تازہ ترین

محکمہ پی ایم جی ایس وائی کی کارکردگی مایوس کن

21 جولائی 2019 (05 : 11 PM)   
(      )

نیو ڈسک
محکمہ پی ایم جی ایس وائی کی طرف سے گائوں گائوںکو سڑک روابط سے جوڑنے اور ہر سال ہزاروں کلو میٹر طویل سڑکوں کی تعمیر کے دعوے تو کئے جاتے ہیں لیکن محکمہ کے تحت زیر تعمیر سڑکوں میں سے بیشتر قابل آمدورفت ہی نہیں ہیں ۔زیادہ تر سڑکوں کا یہ حال ہے کہ ان پر کام مکمل نہیں ہوسکا، جس کی وجہ سے آئے روز سڑک حادثات رونماہورہے ہیں ۔ محکمہ کی کارکردگی کا اندازہ اس بات سے لگایاجاسکتاہے کہ گزشتہ دنوں چیف انجینئر پی ایم جی ایس وائی کی طرف سے متعلقہ حکام کو زیر تعمیر اور نامکمل سڑکوں پر گاڑیاں نہ چلانے کی ہدایت جاری کی گئی ۔یہ حکمنامہ کیشوان سڑک حادثے کے تناظر میں جاری کیاگیا جس میں 35افراد کی جانیں چلی گئی تھیں ۔اس حکمنامہ کے حوالے سے اگر صرف پہاڑی ضلع رام بن کا جائزہ لیاجائے تو کل 28میں سے 26پی ایم جی ایس وائی سڑکیں نامکمل ہیں اور صرف 2پروجیکٹ ہی ایسے ہیں جنہیں پایۂ تکمیل تک پہنچایاگیاہے ۔ریاست کے دیگر پہاڑی علاقوں کا حال بھی رام بن کے ہی جیساہے جہاں پی ایم جی ایس وائی کے تحت زیر تعمیر زیادہ تر سڑکیں نامکمل ہیں اور اکا دکا پروجیکٹوں کوہی مکمل کیاجاسکاہے۔اس بات میں کوئی شک نہیں کہ خطہ پیر پنچال اور خطہ چناب میں محکمہ کی طرف سے بڑے پیمانے پر سڑکوں کی تعمیر کاکام ہاتھ میں لیاگیاہے اور زیادہ تر گائوں کو سڑک روابط سے جوڑنے کیلئے اقدامات بھی کئے گئے لیکن بدقسمتی سے یہ پروجیکٹ ادھورے پڑے ہوئے ہیںا ورانہیں مکمل کرنے کیلئے کہیں فنڈز درکار ہیں تو کہیں محکمہ جنگلات کی طرف سے رکاوٹیں کھڑی کی گئی ہیں جبکہ کہیں آپسی تنازعات یا تکنیکی وجوہات کی بناپر یہ سڑکیں مکمل نہیں ہوسکی ہیں ۔اگر چند برس قبل مقرر کئے گئے اہداف کو پورا کرلیاجاتاتو آج یقینی طور پر صورتحال مختلف ہوتی اور خاص طور پر خطہ چناب و خطہ پیر پنچال کے لوگوں کو بہتر سڑک روابط میسر ہوتے تاہم بیشتر جگہوں پر سڑک کے نام پر زمین کی کٹائی اور ہمواری کے پہلے مرحلے کاکام تو کرلیاگیا لیکن اس کے بعد کے مراحل التواکاشکار ہوکر رہ گئے اور یہی وجہ ہے کہ نہ ہی لوگوں کی زمینیں کسی کام کی رہیں اور نہ ہی انہیں سڑکوں کی سہولیات میسّر ہوئیں ۔ کئی سڑکوں کا یہ حال ہے کہ زمین ہموار کرکے انہیں ایسے ہی چھوڑ دیاگیا اور مجبوراًلوگ انہی سڑکوں پر گاڑیاں چلارہے ہیں جو حادثات کے اسباب کیلئے انتہائی خطرناک ثابت ہورہی ہیں ۔ ایسی سڑکوں میں بڑے بڑے کھڈے بن جاتے ہیں اور بارشوں میں پھسلن سے زیادہ ہی مشکلات کاسامنارہتاہے ۔حالیہ دنوں ہوئے سڑک حادثات میں سے زیادہ تر پی ایم جی ایس وائی کی سڑکوں پر ہی رونما ہوئے ہیں اور کیشوان سڑک حادثے پر محکمہ پی ایم جی ایس وائی کے خلاف کیس بھی درج ہواہے لیکن ایک کیس درج کرنے سے محکمہ کے کام کاج میں سدھار کی امید نہیں کی جاسکتی بلکہ اس کیلئے تمام سطحوں پر سنجیدگی کا مظاہرہ کرناہوگا اور ایک مشن موڑ کے تحت نامکمل پڑے کاموں کو پایہ تکمیل تک پہنچاناہوگا۔امید کی جانی چاہئے کہ گورنر انتظامیہ سڑکوں کی تعمیر پر خصوصی توجہ مرکوز کرے گی اور خاص طورپر پہاڑی علاقوں میں سڑک روابط کے نظام کو بہتر بنایاجائے گاکہ ایک تو حادثات پر روک تھام لگ سکے اور دوسرے لوگوں کوآمدورفت میں آسانی ہو ۔