تازہ ترین

ٹرمپ نے ایسا کیوں کہا؟

محشر خیال

31 جولائی 2019 (00 : 12 AM)   
(      )

ریاض مسرور
سبھی  جانتے ہیں امریکی صدر ٹرمپ نے پاکستانی وزیراعظم عمران خان کی موجودگی میں کیا کہا۔ اس ’’کیا‘‘ پر خوب بحث ہوئی۔ بھارتی دفتر خارجہ نے تردید کی، پاکستانی بغلیں بجا رہے ہیں اور کشمیری اندر ہی اندر خوش ہیں۔ ٹرمپ نے کہا کہ وہ کشمیر تنازعہ کو حل کرنے کیلئے ثالثی کیلئے تیار ہیں اور ایسا اُنہیں حال ہی میں وزیراعظم مودی نے بھی کہا تھا۔ یہ سب ’’کیا‘‘ کے زمرے میں آتا ہے۔ لیکن کوئی یہ نہیں کہتا کہ ٹرمپ تو کل تک پاکستان کو نوٹس پر رکھتے تھے اور بھارت کو تذویراتی اتحادی کے طور چین کو ڈراتے تھے، تو آج ایسا کیا بدلا جو انہوں نے کشمیر کو ایک بار عالمی توجہ کا مرکز بناکر پاکستان کو بھارت پر سفارتی جیت کا جشن منانے کا موقع دے دیا۔ یہاں سے سوال ’’کیوں‘‘ پیدا ہوتا ہے۔
ماہرین تو یہاں تک کہتے ہیں ٹرمپ۔عمران ملاقات تاریخی ہے اور یہ ملاقات آئندہ ایام کے دوران یوریشیا میں ہونے والی سیاسی تبدیلیوں کا عنوان لکھے گی۔ظاہر ہے ٹرمپ افغانستان سے باعزت انخلا چاہتا ہے اور اس کے لئے وہ پاکستان کی  اہمیت بھانپ چکا ہے۔ شائد ایران کی چابہار بندرگاہ پر امریکی پابندیاں اسی نئی سوچ کی عکاس ہیں۔ اور پھر صدر ٹرمپ نے پاکستان کا معاشی مقاطعہ کرنے کی بجائے امریکیوں سے کہہ ڈالا کہ پاکستان میں (یعنی سی پیک میں) سرمایہ کاری کرکے پاکستان کی معیشت کو فروغ دینے میں کردار نبھائیں۔بلوچستان لبریشن آرمی کو پہلے ہی دہشت گرد تنظیم قرار دیا جاچکا ہے۔ اب تو رُوس بھی مشرق وسطیٰ کے ساتھ ساتھ جنوب ایشیائی پاور گیم میں کردار نبھانے لگا ہے۔ روس کو بھارت کی طرف سے تجارتی رعایات اور بڑے دفاعی سودوں کی پیشکش پر بھی امریکہ بھارت سے دل ہی دل میں ناراض ہے۔
امریکہ کئی سال سے بھارت کو قائل کرنے کی کوشش کرتا رہا کہ رُوس سے S-400میزائل نظام خریدنے کی بجائے وہ امریکہ کا THAADنظام خریدے، لیکن بھارت کے تذویراتی مفکرین نے حکومت کو مشور دیا کہ چین کو دبائے رکھنے کیلئے امریکہ کو بھارت کی ضرورت ہے، لہذا رُوس کو ناراض نہ کیا جائے۔ مگر اب یہ باتیں ہورہی ہیں کہ امریکہ بھارت کو چین کے مقابلے ایک جونئیر پارٹنر کے طور اور پاکستان کو ایک تذویراتی اتحادی کے طور دیکھنے لگا ہے۔پاکستان کے بیچ میں آجانے سے بھارت تذبذب کا شکار ہے۔ وہ روس اور چین کو ناراض کرکے امریکی آشیرواد کا متحل ہوگا، یا پھر امریکہ کو چھوڑ کر چین اور روس کے ساتھ کھڑا ہوجائیگا، لیکن دونوں صورتوں میں پاکستان کا بارگین حاوی رہے گا۔اور بھارت عالمی رشتوں کی Readjustmentمیں جو بھی آپشن قبول کرے نتیجہ پاکستان کے حق میں ہی ہوگا۔
