تازہ ترین

غزلیات

28 جولائی 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

کُھلے گا امن کا در آر پار اب کے برس 
نکالے گا کوئی رہ شہریار اب کے برس 
 
محبتوں سے ملا خار خار اب کے برس 
ہوئے ہیں اہلِ جفا شرمسار اب کے برس
 
رچائی دست صبا پر ہمیں نے تھی مہندی 
ہوا ہے رنگِ حنا آشکار  اب کے برس 
 
ڈسا ہے  یار نے پچھلے برس مجھے اتنا 
کیا ہے سانپ پہ بھی اعتبار اب کے برس 
 
لطیف آب و ہوا تن بدن کے شہر میں ہے 
رہا یہ موسمِ دل خوشگوار اب کے برس 
 
چلا نہ تھا سرِ صحرائے دل کوئی سایا 
اٹھا ہے دشت میں کوئی غبار اب کے برس 
 
بہار آئی مکرر چمن چمن عادلؔ
گلاب دل کا کِھلا بار بار اب کے برس 
 
اشرف عادل ؔ
کشمیر یونیورسٹی حضرت بل سرینگر 
موبائل نمبر؛9990654031
 
کچھ بھی ہو سبب چاہے اشکوں کی روانی کا
احسان بہت ہے اس بہتے ہوئے پانی کا
 
پھر ہم بھی زمانے کو ہنستے نہ نظر آئے
کیا مول چکایا ہے اک شام سہانی کا
 
آغاز کے بارے میں کچھ رائے ہی مانگی تھی
پر دنیا نے لکھ ڈالا انجام کہانی کا
 
کچھ دور تو چل دیتے تم ساتھ جنازے کے 
کچھ پاس ہی رہ جاتا اک رسم پرانی کا
 
پھولوں سے وہ چہرے تھے بلراج ؔحسینوںکے
وہ دن تھے بہاروں کے، وہ دور جوانی کا
 
بلراجؔ بخشی
۱۳/۳، عید گاہ روڈ ، آدرش کالونی، 
اُدہم پور- ۱۸۲۱۰۱(جموں کشمیر)
موبائل نمبر؛ 09419339303
 
آسماں سر پہ اٹھا، سب کو بتا
عشق کا جشن منا، سب کو بتا
خود  کو  محسوس  کرا  آزادی
کرکے خود کو ہی رہا ، سب کو بتا
پہلے محنت سے بدل دے قسمت
پھر تو قسمت کا لکھا ،سب کو بتا
قید ہے گھر کے کچن میں شہزادی
سن کے برتن کی صدا، سب کو بتا
کون سردار ہے اس لشکر کا
مار پانی میں عصاء، سب کو بتا
دل کی دہلیز پہ سر خم کر دے
آنکھ سے اشک بہا، سب کو بتا
معرکہ ہے حق باطل کا انیسؔ
اب تو تلوار اٹھا، سب کو بتا
 
پرویز انیس
وارث پورہ کامٹی ناگپور (مہاراشٹر)
موبائل; 9049548326
 
 
چلا یوں جانبِ منزل یہ اپنا کارواں یارو
لُٹے اسباب راہوں میں بٹے سب رہ رواں یارو
 
گذشتہ رات ظالم چاند بن کر جگمگایا تھا
گواہی جس کی دیتا ہے سُلگتا آسماں یارو
 
چلی پھر بے کسوں کے تن پہ گولی پارساؤں کی 
ہوا پھرخون میں لت پت کوئی جنت نشاں یارو
 
تڑپتی ماں کے دل سے پوچھ لیتے تو بتا دیتا
لُٹے کن ظالموں کے ہاتھ سے بستے مکاں یارو
 
یہ بیوائیں جو رو رو کر طلب انصاف کرتی ہیں
انہیں پوچھو جلائے کس نے ان کےآشیاں یارو 
 
چناروں کےگھنے سایوں سےجم کرآگ برسےگی
بہاروں نے کئے جو داغِ دل اپنے عیاں یارو
 
بنے گا اب کے موسم پھر ہدف شاید میرا کشمیر
جو چھیڑی پھرسےکوئی جنگ عدو نے درمیاں یارو
 
آفاق دلنوی
دلنہ بارہمولہ کشمیر،موبائل نمبر؛706087267
 
 
قطعات
خوبصورت دل ہے میرا خوبصورت فکر ہے
ہر گھڑی جن میں کہ رہتا اُس خدا کا ذکر ہے
 
بے وفا اِن دلبروں سے کیا محبت میں کروں
جن کا جھوٹا پیار ہے، رگ رگ میں جن کی مکر ہے
 
