تازہ ترین

بانہال کا بیوپاری ادہمپور سے گزشتہ6روز سے لاپتہ

مقامی بیوپاریوں، تاجروں اور پنچایتی نمائندوں کا اظہار تشویش

19 جولائی 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

محمد تسکین

 پوچھ تاچھ کیلئے ایک شخص پولیس حراست میں

بانہال // بانہال سے تعلق رکھنے والا بھیڑ بکریوں کا ایک بیوپاری گزشتہ چھ روز سے ادہمپور کے ٹکری علاقے سے لاپتہ ہے اور اسکی پراسرار گمشدگی نے اس کے گھر والوں اور رشتہ داروں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ بانہال کی تاجر برادری اور بھیڑ بکریوں کے کاروبار سے جڑے بیوپاریوں نے اس کی گمشدگی کا معمہ فوری طور حل نہ کرنے کی صورت میں احتجاج کی صورت میں سڑکوں پر اترنے کا انتباہ دیاہے ۔ پولیس نے لاپتہ ہوئے پچاس سالہ شخص غلام رسول وانی ولد شمس الدین وانی ساکنہ ٹھٹھاڑ بانہال کے قریبی رشتہ داروں اور ساتھیوں کی شکایت پر گمشدگی کی ایک رپورٹ درج کرکے کے مزید تحقیقات شروع کردی ہے اور ایک مشتبہ کو بھی پوچھ تاچھ کیلئے حراست میں لیا گیا ہے۔ لاپتہ ہوئے شہری غلام رسول وانی کے گھر والوں کا کہنا ہے کہ وہ 11جولائی کو بھیڑ بکریاں خریدنے کیلئے کٹرہ چلا گیا اور 12جولائی کے بعد سے اس کا موبائل سوئچ آف ہے ، آخری فون کال پر بتائے گئے متل جنگلات اور دیہات کو چھان مارا گیا ہے لیکن اس کا کوئی سراغ نہیں مل رہا ۔انہوں نے کہا کہ وہ پچھلے پچیس سال سے بیوپار کے سلسلے میںکٹرہ جاتے رہتے ہیں اور اس بار وہ عید الاضحی کے پیش نظر چار لاکھ کے قریب کی رقم ساتھ لے گئے ۔ انہوں نے کہا کہ 12جولائی کو اس نے کٹرہ پہنچے اپنے ساتھ محمد اقبال سے بات کی اور انہیں بتایا کہ وہ عاشق علی نامی ایک گوجر کے ساتھ ہے اور وہ اس سے بقایا پڑا ایک نگ حاصل کرنے متل کے جنگلات کی طرف جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس بات چیت میں غلام رسول نے اپنے ساتھی سے ذکر کیا تھا ہ وہ عاشق علی سے خریدی گئی ایک بکری لینے کیلئے وہ اس کے گھر سے اس کے ریوڑھ کی طرف بڑھ رہے ہیں لیکن اس کے بعد سے اس کا فون مسلسل سوئچ آف آرہا ہے۔ اس پراسرار گمشدگی کی خبر ملنے کے بعد لاپتہ شہری کے رشتہ دار اور ساتھی بیوپاری 16 جولائی سے ٹکری میں لنگر انداز ہیں اور انہوں نے متل جنگلات ، ٹکری اور کٹرہ کے تمام علاقے ، جنگلات اور بیابان چھان مارے ہیں مگر جمعرات کی شام تک غلام رسول کا کوئی پتہ نہیں چل سکا ہے۔ لاپتہ ہوئے شہری کے بھتیجے بلال احمد وانی نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ ممکنہ علاقوں اور ٹھکانوں کی تلاش کے بعد انہوں نے 17 جولائی کو پولیس پوسٹ ٹکری پولیس سٹیشن ریمبل ضلع ادہمپور میں گمشدگی کی تحریک رپورٹ درج کی ہے اور پولیس نے گمشدگی کی رپورٹ میں دی گئی تفصیلات پر کاروائی کرتے ہوئے پولیس نے عاشق علی گوجر نامی شہری کو پوچھ تاچھ کیلئے بلایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فون بند ہونے سے پہلے وہ عاشق علی کے ساتھ ہی تھے اور اس سلسلے میں اس کی سخت پوچھ تاچھ ضروری ہے اور اس سلسلے میں وہاں کے سرپنچ اور پنچایتی نمائندوں اور لوگوں نے نہ صرف ساتھ دیا ہے بلکہ غلام رسول وانی کو 12 جولائی کو اسی علاقے میں دیکھا گیا ہے۔ گمشدہ شہری کی تلاش کیلئے رشتہ داروں اور پولیس کی مہم جمعرات کو بھی جاری تھی اور ابھی تک اس بارے میں خاص پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔ ادھر سوشل میڈیا پر اس خبر کے پھیلنے کے بعد بانہال کے بیوپاریوں ، دکانداروں ، پنچایتی نمائندوں اور عام لوگوں نے گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکام پر زور دیا ہے کہ وہ گمشدگی کے اس معمے کو حل کرکے عوامی بے چینی کو ختم کریں۔ اس سلسلے میں ایک مشترکہ میٹنگ بھی منعقد ہوئی اور پولیس حکام سے پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا استعمال کرکے اس گمشدگی کے معاملے کو حل کرنے کی اپیل کی گئی۔ اس سلسلے میں چریل کے سرپنچ قیصر حمید وانی نے کشمیر عظمیٰ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بانہال کی آبادی کے بیس فیصد افراد بھیڑ بکریوں کے کاروبار سے جڑے ہیں اور سالہاسال سے وہ صوبہ جموں کے ادہمپور ، ریاسی ، ڈوڈہ اور کٹھوعہ اضلاع کے علاقوں میں جاتے رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بیوپاری کی گمشدگی کے اپنی نوعیت کے اس دوسرے واقعے نے لوگوں میں سخت تشویش کی لہر دوڑا پیدا کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ریاستی پولیس پر پورا بھروسہ رکھتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ پولیس دیگر دیگر بڑے بڑے کیسوں کی طرح اس کیس کو بھی جلد از جلد سلجھا دینگے اور وہ اس سلسلے میں ضلع پولیس حکام ادہمپور کے رابطے میں ہیں اور مثبت نتائج کیلئے پر امید ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس کیس میں کسی بھی قسم کی کوتاہی برتنے کی صورت میں بانہال کے لوگ سڑکوں پر اترنے کیلئے مجبور ہو جائینگے جس کی تمام ترذمہ داری اعلیٰ حکام پر عائد ہوگی۔ ادھر نیشنل کانفرنس لیڈر اور ضلع صدر رام بن سجاد شاہین نے اس گمشدگی پر اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس سلسلے میں ادہمپور ضلع اور صوبائی پولیس چیف کے رابطے میں ہیں اور امید رکھتے ہیں کہ پولیس جلد از جلد سراغ لگا کر حقائق سامنے لائے گی۔