تازہ ترین

کشمیر کی رُو بہ زوال پشمینہ صنعت

ماضی درخشندہ حال پراگندہ

20 جولائی 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

عبدلقیوم شاہ۔۔۔۔ فتح کدل سری نگر
 تاریخ  کشمیر کے تابندہ ستارے ،مبلغ اسلام اور محسن کشمیر حضرت میر سید علی ہمدانی ؒ جب وادی کشمیر میں تشریف لائے تواُن کے ساتھ بہت سارے ہنر مندکاری گر اور ماہرفنون بہ نفس نفیس موجودتھے۔یہ ساداتِ کرام دین و تبلیغ کے ساتھ مختلف دست کاریوں میں مہارتِ تامہ رکھتے تھے جن میں قالین بافی، پیپر ماشی، شال بافی وغیرہ شامل تھی۔ یہ سارے کاری گر خاکِ ایران سے تعلق رکھنے والے تھے اور کشمیر میں قدم رنجہ ہوکرپہلے ضلع کپوارہ میں رہایش پذیر ہوئے، یہاں پہاڑوں کی آغوش میںقیام کر تے ہوئے انہوں نے نومسلم کشمیریوں کو نہ صرف دین اسلام کی تعلیم دی بلکہ لوگوں کو ہنرمندیوں اور دست کاریوں کی تربیت دی ۔ انہی قدسی روح اور پاک نفوس پر مشتمل خانوادہ ’’ بافندہ‘‘ بھی شامل تھا ۔اس قبیلے کا سر پرست سید احد شاہ بافند ہ تھے ، یہ شال بافی میں قابل قدر مہارت رکھتے تھے ۔ سید احد شاہ بافندہ نے اپنی شادی خانہ آبادی بھی ضلع کپوارہ میں کی۔ یہ وہ دور تھا جب وادی میں غریبی اور بے روزگاری عروج پر تھی۔ دینی تبلیغ کے ساتھ ساتھ با فندہ خاندان نے یہاں کے لوگوں کو آذوقہ کمانے کے لئے دست کاری کی طرف راغب کرنا شروع کیا۔ واضح رہے ضلع کپواڑہ پہاڑی علاقہ ہے، ان ایام میں یہاں کے لوگ مال مویشی اور بھیڑ بکریاں پال کر گزر اقات کر تے تھے۔ یہ پہاڑی لوگ اکثریت میں مسلمان تھے اور میدانی لوگ پنڈت تھے۔ 
با فندہ خاندان نے سب سے پہلے شال بافی میں درکار ساز سامان بنانے کا کام شروع کیا۔ اس میں یندر، پرژ، یرن تُل، ڈغر، ساز، شُم، ہر، وچہ کانی، ڈولہِ وغیرہ شامل تھے ۔ یہ سارا سامان لکڑی سے بنتا تھا۔ آہستہ آہستہ پہاڑی مسلم آبادی میدانی علاقوں میں رہنے لگی۔ سب سے پہلے بھیڑ بکریوں سے اُون لے کر اس کی کتائی کا کام شروع کیا جس کی شروعات یہاں کے ہندو خواتین نے کی۔ سید احد شاہ بافند ہ کی زیر نگرانی یہاں کے مردو زن نے باریک چادریں بنانے کا کام شروع کیا، جس کا نام بعد میں دُسہِ رکھا گیا۔ یہ ساڑھے گیارہ گز طویل ہوتااور اِس کے کناروں میں سبز ماول ہوا کرتا تھا۔ یہ عوام وخواص میں بہت ہی مشہورا ور مقبول ہوا ۔ دوسہ کو پوری وادی میں لوگوں نے پسند ہی نہ کیا بلکہ یہ ضروریاتِ زندگی کا حصہ بن گیا۔ اس سلسلے میں بافندہ خاندان کے ارکان نے خام مواد لانے کے لئے لداخ، راجوری، ڈوڈہ، بسو ہلی کا رُخ کیا ۔ یہاں بھی انہوں نے دین و تبلیغ کے ساتھ ساتھ دست کاری کا کام شدومد سے شروع کیا۔ اُدھرسید احد شاہ بافندہ کا بڑا فرزند سید محمد شاہ با فندہ شہر سرینگر کی طرف آگئے اور شہر خاص بر بر شاہ میں رہایش پذیر ہوئے اور یہاں کی خواتین کو اُون کی کتائی سکھانے کا کام شروع کیا۔ اس وقت بھی یہاں کی پنڈت خواتین نے اس کام کی شروعات کیں اور آہستہ آہستہ پورے شہر خاص سرینگر میں مسلم خواتین نے بھی کتائی کے فن وہنر میں دلچسپی دکھائی۔ 
سید محمد شاہ بافندہ کے چار فرزند تھے :(۱) سید علی محمد شاہ (۲) سید غلام حسن شاہ (۳) سید محمد حسین شاہ (۴) سید غلام رسول شاہ جو شہر خاص سرینگر کے فتح کدل میں رہایش پذیر ہوئے اور یہاں سے شال بافی کا کام شروع کیا۔ ان کے فرزند غلام حسن شاہ نے شال بافی کا کام سیکھا اور اس کو 1988؁ء تک چلا تے رہے۔ اس وقت فرزد محمد حسین شاہ بقید حیات ہیں اور کرسوراج باغ میں رہایش پذیر ہیں۔ بہر حال اب شال بافی وادی کے ہر ضلع میں شروع ہو گئیتھی اور اس طرح یہاں کے لوگوں کا ایک اہم ذریعہ معاش بنا ۔ اس کے بعد لداخ سے بھیڑوں کا اُون آنے لگا جو عمدہ قسم کا اُون پا یا گیا۔ اس کے ریشے میںخاص طور پرنرمی اور گرمی پائی گئی اور یہ پشمینہ کے نام سے مشہور ہو گیا۔دیکھتے ہی دیکھتے پشمینہ وادی ٔ کشمیر کی مشہورزماں ایک بہت بڑی کی صنعت بن گئی۔ مقامی آبادی کاایک معتدبہ حصہ اس صنعت سے وابستہ ہوا اور اب شال ، دھوتی، لونگی، جو کشمیر ی پنڈت لوگ استعمال کرتے  ، بھی اس صنعت کے فروغ کا سبب بنا ۔ پشمینہ شال کی شہرت دیکھ کر یہاں کے بڑے بڑے سر مایہ داروں نے اس صنعت میں بہت سارا سر مایہ لگا کر اس کو دنیا بھر میں آگے لے جانے میں بہت ہی اہم رول ادا کیا۔ انہوں نے ہندوستان سے لے کر بیرونی ممالک تک پشمینہ کاروبار پھیلاکر وادی کو اس کی بدولت فخریہ نام بھی دیا اور یہاں کی معیشت کو خوش حالی دینے میں بھی بہت کچھ کنٹربیوٹ کیا۔ وادی کشمیر کی اقتصادی حالت بہتر بن گئی۔ ان سر کردہ پشمیہ تاجروں میں میں غلام احمد گنائی ، غلام حسن ریشی ، شاعر خاندان، نقاش خاندان، بیگ خاندان وغیرہ سر فہرست شامل ہیں۔ وادی کشمیر کی عفت مآب خواتین گھر یلو دستکاری کے طور پشمینہ کی کتائی سے جڑکر عزت و آبرو کے ساتھ اپنے گھروں میں روز کار کما تیں اور اپنے لڑکے لڑکیوں کی تعلیم اور شادیاں اس محنت کش کمائی سے کر تیں ۔ خاص بات یہ کہ ہر گھر میں چرخا(یندر) لازماً ہو ا کرتا تھا۔  جہاں بھی یہ یندر پایاجا تااس گھر کو عزت اور شرافت کی نگاہوں سے دیکھا جاتا ۔ 
