تازہ ترین

نظامِ تعلیم کا قبلہ دُر ست کر یں

20 جولائی 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

بشیر اطہر۔۔۔ خانپورہ کھاگ
  آج کل تعلیم کا چرچا عام ہورہا ہے ۔ اگر کوئی شخص تعلیم کے بغیر ہو تو اس کو مہذب انسان تصور ہی نہیں کیا جاتا مگر پچھلے زمانے کی تعلیم آج کی تعلیم سے الگ تھی۔ ان دنوں اخلاقیات، اقتصادیات اور ادبیات پر زور تھا مگر دورِ حاضر کی تعلیم میں ان سب چیزوں کا فقدان ہے۔ آج نوجوان پیڑھی کیوں بگڑ ی ہیں؟ اس میں بڑھوں کا احترام کیوں نہیں؟ وجہ صرف ہمارا ناقص نظام تعلیم ہے۔ ہمارے یہاں پہلی جماعت سے لے کر اعلیٰ تعلیم تک کے نصاب میں آپ کو اخلاقیات، اقتصادیات ، حُسن معاشرت اور ادبیات کا فقدان ہی فقدان نظر آئے گا۔ اس لئے ہم آج ہم پڑھے لکھےڈگری والے ہیں مگر تعلیم یافتہ نہیں۔ اگر کسی نے بڑی بڑی ڈگریاں حاصل کی ہوں مگر وہ اخلاقیات سے تہی دامن ہو تووہ اپنے لئے یا سماج کے لئے کوئی اثاثہ ثابت نہ ہوگا ۔ اس میں اگربزرگوں کا احترام نہ ہو، غریبوں سے ہمدردی نہ ہو، صنفِ نازک کی تکریم نہ ہو ، تو وہ تعلیم یافتہ نہیں کہلا سکتا کیونکہ تعلیم شخصی اوصاف کا نام ہے نہ کہ کاغذی ڈگری کا ۔ آج کل جب رشوت خوری ، بے راہ روی، بےپردگی، بے ہودگی ، بےایمانی عروج پر ہے، تو ہم کس منہ سے کہہ سکتے ہیں کہ ہمارا سماج مہذب اور تعلیم یافتہ ہے ؟ تعلیم یافتہ اسی معاشرے کو کہا جاسکتا ہے جوبھٹکے ہوؤں کو راستہ دکھائے، جو لوگوں کو برائیوں سے روکے ، جو اچھائیوں کا چلتا پھر تا نمونہ بنے ۔ یہی آرزو ڈاکٹر سر محمد اقبال نے یوں کی    ع
زندگی شمع کی صورت ہو خدایا میری 
شمع کا کام ہے خود جلنا مگر دوسروں کو روشنی دکھانا ہےتاکہ وہ ٹھوکر نہ کھائیں ۔ ہمارے سب کام اس کے برعکس ہیں، ہم ایک دوسرے کا خون بہانے پر تُلے ہوئے ہیں ، ہم باہم دگرظلم کر نے میں شیر ہیں ، ہم غلط رسوم اور بدنمارواجوں کے غلام ہیں ۔ اگر ہم واقعتاً تعلیم یافتہ ہوتے تو ہمارے ڈاکٹر حضرات بیماروں کے ساتھ برا سلوک نہ کرتے ، نقلی ادویات کا کاروبار کرنے والوں کا ساتھ نہ دیتے، ہمارے انجینئر خزانہ ٔ عامرہ کو نہ لوٹتے ، ہمارے دفاتر رشوت کے اڈے نہ ہوتے، پٹواری ایک شخص کی اراضی دوسرے شخص کے نام نہ کرتا، ٹیچر اپنا فرض نبھانے میں تساہل نہ برت لیتا، تاجر لوگوں کو دھوکہ نہ دیتا ۔ ان سب تباہیوں کا ذمہ دار ہمارا نصاب تعلیم ، ہمارے والدین اور ہمارا معاشرہ ہے ۔معروف کشمیری شاعر مہجورؔ نے سچ کہا ہے  ع
شکلہ چھس انسان مگر انسانیت نشہ بے خبر 
 افسوس کہ انسانیت کو بگاڑنے میں اگر کوئی کسر باقی تھی تو اُسے سوشل میڈیا نے پورا کر ڈالا ۔اب حال یہ ہے کہ اگر کوئی فرد کسی بھکاری کے ہاتھ میں ایک روپیہ تھمائے تو وہ اس کی ویڈیو گرافی کرکے اسے وائرل کرتا ہے، حتیٰ کہ طواف ِ کعبہ کی بھی ویڈیو گرافی کر کے عبادت کا مقصد محض ریا کاری بنایا گیاہے ۔ اسی طرح اگر کوئی فلاحی ادارہ کسی بیوہ یا یتیم کی مدد کرے تو وہ ٹیلی ویژن ، اخبارات ،فیس بُک وغیرہ پر مہینوں اس کی تشہیر کراتا ہے ، جب کہ خیرات کا مستند طریق کار یہ ہے کہ اگر دائیں ہاتھ سے کچھ دیا جائے تو بائیں ہاتھ کو پتہ نہیں چلنا چاہیے ۔ یہ سب ہمارے غلط نصاب ِتعلیم کا ثمرہ ہے ۔ ہمیں چاہیے کہ اولین فرصت میں ہم اپنا نظریہ ٔ  تعلیم کا قبلہ دُرست کریں تب جاکر ہماری نوجوان نسل برباد ہونے سے بچ جائے گی ۔ 
