تازہ ترین

شاہراہ پر پابندی

سرکاری آفیسروالد کی لاش بھی نہ لیجا سکا

20 جولائی 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

نیوز ڈیسک
سرینگر //سرینگر جمو ں شاہراہ پرحکومت کی طرف سے عائد بندشوں اور رکاوٹوں سے متعلق ریاستی حکومت کے دعوئوں کی قلعی اُس وقت کھل گئی جب انتظامیہ کے ایک سینئر آفیسر نے انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ شاہراہ پر فورسز اہلکاروں نے انکی گاڑی کو چلنے کی اجازت نہیں دی جس میں انکے والد کی لاش تھی۔محکمہ فائنانس کے ڈائریکٹر امتیاز وانی نے سماجی رابطہ گاہ فیس بک پر پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ میں انتظامیہ میں ایک اعلیٰ عہدے پر فائز ہوں ، اس طرح کا طریقہ میرے ساتھ اپنا یاگیا تو عام لوگوں کے ساتھ کیا ہوتا ہوگا؟آفیسر کا کہنا تھا  ’’عام لوگوں کے حقوق کو امرناتھ یاترا کے تابع رکھا گیا ہے، مجھے اپنے والد کی لاش تک کو بھی شاہراہ پر لیجانے کی اجازت نہیں دی گئی‘‘۔ انسپکٹر راکیش ،جو جموں وکشمیر پولیس کیساتھ منسلک ہے، نے قطعی طور پر مجھے آگے جانے کی اجازت نہیں دی‘‘۔انہوں نے کہا کہ ’’جونہی ہم نے نگروٹہ کو پار کیا، فورسز اہلکاروں نے ہمیں روک دیا، میں نے ان کے سامنے کافی منت سماجت کی کہ میں انتظامیہ میں ہی اعلیٰ عہدے پر فائز ہوں تاہم انہوں نے میری ایک بھی نہ سنی۔ اس کے بعد ہمیں شاہراہ پر 2گھنٹوں تک روکے رکھا گیا جس کے بعد ہی ہمیں آگے جانے کی اجازت دی گئی‘‘۔ آفیسر کا کہنا تھا کہ شاہراہ پر موجود فورسز اہلکاروں نے انہیں بتایا کہ ہمیں ہدایت کی گئی ہے کہ صرف یاتریوں کو شاہراہ پر چلنے کی اجازت دی جائے نہ کہ مردہ انسانوں کو‘‘۔