تازہ ترین

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

19 جولائی 2019 (00 : 01 AM)   
(   صدر مفتی دارالافتاء دارالعلوم رحیمہ بانڈی پورہ    )

مفتی نذیر احمد قاسمی
 سوال: پچھلے شمارے میں آپ نے لکھا تھا کہ طواف کا طریقہ یہ ہے کہ مطاف کے اندر کالی پٹی پر کھڑے ہو کر طواف شروع کیا جائے حالانکہ مطاف کے اندر کوئی کالی پٹی نہیں ہے؟
سوال:۔ اگر کسی عورت کو حیض کاعذر پیش آجائے اورا س نے طواف زیارت نہ کیا ہو اور واپسی کو وقت قریب آجائے ،اس کےلئے کیا حکم ہے۔ وہ کیا کریگی؟
سوال:۔ حج کرنے والےحضرات حج کے دوران قربانی کرتے ہیں۔ وہ قربانی جو ہر سال گھر میں کی جاتی ہے کیا وہ قربانی بھی جائز ہے؟
محمد خالد 
رعناواری سرینگر

طوافِ کعبہ شروع کرنے کا مقام

جواب:۔ سوالات کی ترتیب کے مطابق جوابات ملاحظہ ہوں
(۱) مطاف میں جس مقام سے طواف شروع کیا جاتا ہے وہ حجر اسود ہے۔ اس حجر اسود کے مقابل ایک سیاہ پٹی بنائی گئی تھی او ر وہ علامت تھی کہ اس جگہ سے طواف شروع کیا جائے ۔چنانچہ چند سال پہلے تک یہ پٹی مطاف میں موجود تھی مگر شدید اژدھام کی وجہ سے طواف کرنے کے دوران اس سیاہ لکیر کی وجہ سے رکاوٹیں پیدا ہونے لگیں۔ اس لئے حرم مکی کی انتظامیہ نے سو چ بچار کے بعد اُس سیاہ پٹی کو ہٹا دینے کا فیصلہ کیا۔چنانچہ مطاف کے فرش پر سفید ماربل کے بیچ سیاہ ماربل کی وہ لکیر ختم کر دی گئی۔ اب پورے مطاف میں صرف سفید ماربل کا فرش ہے اور وہ سیاہ پٹی ختم کر دی گئی۔ اب آج طواف کا طریقہ یہ ہے کہ حجر اسود کے سامنے آکر استقبال کعبہ کریں۔ پھر استیلام کریں اور طواف شروع کریں، دراصل سیاہ پٹی لکھنے کی ضرورت سابق صورت حال کی بنا پر تھا۔ آج طواف شروع کرنے سے پہلے دیکھیں دائیں کندھے کے مقابل کیا سبز لائٹ آگئی یا نہیں ،جب گرین لائٹ دائیں کندھے کے ٹھیک مقابل آجائے تو اس جگہ یقیناً بائیں کندھے کے سامنے حجر اسود ہوگا ۔ وہاں سے طواف شروع کریں۔

طوافِ زیارت اور خواتین کے عذر کا مسئلہ 

(۲) طواف زیارت فرض ہے۔ جس عورت نے طواف زیارت نہ کیا ہو اگر اُسے حیض کا عذر پیش آگیا تو وہ ہر گز اپنے ملک واپس نہ جائے اور نہ ہی حیض کی حالت میں حرم کے اندر داخل ہو بلکہ پاک ہونے کا انتظار کرتی رہے۔اُس کےلئے صرف ایک یہی حل ہے اور وہ یہ کہ وہ حج کمیٹی کو درخواست دے کر اپنی واپسی کی تاریخ مؤخر کر ادے۔ پھر پاک ہو کر طواف زیارت کرے اُس کے بعد واپسی کا سفر کرے ۔

