تازہ ترین

وہ اُجالے یہ اندھیرے

چلتے چلتے

31 جولائی 2019 (00 : 12 AM)   
(      )

شہزادہ بسمل
دو  قومی نظریہ سب سے پہلے آرایس ایس کے بانی ویرؔ ساورکرنے پیش کیا تھا۔ اُسی نظرئیے کی موجودگی میں جب گاندھی جی نے مسلمانوں کے حق میں ذرا سی لب کشائی کی تو ویرساورکر کے ایک بھگت نے برسرعام مہاتماگاندھی کی ہتیا کی اور بعد میں عدالت کے کٹہرے میں جج کے سامنے بڑے دھڑلے سے کہاکہ اُسے اس قتل پر کوئی شرمندگی یا تأسف نہیں ہے ۔ اُس نظرئیے کو پھر کن لوگوں سے استقامت اور حوصلہ ملا، اس سے قطع نظر انگریز نے اُس تجویز کا بھرپور فائدہ اٹھایا اور ملک کا غیر منصفانہ بٹوارہ کرکے دوملکوں اوردوقوموں کے درمیان ایک ایسی دراڑ ڈال دی جوشایدکبھی پاٹی نہیں جاسکے گی ۔حق تو یہ ہے کہ یہ دراڑپاٹی جاسکتی تھی مگر جومتعصب اور فرقہ پرست جماعتیں ہندوستان کو ایک ’’ہندوراشٹر‘‘ میں تبدیل کرنے کی خواہاں ہیں ،وہ ایسا ہرگز نہیں ہونے دیں گی کیونکہ اس طرح سے دو لوگوں کے آپس میں مل کر شیر وشکر ہونے جانے کی سنبھواناہے جو وہ کبھی برداشت نہیں کرسکتے کیونکہ مسلمان اُن کے لئے ایک نہایت ہی قابل نفریں شئے ہو نا ان کا اصل زر توہے ہی جس کے سود کی صورت میں ان کو اپنا گھنا ؤناسیا سی کھیل کھیلنے کا موقع بھی ملتا ہے ۔
بٹوار ے سے قبل غیر منقسم ہندوستان میں انگریزوں کی مرکزی حکومت کے علاوہ تین سو سے زیادہ چھوٹے چھوٹے راجواڑے تھے جن پر راجے ، مہارجے اور نوابین حکومت کیاکرتے تھے ،مگر سبھی حکومتوں کی نکیل انگریز کے ہاتھ میں ہوتی تھی بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ وہ ہی بادشاہ ساز (King Maker) تھے تو بات زیادہ مناسب نظر آتی ہے۔ اُن راجائوں ، مہاراجائوں اور نوابوں میں کئی ایک مسلمان بھی تھے۔ انہی میں سے ریاست بھوپال میں نواب سلطان جہاں بیگم بھی ایک سربراہ مملکت تھیں ۔ یہ سطور اُسی ریاست سے متعلق ہیں۔ 
بیسویں صدی کی ابتدائی تین دہائیوں تک نواب سلطان جہاں بیگم ریاست بھوپال کے تخت وتاج کو پس پردہ رہ کر زینت بخشتی رہیں۔ اُن کے حسنِ نظامت کے بارے میں مولانا سیّدسلیمان ندوی صاحب فرماتے ہیں :
’’نواب سلطان بیگم جہاں کی ہستی میں رعب وداب اور شفقت کی عجیب آمیزش تھی ۔ اُن کا اخلاق اور اُن کی عادتیں نہایت پُرکشش تھیں ۔اُن کا دربار حد درجہ سادہ ہوتا تھا ۔ دربارکے آداب بھی تمام تر شرعی تھے۔ وہ خود پردے کے پیچھے تشریف رکھتی تھیں ۔ کورنش تسلیمات اور رکوع وسجود کاوہاں کوئی عمل دخل نہ تھا۔ سب سے پہلے ’’اسلام علیکم‘‘ کی بلند آواز اُن کی طرف سے ہی آتی تھی ‘‘۔
نواب سلطانؔ جہاں بیگم کے تین بیٹے تھے ۔ بڑے صاحبزادے کا نام پرنس نصر اللہ خان تھا جو ریاست کے ولی عہد بھی تھے ۔شومئی قسمت وہ عنفوانِ شباب میں ہی اللہ کو پیارے ہوگئے ۔ اُن کے بعد دوسرے نمبر پر کرنل حافظ عبداللہ خان تھے اور سب سے چھوٹے پرنس حمید اللہ خان تھے جن کی پیدائش سن 1892ء میں ہوئی اور بڑے بھائی کے فوت ہوجانے کے بعد وہی ریاست کے ولی عہد قرار پائے ۔ اُدھر محمڈن اینگلو اورینٹل کالج علی گڑھ (بعد ازاں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی )کی سربراہی اور انتظامی امور نواب وقارالملک کے ہاتھوں میں تھی اور ریاست بھوپال شروع سے ہی مسلمانانِ ہند کی اس عظیم درسگاہ کی ہر موقع پر امداد ومعاونت کرتی چلی آرہی تھی مگر اس داد ودہش کا دائرہ وسیع تر کرنے اور علی گڑھ کالج کے ساتھ ریاست بھوپال کے تعلقات خصوصی طور پر استوار کرنے کے لئے نواب وقارالملک نے نواب سلطان جہاں بیگم کو اس بات پر راضی کرلیا کہ وہ اپنے بیٹے پرنس حمید اللہ خان کومحمڈن اینگلو اورینٹل کالج میں داخلہ کرائیں ۔پرنس کالج میں داخل ہوگئے اور انگریزی دور حکومت میں غالباً یہ پہلی مثال تھی کہ ایک ریاست کا شہزادہ اور ولی عہد عام طلباء کے شانہ بشانہ ایک عوامی درسگاہ میں تعلیم حاصل کرنے نکلا۔
