تازہ ترین

ہجومی تشدد !!!

ہوگئی انسانیت نابود ہے

19 جولائی 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

حافظ محمد ہاشم قادری مصباحی۔۔۔۔ جمشید پور
 تیزی  سے بڑھتے ہوئے ہجومی قتل کے واقعات کا یہ پہلو انتہائی تشویش ناک ہے کہ ظالم بلوائی زورزبردستی اپنے شکار سے مذہبی نعرے بھی لگواتے ہیں۔ تبریز انصاری کا واقعہ ہو یا ضلع اُناؤ(یوپی )کے مدرسے کے بچوں کا واقعہ ہو یا مظفر نگر کے امام جناب اخلاق الرحمٰن کا واقعہ ہو، اس طرح کے اَن گنت واقعات انتہائی افسوس ناک ہیں۔ان واقعات کو دیکھتے ہوئے اسلامی تاریخ سے ہمیں کیا روشنی ملتی ہے؟۔ اسلام میں جہاں ظالم کو معاف کر نے پر اجروثواب کا مژدہ سناتا ہے، وہیں ظالم سے اس کے ظلم کے تناسب سے انصاف کے ساتھ بدلہ لینے کی بھی اجازت دیتا ہے۔ ماب لینچنگ Mob Lynching کے واقعات کے پیش نظر قرآن کریم کی سورہ شوریٰ کی آیت 39سے ہمیں کیا رہنمائی ملتی ہے، اس پر غور فر مائیں اور اس پر عمل فر مائیں !تر جمہ:’’اورجب ان پر زیادتی کی جاتی ہے تو اس کا مقابلہ کر تے ہیں‘‘۔ قرآن کریم ظالموں سے مبنی بر حق مقابلہ کر نا اہل ایمان کا ایک و صف بتاتا ہے، اہل ایمان ظالموں اورجابروں کے لیے نرم چارہ نہیں ہوتے، ان کی نرم خوئی اور عفو درگزر کی عادت کمزوری کی بنا پر نہیں ہوتی، ایمان والوں کو بھکشوؤں اور راہبوں کی طرح ہاتھ پر ہاتھ دھرے  جینا نہیں سکھایاگیا ہے،ان کی شرافت کا تقاضا یہ ہے کہ جب غالب ہوں تو مغلوب کے قصور کو معاف کر دیں، جب قادر ہوں تو بدلہ لینے سے درگزر کریں اور جب کسی زبردست یا کمزور آدمی سے کوئی خطاسرزد ہوجائے تو چشم پوشی کر جائیں، لیکن جب کوئی طاقت ور اپنی طاقت کے ز عم میں تمام حدود توڑ کر ان پر زور زبردستی یاظلم کرے تو مسلمان اس کے خلاف ڈٹ کر کھڑے ہوجائیں اور بہادرانہ مقابلہ کریں اور  ظالم کے دانت کھٹے کردیں۔ غرضمومن کبھی ظالم سے نہیں ڈرتا اور نہ ہی اس متکبرکے آگے جھکتاہے، اس قسم کے بے انصاف لوگوں کے لیے وہ لوہے کا چنا ہوتاہے جسے چبانے کی کوشش کر نے والا اپنا ہی جبڑا توڑلیتا ہے۔
اسلام میں جان وایمان کی حفاظت
 تبریز انصاری مظلوم یا اور بھی لوگ جو ماب لنچینگ میں شہید کئے گئے، ظالموں نے ان سے اپنے مذہبی نعرے بھی لگوائے ، یہ تودیدہ دلیری اور بے شر می کی حد ہو گئی کہ کسی کو مار مار کر قاتل گروہ اس سے اپنے مذہبی نعرے لگواکر مزا لے۔ یہ انتہائی سفاکی اور بے شر می کی بات ہے،جس کی جان پر بنی ہوئی ہے، وہ بے چارہ کیا کرے؟ بحالت مجبوری نعرے بھی لگا تا ہے اور سب کچھ مظلومیت کی حالت میں کہہ دیتا ہے جو متشدد ہجوم اس کی زبانی سننا چاہتا ہو تا کہ ان کی اذیت پسند طبائع کو تشفی ملے ۔ ہمارے ملک کے وزیر اعظم نریندر مودی جی نے جھار کھنڈ کے ظالمانہ سانحہ (جس میں تبریز انصاری اللہ کو پیارے ہوگئے) پارلیمنٹ میں افسوس ضرور جتایا، مگرنہ ہی مجرموں پر کوئی کار روائی کی بات ہوئی اور نہ ہی سسٹم کے تعلق سے سب کا وشواس جیتنے کی کوئی تجویز پیش ہوئی بلکہ جھار کھنڈ کو بدنام کر نے کا جوابی الزام لگا دیا گیا۔بعدازاں پارٹی کی میٹنگ میں پار ٹی کی بدنامی کا افسوس جتا یا جارہا ہے ۔ مسلم خواتین سے جھوٹی ہمدردی دکھانے والا دل کہاں سوگئے؟ کیا تبریز شہید کسی مسلم خاتوں سے جنما نہ تھا ؟کیا شادی کے صرف 57 ؍دن بعد فسطائیوں نے تبریز کی جان لے کر اُس کی جوان سال شریک حیات شائستہ کو بیوہ نہ بنادیا؟ جھارکھنڈ تو لنچیستان بناہوا ہے،18؍مارچ 2016لاتیہار، مظلوم انصاری، امتیاز انصاری18؍ مئی 2017 شیخ حلیم، سراج خان،ببلومشاہیر ہندو (دلت) سے لے کر17جون 2019تبریز انصاری ، سرائے کیلا کھر ساواں تک 19 ؍لوگ موب لینچینگ( ہجومی تشدد) کے ذریعہ شہید کئے جاچکے ہیں ، آپ پوری لسٹ گوگل سے نکال سکتے ہیں۔ ہم فسطائیت کے سیاسی ہم نواؤں سے  اتنا ہی کہہ سکتے ہیں    ؎           
نہ یہ ظلم و ستم ہو تا نہ یہ بے چار گی ہو تی
حکومت کر نے والوں کی نیت نہ گر بری ہوتی
پہنچنا چاند پر انسان کا ہے مسرور کُن لیکن
منور پہلے اپنے دل کی تاریکی تو دورکی ہوتی
ظالم وجابر قاتل بھیڑ کے ذریعہ جب کسی مسلمان کو جان سے مارا جارہا ہو اور اس مظلوم مقتول سے مذہبی نعرے لگوائے جائیں تو مظلوم کے لیے شریعت اسلامیہ نے جان و ایمان کے تحفظ کاراستہ بتایا ہے۔ اس سلسلے میں فقہ کی مشہور کتاب’’ المد خل الی المذاہب ا لفقیہ‘‘ میں مصر کے سابق مفتی جمہوریہ ڈاکٹر مفتی علی جمعہ نے بہت صراحت کے ساتھ شریعت کے مقاصد کو بیان فر مایاہے:’’آپ مقاصد شرع بیان کرتے ہوئے امام غزالی ؒاور دیگر علمائے کرام نے حسب ذیل امور کو شمار کرایا ہے:(1) حفاظتِ جان،(2)حفاظتِ دین،(3)حفاظتِ مال،(4)حفاظت ِعقل،(5) مصر کے مفتی جمہوریہ ڈاکٹر مفتی علی جمعہ نے پہلے نمبر پر حفاظت دین کے بجائے حفاظت جان کو کر دیا ہے اور حفاظت دین کو دوسرے نمبر پر کردیا ہے۔ پھر اس تبدیلی پر ہونے والے شبہات کا تفصیلی جواب دیاہے، جس کا حاصل یہ ہے :
