت کے لئے وقف کرتی۔ جب اُنہیں ناکامی کی صورت میں بھی روزگار کے دیگر مواقع فراہم ہوتے۔ ہمارے یہاں باصلاحیت نوجوانوں کی اکثریت اُس طبقے سے تعلق رکھتی ہے جو کسی نہ کسی طور معاشی بدحالی کی ماری ہے۔ یہ طبقہ اس پوزیشن میں نہیں ہے کہ ملک کے بڑے اور معروف اداروںمیں کوچنگ سے مستفید ہوسکے۔ علاوہ ازیں معاشی بدحالی اس طبقے سے تعلق رکھنے والے جوانوں کو اتنی فرصت نہیں دیتی کہ وہ دو تین سال تک غم روزگار سے بے فکر ہوکر خود کو اعلیٰ تقابلی امتحانات کے لئے تیار کرلیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ نسبتاً کم آمدن روزگار پر ہی اکتفا کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔علاوہ ازیں کشمیر کا جغرافیائی محل وقوع بھی ایک ایسی رُکاوٹ ہے کہ جسے کشمیر ی نوجوان کا دیگر ریاستوں سے رابطہ بہت حد تک کمزور اور ناکافی ہے۔ چنانچہ فی الوقت دو ہی شاہراہیں کشمیر کو دیگر دریاستوں سے ملاتی ہیںجن میں سے ایک یعنی مغل شاہراہ قریباً پانچ ماہ تک بند پڑی رہتی ہے اور دوسری شاہراہ یعنی سرینگر جموں قومی شاہراہ بھی وقتاً فوقتاً مختلف وجوہات کی بنا پر مسدود ہوتی ہے۔دوسری جانب جب بھی کبھی قومی شاہراہ بند ہو جاتی ہے تو ہوائی سفر کا خرچہ بھی آسمان کو چھونے لگتا ہے،جس کا برداشت کر پانا ایک بے روزگار نوجواں کے بس سے کوسوں دور ہوتا ہے اور یوں طلباء کی آمد و رفت بہت زیادہ دشوار ہو جاتی ہے۔بالفاظِ دیگر ان قسمت کے ماروں کے لئے نہ پائے رفتن نہ جائے ماندن والا معاملہ در پیش ہے۔
بیان کردہ حقائق انتظامیہ کی جانب سے بھی اس حوالے سے کسی خاص دلچسپی کا اظہار نہیں ہوا۔ آج تک اگر ایسے موثر اقدام اُٹھائے گئے ہوتے کہ باصلاحیت ، ہونہار اور مستحق نوجوان کی تربیت کا انتظام ریاستی حکومت کے ذریعے ملک کے مشہور و معروف سرکاری و غیر سرکاری اداروں میں ہوتا تو صورتِ حال دیگر ہوتی۔اگرخواہش مند اور اہل تعلیم یافتہ نوجوانوں کی ذہنی تربیت کو واقعی پشت پناہی مل جاتی تو ہماری ذہانت کے چرچے ہر محفل میں ہوتے۔ اختتام پر یہ بات قابل ذکر ہے کہ ماحول و مناسب ذراائع نہ ہونے کے باوجود بھی کشمیری نوجوان کو اپنی لگن اور محنت کے بل پر ثابت کرنا ہوگا کہ وہ دنیا کے مخالف سمت تیر کر بھی ساحلِ مراد تک رسائی پاسکتا ہے۔ اْس کو اپنی ناکامیوں سے مایوسی نہیں ہونا چاہیے کیونکہ ناکامیاں، کامیابی کا زینہ ثابت ہوتی ہیں اگر جہدمسلسل فرد کا شعار ہو اور اپنی ہدف کو پانے کیلئے ذوق و شوق سے سرشار ہو۔ صبرواستقامت کی عادت اور نظم و ضبط کی پابندی ہو۔ اپنی قیمتی وقت کا حد درجہ احساس ہو۔ ہمارے نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ اندھی تقلید سے اجتناب کرکے روندے ہوئے راستوںکو ترک کریں اور اپنے جوہر بطنی کی عین مطابق ایک نئی اور اچھوتی راہ کو اختیار کریں۔ اس کے بعد پکے ارادے کے ساتھ یکسوئی سے کام لیں۔ منصوبہ بند طریقہ کار پر عمل پیرا ہوکر منزل مقصود کی جانب گامزن ہو جائیں۔ تو ضرور مسابقت کی دوڑ میں اپنا بلند مقام اور امتیازی شان متعین کریں گے۔ علامہ اقبال نے یہ شعر کہتے وقت خطہ کشمیر کو بھی ہر گز نظر انداز نہیں کیا ہوگا۔ شعوری یا غیر شعوری طور ان کے ذہن میں ہماری سرزمین کا نقشہ بھی رہا ہوگا۔
نہیں اقبالؔ مایوس اپنی کشت ِویراں سے
ذرا سی نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی 
cell; 7006889184
email: fidahussain007@gmail.com