چھوڑ کر سارا جہاں میں نے ہے جو حاصل کیا
ہے وہ میرا دین و ایماں اور میرا فُقر ہے
 
ذکرِ حق میں دو جہاں کی کامرانی ہے نہاں
جس سے دل پاتا سکوں ہے وہ خدا کاشکر ہے
���
یا تو اے تقدیر سب کو کامرانی کر عطا
نامرادی میں جلانا ہے تو پھر سب کو جلا
 
ورنہ کچھ پائیں مرادیں دوسرے محروم ہوں
یہ کہاں کا عدل ہے اور ہے یہ کیسا فیصلہ
 
بشیر احمد بشیر (ابنِ نشاطؔ) کشتواڑی
موبائل نمبر؛7006606571
 
 
سینے میں محبت پل جاتی
بھولے سے ہی جو وہ پگھل جاتی
آجاتا کبھی بانہوں میں مری
حسرت مرے دل کی نکل جاتی
مل لیتا کبھی وہ مُسکا کے 
بے حال سی جان، سنبھل جاتی
لکھتی میں غزل اک اُس کے نام
خود بن کر ایک غزل، جاتی
وہ چاند کبھی گھر آتا مرے 
میں اس کےقدم پل پل جاتی
جسپالؔ جو ہوتی اس کی نظر
تقدیر مری بھی بدل جاتی
 
جسپال ؔکور
نئی دلی،
موبائل نمبر9891861497
 
 
 
 
بس ایک بار صرف تقاضا کرے کوئی
پھر ہم نہ مسکرا دیں تو شکوہ کرے کوئی
اک چشمِ التفات بھی حاصل نہ ہو سکی
کیا خاک اور کوئی تمنا کرے کوئی 
ہوتا نہیں ہے وحشتِ دل کا کوئی علاج
جب تک نہ ان کا بزم میں چرچا کرے کوئی
کوئی تو صرف ایک جھلک کے لیے مرے
اور ان کا صبح و شام نظارا کرے کوئی
ذوقِ نظر بھی تابِ نظارا بھی ہو مگر
کس کی ہے یہ مجال تماشا کرے کوئی 
سر پھوڑ لے کہ روئے کہ صحرا کا رخ کرے  
جب کل نہ پڑھ سکے تو بھلا کیا کرے کوئی 
جس کی زبان جس کا عمل معتبر نہ ہو 
اس آدمی پہ کیسے بھروسہ کرے کوئی
دنیا ہے شمسؔ سایۂ دیوار کی طرح
بس یہ بھی ڈھل ہی جائے گا دیکھا کرے کوئی 
 
ڈاکٹر شمس کمال انجم
صدر شعبۂ عربی اردو بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی راجوری
موبائل نمبر؛9086180380
 
کوئی تجھ سا نہیں دِکھتا ستم گر اس زمانے میں
نہیں عادی کوئی مجھ سا ستم تیرے اٹھانے میں
دلِ ویراں کو میرے چھیڑ کے وہ شاد ہوتے ہیں
مزہ آتا ہے انکو خوب ہی مجھکو ستانے میں 
کرم ہو، فَضل ہو تھوڑا مرے اوپر بھی اےساقی 
قباحت کیا ہے میرے ہونٹوں تک یہ جام لانے میں
کرم سے یا الٰہی مجھ کو مالا مال تُو کر دے 
مرے مولانہیںہے کچھ کمی تیرے خزانے میں
کروں میں صبر اس ویراں چمن کو دیکھ کر کیسے
بڑا ہے لطف دنیا کے یہ بارِ غم اٹھانے میں
بہت خوش ہو وہاں پر اور تم خوشیاں مناتے ہو
اِدھر دیکھو اُداسی ہے ٹپکتی آشیانے میں
وہ دن پرویزؔ تم بھولو گے کیسے اور کب آخر
تمہاری چاہ تھی اُس کو بھی جب سارے زمانے میں
 
پرویز یوسفؔ
محلہ قاضی حمام بارہمولہ کشمیر
فون نمبر؛9469447331
 
پھول سی اپنی جوانی دے دو
خوبصورت سی کہانی دے دو
 
دُھندمیں کھوئے ہوئے ماضی کی 
ایک تصویرپرانی دے دو
 
دل کہ اک آتش کدہ ہے میرا
کسی ساون میں توپانی دے دو
 
بھول کر ہی کبھی چھُوکرمُجھ کو
کسی دریاکی روانی دے دو
 
تُم بھی کھوجائوگے دُنیامیں کہیں 
کوئی صورتؔ اپنی نشانی دے دو
 
صورت سنگھ
رام بن، موبائل نمبر؛9419364549