تازہ ترین

غیر معیاری ادویات۔۔۔۔ مریضوں کی کون سنے؟

30 جولائی 2019 (00 : 12 AM)   
(      )

نیو ڈسک
وادی ٔکشمیر میں برسو ں طویل سیاسی غیر یقینیت اور عوامی بے چینی کے سبب ہر شعبہ ?زندگی میں بہت سارے گھمبیر مسائل کا گھنا جنگل اْ گ آیا ہے۔ اس جنگل میں چونکہ آ دم خور درندو ں کی بو دو با ش کا بڑا اہتمام ہے، اس لئے وہ آرام سے زند گی کی ہر قیمتی شئے کو نو چ کھا رہے ہیں بلکہ یہ انسا نیت کے حسین چہرے کو بد نما بنا نے میںکو ئی کسر نہیں چھو ڑتے۔غیر معیاری ادویات کی رسو ائے زما نہ تجا رت اسی سلسلے کی ایک اہم کڑ ی ہے۔ خو د ہی اندازہ کیجئے کہ جو بد قما ش عنا صر دوا کے بدلے لو گو ں کو زہر بیچ رہے ہو ں ، جو پیشہ ٔ طب جیسے عظیم اور مقدس خد مت کو اپنی نفسانیت کی پرستش میں پا ما ل کر نے کا نا قابل معافی جرم کر رہے ہو ںاور جن کی نگا ہ میں انسانی جا نو ں یا انصاف کے قدرو ں کی رتی بھر بھی اہمیت نہ ہو، کیاان کو جنگلی جا نو رو ں میں بھی شما ر کیا جا سکتا ہے ؟ نہیں ، قطعی طور نہیں۔ ستم بالا ئے ستم یہ کہ ایڈ منسٹر یشن کی نا ک کی سیدھ میں یہ زہر یلے سانپ غیر معیا ری  اور بعض معاملات میں نقلی ادویا ت کا کا ربار کر کے انسا نیت کی پیشانی کو داغ دار کر رہے ہیں لیکن کو ئی ان کی رو ک ٹوک نہیں کررہا۔اگر ایڈ منسٹر یشن کی کسی ایک ر گ میں عوامی فلاح و بہبو د کا خیال جاگز یں ہوتا، ساتھ ہی ساتھ اسے احتساب اور جوابدہی کا چابک ہمہ وقت احسا س ِذمہ داری کی پگڈنڈی پر پھو نک پھو نک کر چلنے کی چتا و?نی دے رہا ہو تا تو کو ئی وجہ نہیں کہ ایسی ادویا ت کا دھندا وادیٔ کشمیر میںاتنا پھل پھو ل جا تا۔ چو نکہ یہا ں کئی برس ہا برس سے ناگفتہ بہ حالت کے چلتے سر کاری محکمو ںکے کل پرْزے زیا دہ تر اپنی ہی موج مستی میں مست ومحو رہے ، اس لئے سرکا ری انتظامیہ کا تقدیر ساز شعبہ خدمت خلق اللہ کے تعمیری جذ بے سے لگ بھگ نا آشنا ہے۔ اس سلسلے میں اتنی لا تعدا د مثا لیں گنی جا سکتی ہیں کہ ان کا احاطہ کرنے کے لئے الف لیلیٰ کے ضخیم دفا تر بھی یقیناً کم پڑیں گے۔ ماضی میں حکو متی بد نظمیو ں اور دیگر بڑے بڑ ے اسکنڈلوں سے ریاست عوام کوآگے بچا نے کے لئے وقت کی حکومتوں نے  عوام کو ایک کلین اور کار کشا ایڈ منسٹریشن دینے کا بھر پور بھروسہ دلا یا تھا مگر یہ سب زبا نی جمع خرچ ہی ثابت ہوا۔ یہ ایک کھلی کتاب کی مانند واضح ہے کہ حکومتیں بنانے والوں نے روزگار ، سڑ ک ، پا نی ، بجلی، نا لی کے وعدۂ فردا پر لو گوں سے ووٹ لئے مگر یہ وعدے شاید ایفا ء کر نے کے لئے نہیں بلکہ صرف تو ڑنے کے لئے ووٹروں سے کئے گئے تھے۔ اسی لئے حیران ہو نے کی کو ئی ضرورت نہیںاگر لوگ آج مختلف تکا لیف اور دشواریوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ نقلی ادویا ت کا چلن اسی سلسلے کی ایک کڑ ی ہے۔ چند برس قبل انتظا میہ نے سرینگر میں چند ایک میڈیکل شاپو ں کا بہت ہی عمدہ کریک ڈاؤ ن شروع کیاتھا تاکہ ان کی مضر تو ں اور بے قاعدگیوں کا قلع قمع کیا جا سکے۔ بے شک یہ ایک قابل قدرمہم تھی جس کی ہر جا نب سے پذ یرا ئی ہو ئی تھی ۔ وادی کے مختلف علاقوں میںمیڈ یکل شا پو ں کو غیر معیا ری ، زا ?ید المعیا د،ممنو عہ ادویات کی خر ید وفرو خت اور دوسری کمیو ں کو تا ہیو ں کی پا داش میں سر بمہر کیا گیا تھا۔ عام لو گ متعلقہ حکام سے تو قع کر رہے تھے کہ ڈرگ کنٹرو ل محکمہ آیندہ بھی اسی فر ض شنا سی اور سنجیدگی کا ثبو ت پیش کر کے میڈ یکل ٹر یڈ میں اصلا ح کے اس نا گزیر فرض کی ادایئگی میں کو ئی دقیقہ فرو گذا شت نہیں کر ے گا اور مذ کو رہ محکمہ مر یضو ں کے استحصا ل کے خلا ف مو ثر ڈ ھا ل بنا رہے گااور اس کارروائی کا مثبت نتیجہ بر آمد ہوگا لیکن افسو س جس طر ح اکثرا لا وقات ایسی کا رروایئو ں کی شروعات کر کے انتظا میہ کا سو ڈا واٹر جو ش و جذ بہ بہت جلد ٹھنڈا ہو جا تا ہے ، صرف اْسی کا اعا دہ ہواتھا، بس۔ بہت جلد یہ مہم اپنی موت آپ مرگئی تھی۔ بجائے اس کے کہ بیما رو ں کے حق میں یہ مہم تادیر مفیدثا بت ہو کر میڈیکل لا ئین میں پا ئی جا نے والی بے ضا بطگیو کے خا تمے پر منتج ہو جاتی ،خود یہ مشن ہی دم تو ڑ بیٹھنے سے نقلی ادویا ت  بیچنے والوں کو حوصلہ ملا کہ وہ ناقابل تسخیر ہیں۔ اس وجہ سے اب یہ ناجائز کا روبار پہلے سے زیا دہ پھیل گیا ہے۔موجودہ انتظامیہ اگر اس تعلق سے اپنی عدم کا ر کردگی کا جا ئزہ لینے اور ایک عوام دوستا نہ شبیہ بنا نے میں سنجیدہ ہے تو اسے چا ہیے کہ ترجیحی بنیا دو ں پر متعلقہ حکام کو متحر ک کر کے نقلی ادویات کے خلاف مہم کوازسر نو شرو ع کر کے میڈ یکل شعبے میںمو جو د انسان نما گد ھو ں کاتا راج کر ے۔ اس کا اور با تو ں کے علاوہ یہ نتیجہ نکلے گا کہ میڈ یکل لا ئین کی بیما ریا ں ختم ہو جا ئیں گی جس کا مفید اثر دیگر شعبو ں میں پڑ ے گا اور عوامی خد مت کا بے لو ث جذ بہ ایڈمنسٹریشن میںپروان چڑ ھ سکے گا۔ یہ وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