حج کرنے والے کےلئے قربانی لازم

(۳) مالدار ہونے کی وجہ سے ہر مسلمان پر جیسے زکوٰۃ لازم ہوتی ہے اُسی طرح قربانی بھی لازم ہوتی ہے ۔ اب جو شخص حج کرنے چلا گیا اُس پر وہ قربانی بھی لازم ہے جو وہ ہر سال عید الاضحی کے موقعہ پر کرتا ہے ۔ اب سفر حج کی بنا پر وہ قربانی معاف نہیں ہوگی۔ ہاں اُسے اختیار ہے کہ وہ چاہئے یہ قربانی مکہ مکرمہ میں کرے یا اپنے گھرپہ قربانی کرائے ۔اگر اُس نے مکہ مکرمہ میں پہ قربانی کی تو اُسے دو قربانیاں کرنی شرعاً لازم ہونگی۔ ایک حج کی اور ایک عید الاضحیٰ کی۔
سوال:۔ جب حنفی مسلک کے مطابق ایک مقتدی کا امام کے پیچھے جہری اور سری نمازیں ادا کرتے وقت سکوت اور استعماع رکھنا ہوتا ہے تو پھر وہ تعوذ اور تسمیہ کیوں پڑھے؟ یوں تو شرعی لحاظ سے تعوذ فقط پہلی رکعت  میں اور تسمیہ ہر رکعت میں ہے۔وضاحت چاہتا ہوں کہ کیا تسمیہ سورہ فاتحہ سے قبل اور ضم سورہ سے قبل بھی ہے؟ یعنی کہ ضم سورہ والی ہر رکعت میں تسمیہ کا جُز دو بار استعمال ہوتا ہے یا نہیں ہوتا ہے؟
سوال:۔ ہر اُس نماز ،جس میں سورہ فاتحہ کے بعد قرآن پاک کی کوئی سورت یا آیات کریمہ’’ ضم سورہ ‘‘ کے طور پڑھنے ہوتے ہیں ، کے ضمن میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوگا کہ تفصیل سےہر رکعت میں ضم سورہ پڑھنے کی ترتیب و ترکیب سے شرعی طور روشناس فرمائیں۔ چاررکعت والی سنت نمازوں میں ایک تو ترتیب بتانے کی زحمت گوارا فرمائیں دوئم اگر کسی کو زیادہ سورتیں یا قرآن پاک کی آیات حفظ نہ ہوں تو ایسے میں شرعی طور کیا کرناہوتا ہے؟۔
سوال:۔ زید کی بیوی بغیر بچہ جنے فوت ہوگئی ہے ۔ اپنے پیچھے مہر کی نقدی رقم اور سونے کے زیورات چھوڑ گئی۔ ایسی صورتحال میں اُسے پیشگی ملےمہرکا کون دعویدار ہوسکتا ہے ۔ شرعی طور آگاہ فرمائیں؟۔
سوال:۔ شرعی طور و ترنماز رات کےپہروں کی آخری نماز قرار دی گئی ہے اور اسے صبح کی نماز سے قبل ادا کرنے میں سبقت لینا پڑتی ہے ۔ اشکال یہ پیش آتا ہے کہ تہجد کی نماز ادا کرنے کےلئے کیا وترنماز کو عشاء نماز ادا کرنے کے دوران مؤخر کرنا ہوتا ہے؟
غلام حسن وانی 
نیوہ پلوامہ کشمیر

