تازہ ترین

جوانی کی بہار، بڑھاپے کی خزاں

طنزومزاح

21 جولائی 2019 (05 : 11 PM)   
(      )

عطا ء الحق قاسمی
میرے ایک بزرگ دوست ہر وقت اپنی جوانی کی تصویریں لئے بیٹھے رہتے ہیں اور ساتھ ساتھ ان کی کمنٹری بھی جاری رہتی ہے۔ گزشتہ روز وہ ایک بار پھر یہ سب احوال بیان کر رہے تھے’’یہ تصویر دیکھو، جب میں نے لندن میں 32میل لمبی میراتھن ریس میں حصہ لیا تھا اس میں ہزاروں لوگ بھاگ رہے تھے لیکن پھر بھی میں سب کے آخر میں بہرحال نہیں تھا‘‘۔ واقعی کیا خوبصورت جوان تھے اور اتنی لمبی دوڑ کے باوجود ان کے چہرے پر تھکن کے کوئی آثار نہ تھے۔ ’’یہ دیکھو!میں جم میں ایکسرسائز کر رہا ہوں‘‘۔ ان کے ڈولے اور ان کی چھاتی دیکھ کر دل دہل سا گیا۔ ’’تم اس خوبصورت لڑکے کو پہچان سکتے ہو؟ یہ میں ہوں جو کانووکیشن میں مہمان خصوصی سے اپنی بی اے کی ڈگری وصول کر رہا ہے‘‘۔ اس روز مجھے یقین سا ہو گیا کہ وہ کم از کم بی اے پاس ضرور ہیں۔اُنہوں نے اپنی زنبیل میں سے ایک اور تصویر نکالی ’’یہ گروپ فوٹو دیکھو، صرف بیس سال پہلے کا ہے۔ اس میں جو سب سے ہینڈسم جوان نظر آ رہا ہے وہ میں ہوں‘‘۔ وہ صحیح کہہ رہے تھے۔اس کے بعد وہ ایک ایک کر کے میرے سامنے اپنی جوانی کی تصویروں کا ڈھیر لگاتے چلے گئے، اپنے کالج کے دوستوں اور دوستنیوں کے ساتھ ایک سیمینار میں تقریر کرتے ہوئے، اپنی منگیتر کے ساتھ اور پھر شادی کی ڈھیر ساری تصویریں!پھر انہوں نے اپنی جگہ سے اٹھنے کی کوشش کی لیکن ناتوانی کی وجہ سے اٹھا نہیں گیا۔ میں نے سہارا دے کر انہیں اُٹھایا۔ وہ آہستہ آہستہ قدم اٹھاتے ہوئے ایک دوسرے کمرے میں گئے۔ واپسی پر اُن کے ہاتھ میں خاکی رنگ کے کاغذ کے تین چار بڑے لفافے تھے۔ چند قدم چلنے پر ہی ان کا سانس پھول گیا تھا۔ اب وہ لمبے لمبے سانس لے رہے تھے۔ جب اُن کا سانس دُرست ہوا تو بولے :’’اب میں تمہیں تصویر کا دوسرا رُخ دکھاتا ہوں‘‘۔ اور پھر انہوں نے یہ رُخ دکھانا شروع کر دیا۔ ’’یہ آرتھو پیڈک سرجن کی رپورٹ ہے اور اس کے ساتھ میرے دونوں گھٹنوں کے ایکسرے ہیں‘‘۔ ڈاکٹر کہتا ہے دونوں گھٹنے نئے ڈالنا پڑیں گے۔ اس پر مجھے غالبؔ کی دور بینی پہ شک ہوا جس نے بازار سے دل و جاں لانے کی بات تو کی تھی، گھٹنوں کا کہیں ذکر نہیں کیا تھا۔’’یہ رپورٹ پلمانالوجسٹ کی ہے جس کے مطابق میرے سانس کی نالیاں سکڑ گئی ہیں اور پھیپھڑوں کی لچک کم ہو گئی ہے‘‘۔ انہوں نے پہلی سگریٹ ایش ٹرے میں بجھاتے اور نیا سگریٹ سلگاتے ہوئے کہا : ’’ڈاکٹر کہتا ہے اب آپ باقی عمر مشین پر سانس لیں گے‘‘۔ اب میرے سامنے ایک اور رپورٹ تھی اور بزرگوار فرما رہے تھے ’’یہ میرے پروسٹیٹ کا الٹرا ساؤنڈ ہے جو انلارج ہو چکا ہے۔ ڈاکٹر کہتا ہے فوراً آپریشن کروا لیں ورنہ آپ ’’نکاس آب‘‘ کے لئے ترستے رہ جائیں گے!‘‘۔
اس دوران ان کا پوتا چائے لے آیا تھا، انہوں نے ایک گھونٹ چائے کا لیا اور اس کے ساتھ ہی تکلیف کے احساس سے اپنی بتیسی منہ سے نکال کر میز پر رکھ دی۔ میں نے پوچھا ’’کیا چائے دانتوں میں پھنس گئی تھی؟‘‘ بُرا سا منہ بنا کربولے : ’’میاں !منہ میں دانت ہی نہیں، مسوڑھے بھی ہوتے ہیں جو ان نقلی دانتوں کی وجہ سے زخمی ہو چکے ہیں ۔‘‘میں نے عرض کی: ’’نئے دانت لگوا لیں‘‘۔ بولے ’’میاں ایک نیا دانت ایک لاکھ روپے میں لگتا ہے اور منہ میں بتیس دانت ہوتے ہیں۔ جب کہ ہم میاں بیوی کی تو بتیسی بھی مشترکہ ہے۔ ہم باری باری کھانا کھاتے ہیں‘‘۔میرے اس دوست کا سب کچھ زوال پذیر تھا لیکن حسِ مزاح ابھی تک برقرار تھی۔پھر انہوں نے مجھے گردوں کی رپورٹ دکھائی جو یہ اطلاع دے رہی تھی کہ ان کا ایک گردہ بے کار ہو چکا ہے، وہ نکالنا پڑے گا۔ ہارٹ کی رپورٹ کے مطابق ان کے جسم کا یہ عضو کسی بھی وقت ریسٹ کرنے کے لئے رُک سکتا ہے اور یوںدل کی یہ ’’آرام طلبی‘‘ اس دنیا سے کوچ کا باعث بن سکتی ہے۔ ڈاکٹروں نے انہیں السر کا مریض بھی قرار دیا تھا۔ اس کے علاوہ ان تمام امراض کی نشاندہی کی گئی تھی جو ابھی تک دریافت ہو چکی ہیں یا دریافت ہونا باقی ہیں۔
وہ مجھے اپنی زندگی کی تصویر کے دونوں رُخ دکھا چکے تو انہوں نے مجھے مخاطب کیا اور بولے :’’میں اپنے حسن اور جوانی پر بہت مان کیا کرتا تھا، میرا خیال تھا کہ میں کبھی بوڑھا نہیں ہوں گا، کبھی کمزور نہیں ہوں گا، میری خوبصورتی کبھی ماند نہیں پڑے گی۔ اب میری ناتوانی دیکھو یہ زندگی نہیں جو میں گزار رہا ہوں۔ بے غیرتی ہے جو برداشت کرنا پڑ رہی ہے۔ پھر انہوں نے اپنے دائیں ہاتھ سے اپنے پچکے ہوئے گال مزید پچکاتے ہوئے کہا ’’یہ میری شکل دیکھو، اگر تم نے کبھی زندگی میں بجو نہیں دیکھا تو مجھے دیکھ لو‘‘۔ وہ اپنی ہجو بیان کرتے کرتے دوسروں کی ہجو پر بھی اُتر آئے۔ بتانے لگے کہ ’’گزشتہ روز شادی کی ایک دعوت میں ایک بوڑھی عورت سے میری ملاقات ہوئی جو مجھ سے بھی زیادہ بدصورت تھی، میری شکل و صورت کا آدمی بھی اس کا چہرہ زیادہ دیر تک نہیں دیکھ سکتا تھا مگر وہ میرے قریب آئی اور نازو ادا کے ساتھ بولی : ’’آپ نے مجھے پہچانا نہیں‘‘ میں نے بے رُخی سے کہا :’’نہیں‘‘۔ اس نے شرماتے اور اپنے دوپٹے کا پلو اپنی انگلیوں سے مسلتے ہوئے کہا :’’میں شازیہ ہوں‘‘ ’’اب میں تمہیں کیا بتاؤں، یہ شازیہ کون تھی؟ یہ وہ تھی جو میرے ساتھ کالج میں پڑھتی تھی اور کالج کی سب سے خوبصورت لڑکی تھی۔ میں اس پہ دل و جان سے عاشق تھا اور اس سے شادی کرنا چاہتا تھا مگر دونوں کے والدین نہیں مانے۔‘‘ اس کے بعد انہوں نے ایک ٹھنڈی سانس بھری اور کہا ’’میں بہت دنوں سے سوچ رہا ہوں کہ کسی خوبصورت مرد اور کسی خوبصورت عورت کو بوڑھا اور بدصورت ہونے کی منزل تک پہنچنے سے پہلے موت کے گھاٹ اُتار دینا چاہئے۔‘‘اس پر میں ہنس پڑا۔ بولے :’’اس میں ہنسنے کی کون سی بات ہے آخر آپ لوگ لنگڑے گھوڑے کو بھی تو گولی مار دیتے ہیں‘‘۔
اب میں بزرگوار کو کیا بتاتا کہ آپ کی رائے آپ جیسے دوسرے لوگوں کے حوالے سے تو صحیح نہیں لیکن وقت کے ان فرعونوں اور قارونوں کے حوالے سے اس پر ضرور غور ہو سکتا ہے جو اپنے اندھے اختیارات اور بے پناہ دولت کے بل بوتے پر خدا کے اس قانون کو بھول جاتے ہیں کہ ایک دن یہ سب کچھ ان کے لئے بے کار ہو جائے گا۔ وہ جینا چاہیں گے اور جی نہیں سکیں گے، وہ مرنا چاہیں گے اور مر نہیں سکیں گے!بزرگوار کی آخری بات نے اگرچہ مجھے اُداس کر دیا تھا، تاہم میں نے سوچا کہ اگر انہوں نے اپنی طاقت کے زمانے میں آنے والی ناتوانی، خوب صورتی کے زمانے میں بدصورتی، جوانی کے زمانے میں بڑھاپے اور اختیارات کے زمانے میں لاچاری کے بارے میں سوچا ہوتا تو وہ آج اتنے مایوس نظر نہ آتے۔ بہار کے بعد خزاں نے آنا ہی آنا ہوتاہے اور گو خزاں کے بعد پھر بہار آتی ہے لیکن انسان پر آنے والی خزاں کے آخر میں کوئی بہار نہیں ہوتی