تازہ ترین

جموں۔۔۔۔۔منشیات کی تباہ کاریاں تشویشناک

24 جولائی 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

 پولیس کی طرف سے منشیات کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی کے دعوئوں کے بیچ ریاست بھر میں اس کے گراف میں دن بدن اضافہ ہوتاجارہاہے ۔خاص طور پر جموں صوبہ میں اس کا دھندہ تیزی سے پنپ رہاہے جو تشویش کا باعث ہے ۔سال 2018کے اعدادوشمار کے مطابق ریاست بھر میں منشیات مخالف کارروائیوں کے دوران 20ہزار سے زائد کلو گرام نشہ آور اشیاء برآمد کی گئیں جس دوران 248کلو گرام چرس، 19ہزار کلو گرام فکی، 19کلو گرام برائون شوگر،21کلو گرام ہیروئن،500کلو گرام بھنگ اور119کلو گرام گانجہ برآمد ہوا۔منشیات کے کاروبار میں جموں، کٹھوعہ اور سانبہ سرفہرست ہیں۔اس دوران پولیس کی طرف سے منشیات فروشوں کے خلاف این ڈی پی ایس ایکٹ کے تحت 938معاملات درج کئے گئے ۔پولیس کارروائیوں کے باوجود یہ اعدادوشمار گزشتہ برسوں کے مقابلے زیادہ ہیں۔منشیا ت  نوجوان نسل کی تباہی کا مؤجب بنتی جارہی ہے اوراس وبا ءکی زد میں آکر ریاست کے ہر ایک خطے میں نوجوانوں کا مستقبل تباہ ہوتاجارہاہے ۔پچھلے کچھ عرصہ میں ایسی کئی پراسرار اموات واقع ہوئی ہیں جن کیلئے منشیات کے استعمال کو ہی ذمہ دارٹھہرایاجارہاہے ۔خاص طور پرخطہ جموں میں منشیات کاکاروبار تیزی سے پھل پھول رہاہے جو پریشانی کا امر ہے ۔پولیس کی طرف سے منشیات مخالف کارروائی چلاکر کروڑوں مالیت کی ہیروئن و دیگر نشیلی اشیاء برآمد کرنے کے دعوے تو کئے جاتے ہیں جبکہ کئی منشیات فروشوں کو جیلوں کی سلاخوں کے پیچھے بھی ڈھکیلاگیاہے لیکن اس کے باوجود یہ وباء دن بدن تیزی سے بڑھتی جارہی ہے اور اس پر قدغن لگانے کے تمام تر منصوبے ناکام ہورہے ہیں ۔روزانہ پولیس بیانات میں منشیات کاکاروبار کرنے والے افراد کی گرفتاری کی اطلاع دی جاتی ہے اور بعض اوقات یہ دعوے بھی کئے جاتے ہیں کہ اس دھندے میں ملوث گروہ کو بے نقاب کیاگیاہے ۔نشیلی اشیاء بیرون ریاست سے درآمد ہوتی ہیں یاپھر بیرون ملک سے انہیں یہاں لایاجارہاہے ،اس کی جانچ کرنا بھی پولیس اور دیگر ایجنسیوں کا ہی کام ہے لیکن عام لوگوں کیلئے اہم صرف اور صرف یہ بات ہے کہ کس طرح سے اس وبا ءپر قابو پایاجاسکے اور نوجوان نسل کو مزید تباہ ہونے سے بچایاجائے ۔پولیس کارروائیوں کے حوالے سے اہم بات یہ ہے کہ یہ کارروائیاں عمومی نوعیت کی رہی ہیں اور ان میں نہ ہی یہ جاننے کی کوشش کی گئی کہ منشیات میں استعمال ہونے والی اشیاء کہاں سے لائی جارہی ہیں اور اس کے پس پردہ کون  عناصر ہیں اور نہ ہی اس کی درآمد روکنے کیلئے ٹھوس اقدامات کئے جارہے ہیں ۔ایساماناجارہاہے کہ جموں ، سانبہ اور کٹھوعہ اس لئے بھی منشیات میں سرفہرست ہیں کیونکہ اس خطے میں بھاری مقدار میں نشہ آور اشیاء لکھنپور کے راستے پنجاب سے داخل ہوتی ہیں، جنہیں آسانی سے مقامی نوجوان استعمال کرپاتے ہیں ۔سوِک ایکشن پروگرام کے تحت کھیل کود کی سرگرمیوں کا انعقاد،منشیات مخالف کارروائیاں، بیداری پروگراموں کا انعقاد،اس کاروبار میں ملوث نوجوانوں پر پی ایس اے عائد کرکے انہیں جیلوں میں مقید رکھنا اور روز بروز ضبطی کے دعوے کرناتو اچھی بات ہے لیکن جب تک اس کے پس پردہ عوامل اور اس دھندے کا پر دہ فاش کرکے اصل ذمہ داروں کو سزا نہیں دی جائے گی تب تک اس پر قابو پانا مشکل ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ انفرادی نوعیت کی کارروائیوں کے ساتھ ساتھ منشیات کے پس پردہ عناصر کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے جس سے ہی اس وبا پر قابو پایاجاسکے گا۔