پرنس حمید اللہ خان بلاشبہ ہندوستان کی ایک بڑی مسلمان ریاست کے شہزادے اور ولی ٔ عہد تھے لیکن جہاں تک اُن کے رہن سہن ، رکھ رکھائو ، میل ملاپ کا تعلق تھا ،اُن میں اور علی گڑھ کے عام طالب علم میں کوئی خاص فرق نہیں تھا۔ اپنی شہزادگی پر فخر یا نمائشی غرور و تکبر اُن میں نام کو بھی نہ تھا۔ گو کہ اُن کی والدہ بیگم صاحبہ نے اُن کی رہائش کا انتظام کالج سے باہر ایک علیحدہ بنگلے میں کیا ہوا تھا لیکن شہزادہ حمیداللہ اپنے وقت کا بیشتر حصہ سرسیّدکورٹ کے کمرہ نمبر33میں گزارا کرتے تھے، جہاں اُس زمانے کے مشہور طلباء جیسے چودھری خلیق الزماں ،حکیم احمد شجاع ،جناب شعیب قریشی اور مسٹرحسن محمد حیات( لارڈ حیات)وغیرہ کا جھمگٹا رہتا تھا۔ پرنس حمید اللہ خان ذہین وفطین طالب علم ہونے کے علاوہ کالج کرکٹ ٹیم کے کپتان بھی تھے ،جو اُس زمانے می ایک بڑا اعزاز خیال کیا جاتا تھا۔ کرکٹ کے علاوہ انہیں ہاکی اور ٹینس کے ساتھ بھی دلچسپی تھی مگر پولوؔ کے وہ خاص طور پر بہترین کھلاڑی مانے جاتے تھے ۔
سن 1911ء میں اٹلی کی فوجوں نے طرابلس جو اُن دنوں ترک مقبوضات میں شامل تھا، پر اچانک حملہ کیا۔ طرابلس میں مقیم فوجوں نے گرچہ بڑی بے جگری کے ساتھ مقابلہ کیا مگر دشمن کی بھاری کثرت کے سامنے خونِ مسلم ارزانی کے ساتھ طرابلس کی سرزمین کو لالہ زار بنا گئی ۔اس موقعہ پر ترکیؔ نے اٹلی کی فوجوں کا مقابلہ کرنے کے لئے کمک مصر کے راستے گزار کر بھیجنا چاہی تو برطانیہ نے اُس کی کھلم کھلا مخالفت کی کیونکہ دشمن اسلام ہونے کے ناطے وہ مسلمانوں کو کٹتے مرتے ہی دیکھنا پسند کرتے تھے ۔اس مخالفت کی گونج ہندوستان میں بھی گونجی جس سے مسلمانانِ ہند میں شدید بے چینی پھیل گئی ۔چنانچہ محمد علی جوہر ؔکے اخبار’’ کامریڈ‘‘ ،مولانا ظفرعلی خان کے’’ زمیندار‘‘ اور مولانا ابوالکلام آزاد کے ’’الہلال ‘‘نے بڑی دلیری او ربے باکی کے ساتھ برطانیہ کی مسلم کش پالیسی کو بے نقاب کرنے میں ایک اہم رول اداکیا۔ اس مخاصمت کی وجہ سے ’’کامریڈ ‘‘اخبار کی رجسٹریشن منسو خ کر دی گئی ۔لاہور میں انگریز کی اسلام دشمنی کا پردہ چاک کرنے کے لئے شاہی مسجد میں ایک بڑا جلسہ ہواجہاں نوجوان ڈاکٹرسرمحمد اقبال نے اپنی مشہور نظم ’’حضورِ رسالت مآبؐ میں ‘‘ پڑھ کر زندہ دلانِ پنجاب کو خون کے آنسو رُلایا۔اس بات کا علی گڑھ کے مسلم طلباء نے بھی سنجیدہ نوٹس لے کر کھلم کھلا برطانیہ کی پالیسی کے خلاف غم وغصّے کا اظہار کیا۔ اُس پُرجوش احتجاج میں پرنس حمید اللہ خان پیش پیش تھے حالانکہ خود وہ بڑی نازک پوزیشن میں تھے جس سے وہ بخوبی واقف تھے ۔ وہ علی گڑھ کالج کے ایک مسلمان طالب علم ہونے کے علاوہ ایک ایسی ریاست کے بھی ولی عہد تھے جس کے سر پر بلاشبہ انگریز کا منحوس سایہ محیط تھا ۔
.......................
رابطہ:- پوسٹ باکس :691جی پی او سرینگر -190001،کشمیر
 موبائل نمبر:-9419475995