کشمیر میں جیسے بھی حالات ہوں، کشمیر کو اپنی قومی سیاست کی شہہ رگ بنا کر بھارت نے بہت بڑا جوا کھیلا ہے۔ کیونکہ اب عالمی طاقتیں بھارت کو Containکرنے کے لئے کشمیر کارڈ کھیلیں گی، اور اسی طفیل کشمیر ایک بار پھر عالمی ایجنڈا پر ہے۔
بحث یہ نہیںکہ ٹرمپ جھوٹ بول رہے ہیں کہ مودی نے کشمیر پر ثالثی کی التجا کی، یا مودی اپنے کہے سے بھاگ رہے ہیں۔ بحث یہ ہے کہ کشمیر کو خالص اندرونی مسلہ سمجھ کر اسے حل کرنے کی لاکھ کوشش کی جائے، اس مسلے کا خارجی پہلو بار بار سر اُبھارتا رہے گا۔ارضیاتی سیاست میں یہ برق رفتار تبدیلی ایسے وقت رونما ہوئی ہے جب نئی دلی نے کشمیر میںحریفوں کے ساتھ ساتھ اپنے دیرینہ وفاداروں کو بھی پشت بہ دیوار کردیا ہے۔ اور پھر یہ نئی بات نہیں کہ بھارت کشمیر میں امریکی دلچسپی کے حوالے سے حساس ہے۔ شیخ محمد عبداللہ کی معزولی اُن کے امریکیوں کے ساتھ روابط کی پاداش میں ہی تو عمل میں لائی گئی۔ اُن پر جو سازش کیس چلا اُس کا لب لباب ہی یہ تھا کہ وہ امریکہ کی اعانت سے کشمیر کو آزاد کرانا چاہتے ہیں۔ پھر اُس کا سدباب یہ کیا گیا کہ یہاں کی سیاست بدلی گئی، نئے چہرے سامنے لائے گئے، بخشی دور میں مڈل کلاس کو بنایا گیا، نئے وفاداروں کا ٹولا سامنے لایا گیا۔ ہوا کیا؟وہ سب لوگ سمندر کے ساحل پر جمے جھاگ کی طرح ہوا ہوگئے۔کشمیر کی سیاست کو فساد کی جڑ سمجھنا دلی کے پالیسی سازوں کی سب سے بڑی غلطی ہوگی۔ سیاست دراصل ایک Bufferہوتا ہے، جسے ختم کیا گیا تو آپ کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھنا اغیار کے لئے آسان ہوجاتا ہے۔ 
کشمیرمیں ملی ٹینسی کو ختم کیا جاسکتا ہے، علیحدگی پسندوں کو کنارے کیا جاسکتا ہے، اقتدار پسند سیاستدانوں کو بے عزت کرکے حاشیہ پر دھکیلا جاسکتا ہے، لیکن آپ کشمیر کی اُس جغرافیائی اہمیت کا کیا کریں گے، جس کی وجہ سے آج دنیا کے واحد سپر پاور امریکہ کا صدر پوری دنیا کے سامنے کہتا ہے کہ کشمیر ایک تنازعہ ہے اور ہم اسے حل کرنے آرہے ہیں۔ کیا آپ اُس گھڑی کا انتظار کریں گے، یا خود کوئی پیش رفت کریں گے۔ وزیردفاع راجناتھ سنگھ کہہ چکے ہیں کہ بہت جلد حل کریں گے، لیکن اب مسلہ صرف یہ نہیں کہ وہ حل کشمیریوں کو تسلیم ہے یا نہیں، مسلہ یہ بھی ہے کہ کیا عالمی طاقتیں آپ کے حل کو حل تسلیم کریں گی؟
’’ ہفت روز ہ نوائے جہلم سرینگر‘‘