1۔اختلاف ترتیب سے اختلاف معنی پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ چوں کہ نتیجے کے اعتبار سے سب سے اہم دین ہے، یہ بات متفق علیہ ہے، کیوں کہ دراصل دین ہی انسان کی نجات سر مدی کا ضامن ہے۔ اسی طرح یہ امر بھی متفق علیہ ہے کہ جان کی سلامتی کے ساتھ ہی انسان دین ِصحیح پر ثابت پرثابت قدم رہتا ہے۔ اگر جان ہی نہ ہو تو پھر وہ کس دین کی حفاظت کرے گا؟ چنانچہ یہی وجہ ہے کہ حالت ’’اضطرار‘‘ میں حرام بھی حلال ہوجاتاہے اور دل ایمان پر قائم ہو تو زبان سے کفر کے اقرار سے بھی ایمان پر فرق نہیں پڑتا۔ اسی طرح اگر کوئی کافر مسلم ریاست کا وفادار شہری ہے اگر چہ وہ دین کے اعتبار سے کفر پر ہو، اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کی جان رہے گی تب تو وہ آپ کی دعوت کا حق دار ہو گا اور اس کے لیے نجات سر مدی کا دروازہ کھلے گا۔ گویا آغاز کے لحاظ سے جان کی حفاظت اولین شئے ہے،دونوں کی اولیت دو الگ الگ جہتوں سے ہے۔
2۔جب دونوں ترتیب میں معنوی لحاظ سے کوئی فرق نہیں تو پھر مفتی صاحب نے ترتیب کیوں پلٹ دی؟ اس کاجواب مفتی صاحب نے یہ دیا ہے کہ اگر چہ دونوں تر تیب میں معنوی لحاظ سے کوئی فرق نہیں، تاہم میری جدید تر تیب، جس میں جان کی حفاظت کو پہلا مقام دیا گیا ہے، معا صرذہن،عصری تقاضے اور دعوتی نقطئہ نظرسے زیادہ مفید ہے۔ جب ہم یہ کہیں گے کہ اسلام دین کی دعوت کو پہلی ترجیح دیتا ہے، تو ایک شبہ ہو گا کہ اسلام حقوق انسانی کی بات بعد میں کرتا ہے، اپنے مذہب کی بات پہلے کرتا ہے۔ گویا اسلام کی حفاظت کے لیے دوسروں کی جان لینا بھی اسلام میں جائز ہے۔ اس کے بر خلاف جب جان کی حفاظت کو ہم پہلے نمبر رکھیں گے تو یہ پیغام جائے گا کہ اسلام سب سے پہلے پوری انسانیت کی حفاظت اور بقاء کو تر جیح دیتا ہے اور کسی کی جان بچانے کے لیے اس کے حق میں قبول اسلام کوشرط نہیں سمجھتا۔ اسلام پوری انسا نیت کی حفاظت کی ضمانت دیتا ہے، صرف مسلمانوں کو تحفظ فراہم نہیں کرتا۔اس سے یہ ہوگا کہ غیر مسلموں میں اسلام کی اچھی شبیہ قائم ہوگی اور جدید ذہن کے حق میںاسلامی دعوت کے امکا نات وسیع تر ہو جائیں گے۔
 اسلامی تاریخ میں پہلیMob-lynching : 
موجودہ دورمیںہندوستانی مسلمان کے حق میں اس ترتیب جدید کا ایک اور فائدہ سمجھ میں آتا ہے۔وہ یہ کہ ہندوستانی مسلمان ایمانی سطح پر بہت مضبوط مسلمان ہے۔وہ اپنی جان کی بازی لگا سکتا ہے، مگر دین پر حرف آئے،یہ ا ُسے گوارا نہیں۔ وہ اس جوش ایمانی میں عام طور پر اس سے بھی بے خبر ہے کہ مجبوری کے عالم میں زبان پر کلمہ ٔ  کفر لادینے سے بھی ایمان پر حرف نہیںآ تا، اگر دل ایمان پر مطمئن ہو۔ چنانچہ اہل مکہ ایک دن چند غریب مسلمانوںکو باندھ کر انہیں زود کوب کر نے لگے، یہ مسلمانوں کے ساتھ اسلامی تاریخ میں پہلی ماب لنچینگ ہوئی تھی اور اس میں پہلی جان جوشہید ہوئی تھی،وہ حضرت عمارؓ کی والدہ حضرت سمیہؓ کی تھی۔ وہ کہتے تھے ہمارے خدائوں کی جے پکا رو۔ہبل اور لات منات کا نعرہ لگائو۔ حضرت سمیہ ؓنے نعرہ نہیں لگایا، ظالموں نے انہیں بے رحمی سے شہید کردیا۔ اب حضرت یاسرؓ کی باری تھی، انہوں نے یہ نعرہ نہیں لگایا، ظالموں نے انہیں بھی شہید کردیا۔ اب حضرت عمارؓ کی باری تھی۔اپنی نگاہوں کے سامنے اپنے والدین کا حشر دیکھ چکے تھے۔ ان پر جان جانے کا خوف طاری ہوا اور انہوں نے ان باطل خدائوں کی جے پکار دی۔ جب بار گاہ رسالت مآب ؐمیں حاضر ہوئے، سہمے ہوئے تھے۔آنسوئوں کا سمندر رﷺواں تھا۔ آپ ﷺ نے فر مایا: عمارؓ کیا ہوا؟ عرض کیا: حضورؐ! میں نے آپ ؐکی شان میں بھی گستاخی کردی اور باطل خدائوں کی بھی جے جے کار کردی۔ ارشاد ہوا: عمارؓ! دل کا کیا حال ہے؟ عرض کیا:حضورؐ! دل تو ایمان پر مطمئن ہے۔
 نبی رحمت  ﷺ  نے یہ سب کر حضرت عمارؓ کو محبت و رحمت کے ساتھ پھر سے اجازت دے دی: عمارؓ! اگر یہ ظالم پھر سے یہ ظلم ڈھائیں تو پھر سے تم کو اس ظاہری کفر کی اجازت ہے۔ قرآن پاک کی آیت کریمہ نازل ہوئی۔:   (ترجمہ) جو ایمان لانے کے بعد اللہ کے ساتھ کفر کرے سوائے اس آدمی کے جسے (کفر پر)مجبور کیا جائے اور اس کا دل ایمان پر جمع ہوا ہو لیکن وہ جودل کھول کر کافر ہوں ان پر اللہ کا غضب ہے اور ان کے لیے بڑا عذاب ہے ۔(سورہ نحل16:،آیت:106 )یعنی حالت ِمجبوری میں ،دل اگر ایمان پر قائم ہے تو زبان سے کفری کلمات اداہوجانا،قابل مواخذہ نہیں! آج ہندوستان میں پھر سے اس مکی دور کی آمد ِثانی ہو تی نظر آرہی ہے ۔آج اہل ایمان کو پھر سے اسی دینی رُخصت کی اجازت ہے۔مسلمان اپنے دلوں کو ایمان سے لبریز رکھیں اور ظاہری طور پر مجبوری کی حالت میں بلوائیوں کے روبرو کفر بول کر اگر اپنی جان بچانے کا موقع ملے تو خود کو بچائیں کیوں کہ مسلمان کی جانیں بہت قیمتی ہیں، شریعت کی وسعت میں ان کے جان و ایمان دونوں کے تحفظ کا راستہ موجود ہے ۔حضرت عمارؓ کا اسوہ مسلمانوں کے لیے رہبری کاسامان ہے اور نبی رحمت  ﷺ کے کلمات محبت ان کے لیے تسلی و تسکین کے باعث ہیں۔ اللہ سے دعا ہے کہ اللہ ہم تمام مسلمانوں کی جان و مال عزت و آبرو کی حفاظت فرمائے اور ایمان پر خاتمہ نصیب فرمائے۔ اور اس ملک کیے صدیوں پرانے بھائی چارے اور گنگا جمنی تہذیب کو ثبات وقراد عطاکرے  (آمین)،
Email:hhmhashim786@gmail.com
 رابطہ:  09431332338 ،09386379632