 پشمینہ صنعت کے حوالے سے یہ گزارشات ماضی قریب کا اھاطہ کر تی ہیں ، جب کہ اس صنعت کا حال بہت ہی ناگفتہ بہ ہے ۔یہ ایک حقیقت ہے کہ کشمیر میں وقت کے حکمرانوں نے پشمینہ صنعت کو فروغ دینے اور اسے بچانے کے لئے کوئی کار گر اقدام نہ کئے اورحضرت میر سید علی ہمدانی ؒ کے لائے اس تحفے کو مقامی معیشت کا ایک اہم جُز بنانے میں کوئی دلچسپی نہ لی بلکہ انہوں نے اس صنعت کی دانستہ یانادانستہ حوصلہ شکنیاں کیں۔غور کیجئے،پشمینہ صنعت وادی کشمیر کے لوگوں کی میراث تھی جس کو زندہ وپایندہ رکھنے میں معاشی خوش حالی کا راز ہی مضمر نہ تھا بلکہ یہ صنعت ہماری تہذیب اور روایات کا آئینہ دار تھی ، یہ حلال روزی کی ضمانت اور پاک آرزؤں کی امانت دار تھی ۔ اگر اب بھی اس نفع بخش صنعت کی محبت دل کے کسی گوشے میں موجود ہے تو آپ کو پشمینہ صنعت کی موجودہ تباہ کن صورت حال ضرور بے چین کر ے گی۔ اس صنعت کی ہماری روحانی ، معاشی اور سماجی تاریخ میں بڑی اہمیت رہی ہے ۔ اس سے بڑ ھ کر اس دست کاری کی اور کیا زینت ہوسکتی ہے کہ اسے بزرگان ِ دین نے یہاں متعارف کر ایا ،اس پیشے کو دعوت و تبلیغ کا جزء لاینفک بنایا اور بہ حُسن ِ سعی حضرت میر سید علی ہمدانیؒ  کشمیر کو دست کاریوں کو دنیا بھر میں چار چاند لگ گئے ۔
آخر ایسا کیوں ہے کہ ہم اپنی اس عظیم وراثت اور معاشی خوش حالی کی ضمانت کو دوسروں کے ہاتھوں میں یرغمال بنا نا چاہتے ہیں؟ ہم خود اپنے پاؤں پر کلہاڑی کیوں ماررہے ہیں ؟ قبل ذکر ہے کہ جموں و کشمیر کے بعض حکمرانوں نے سیاسی مفاد کے پیش نظر کشمیر میں گھریلو سطح پر پشمینہ سازی کو فروغ دینے کی بجائے کچھ ایسی   بے ہودہ اسکیمیں اپنائیں جن کی وجہ سے کشمیر کی خواتین نے پشمینہ کتائی بند کر دی اور اسی کے ساتھ پشمینہ صنعت کا گویا انتقالِ پُر ملال ہوا ۔ یہ ساری ا سکیمیں مرکزی سرکار کی دی ہوئی ہیں جن کو آنکھ بند کے ہماری ریاست میں لاگو کیا گیا ۔ سوال یہ ہے کہ ہماری وادی میں ان سکیموں کی ضرورت ہی کیا تھی ۔یہ ا سکیمیں ہیں آنگن واڈی سنٹر، آشا وغیرہ جن سے ہماری پشتینی پشمینہ صنعت سے وابستہ خواتین الگ ہو کر ر ہ گئیں۔ اگرماضی میں پشمینہ صنعت کی ترقی وترویج کا مکمل پاس ولحاظ کر تے ہوئے ہمارے کرم فرما حکمرانوں، سرکاری اور غیر سرکاری اداروں نے اس دست کاری کو ایک مفیدحکمت عملی سے مر بوط کرکے حضرت میر سید علی ہمدانیؒ کے نام سے فروغ ِ  پشمینہ سو سایٹی کا قیام عمل میں لا کر اس صنعتی مشن کو آگے بڑھانے اور بچا نے کی غرض سے اس میں جدت کاریاںکی ہوتیں تو کوئی بات تھی مگر ایسا کچھ نہ کیا گیا،اس لئے یہ شہرہ ٔ آفاق پیشہ رُوبہ زوال ہے ۔ آج ہمیں اس دست کاری کی سوختہ حالی کے دن دیکھنے پڑتے ہیں ۔ پشمینہ صنعت سے پوری دُنیا میں وادی کشمیر کو شہرت  ہی نہ تھی بلکہ ا س سے ہماری انفردایت اور تشخص قائم تھی جواب بہر حال ہے نہیں !
  یہ بات قابل ذکر ہے کہ بھارت میںگاندھی جی کے نام سے گاندھی آشرم کھادی بھنڈار پورے ملک میں بطور دست کاری مرکز موجود ہے ۔ ہماری ریاست جموں و کشمیر میں بھی گاندھی مشن کا کام کر رہاہے ۔ کیا اس کے مدمقابل کشمیر میں پشمینہ مشن نہیںہو نا چاہیے تھامگراس کا کوئی نام و نشان بھی نہیں ۔ اس زوال میں ہمارے عجیب وغریب طرزِ عمل کا بھی عمل دخل ہے۔ ہم اُن رسومات اور روایات کو تر جیح دیتے ہیں جو ہماری کسی کام کی نہیں، اپنی حیثیت سے زیادہ بلکہ ضرورت سے تجاوز کر کے نا حق کاموں پرخرچ کرتے ہیں ، اسراف ، نمود ونمائش  کوپوری قوت سے بڑاھاوا دے رہے ہیں، گھر سے میت اُٹھے تو وز وان، شادی بیاہ ہو تو فضول خرچیوں کا اہتمام مگر جن دست کاریوں کی بدولت ہماری تہذیب ودین کی سربلندی کا پرچم  لہر اتاتھا ، جو کام ہمیں دنیوی خوش حالی اور اُخروی فلاح سے ہمکنار کر ے وہ ہماری ترجیحات میں کہیں موجود نہیں ۔ اسی لئے کسی دل جلے نے شاید ہم پر ہی یہ چوٹیں کی ہیں    ؎
سماج والو! تمہیں زندگی  مبارک ہو 
جو ہم سے چھین لی تم نے خوشی مبارک ہو 
ہماری لاشوں کو دیکھیں گے سب حقارت سے 
جہاں میں آشنا کم ہوں گے اس حقیقت سے 
کہ کس طرح کے ستم ہم پہ لوگ کر تے تھے 
ہمارے بعد ہر اک گھر میں تذکرے ہوں گے 
یہاں ہیں جھوٹی شرافت کے پو جنے والے 
دھرم کے نام پہ دولت کو پوجنے والے 
خدا کا خوف پایا کس کے دل میں یہاں کہاں 
ہوس پرستوں کا دنیا میں کوئی دین نہیں 
ہم اپنے خون سے خود اپنی مانگ بھر تے ہیں 
ایک بار نہیں دن میں ہزار بار مرتے ہیں 
ہمارا نام کس دل میں بھی سمانہ سکا 
جہاں میں کوئی بھی اپنا ہمیں بنا نہ سکا 
 خاتمہ ٔ کلام پر اللہ کا یہ ارشاد :  اور اے مومنین و مسلمین! تم میں ایک جماعت ہمیشہ ایسی ہونی چاہئے جو لوگوں کو نیکی کی طرف بلائے اور اچھے کام کرنے کاحکم دے اور بُرے کاموں سے منع کرے اور تبلیغ دین کا فرض ادا کرنے کی وجہ سے یہی لوگ ہیں جو نجات پانے والے ہیں(  آل عمران  ۱۰۴ )
رابطہ  :۔  9469679449
ای میل :۔  abdulqayoomshah57@gmail.com