اقتداء میں تعوذ اور تسمیہ پڑھنے کا عمل

جواب:۔     سوال نامہ میں در ج شدہ سوالات کے جوابات ملاحظہ ہوں۔
(۱) تعوذ یعنی اعوذ باللہ پڑھنا اور تسمیہ یعنی بسمہ اللہ پڑھنا مقتدی کا عمل نہیں ہے۔ دراصل ،تعوذ اور تسمیہ ،دونوں کا تعلق قرأت کے ساتھ ہے۔ جس شخص کو قرأت کرنی ہو وہی پہلی رکعت میں تعوذ اور تسمیہ پڑھے گا اور بعد کی ہر رکعت کے شروع میںصرف تسمیہ پڑھنا سنت ہے۔ اسلئے جماعت کی نماز میں مقتدی کو پہلی رکعت میں سبحانک پڑھ کر خاموش رہنا ہے۔۔ہاں امام ہر رکعت کے شروع میںتسمیہ پڑھے۔امام کو پہلی رکعت میں سبحانک ، تعوذ ، تسمیہ اور پھر سورہ فاتحہ اور ضم سورہ پڑھنا ہوتا ہے اور پھر بعد کی ہر رکعت کے شروع میں امام کو صرف تسمیہ پڑھنا ہےاور ضم سورہ کے شروع میں اگرتسمیہ پڑھا جائے تو بہت بہتر اور افضل ہے۔ اگر تسمیہ نہ پڑھے تب بھی درست ہے ۔اکیلے نماز پڑھنے والے کو پہلی رکعت کے شروع میں سبحانک ،تعوذ ، تسمیہ پڑھنا ہے۔اس کے بعد سورہ فاتحہ اور ضم سورہ پڑھے بعد کی ہر رکعت کے شروع میں صرف تسمیہ پڑھے اور ضم سورہ کے ساتھ تسمیہ پڑھے تو افضل ہے،نہ پڑھے تو یہ بھی درست ہے۔
سورتوں کی ترتیب میں دانستہ خلاف ورزی قرآن کریم کی حق تلفی
(۲) فرض نماز کی پہلی دو رکعتوں میں سورہ فاتحہ اور ضم سورہ دونوں واجب ہیں۔ بعد کی رکعتوں میں صرف سورہ فاتحہ پڑھنا ہے ۔سنت ،نوافل اور وتر کی ہر رکعت میں سورہ فاتحہ اور ضم سورہ دونوں واجب ہیں۔ قرآن کریم میں سورتوں کی جو ترتیب ہے اسی ترتیب کے مطابق ضم سورہ کیا جائے۔ جان بوجھ کر ترتیب کی خلاف ورزی کرنا قرآن کریم کی حق تلفی ہے ۔ اس پر توبہ کرنی چاہئے اور آئندہ ترتیب کی خلاف ورزی سے بچنے کا پورا عہد کرنا چاہئے۔
جس شخص کو زیادہ صورتیں یاد نہ ہوں، اس کے لئے حکم ہے کہ وہ سورتیں یاد کرنے کی پوری کوشش کرے۔ آیت الکرسی، سورہ اخلاص، سبحان ربک رب العزۃ۔۔۔الخ تو عموماً ہر نمازی کو یاد ہوتی ہیں ۔ ضم سورہ کی جگہ ان کو پڑھنا درست ہے۔ تاہم اصل حکم یہ ہے کہ سورتیں یاد کی جائیں ۔ قرآن کریم کی چھوٹی سورتیں یا دکرنا یقیناً آسان ہے مگر اس کےلئے شوق  ہو ، فکر ہو، عزم ہو اور یاد نہ ہونے کا غم ہو تو پھر کوئی مشکل نہیں۔ چند منٹوں میں ایک چھوٹی سورت مثلاً و العصر یاد کرنا ہر شخص کے لئے ممکن ہے۔ تجربہ بھی ہے۔
بہر حال اگر کسی نے زیادہ سورتیں یا دنہ ہونے کی بنا پر ہر رکعت میں صرف سورہ اخلاص پڑھی تو نماز سر سے اتر جائے گی ۔
فوت شدہ لاولد خاتون۔۔۔۔ مہر اور زیورات کا حق؟
(۳) جس خاتون کی وفات ہوگئی اور اُس نے اپنے پیچھے کوئی اولاد نہیں چھوڑی اُس کا مہر، زیور، نقدی رقوم اور جہیز اور میکے کی طرف سے دیا گیا تمام سامان جمع کیا جائے۔ پھر اس پورے میں سے نصف اُس خاتون کے شوہر اور بقیہ اُس کے والدین کو دیا جائے اگر وہ زندہ نہ ہوں تو اُس کے بہن بھائیوں کا حق ہے۔
تہجد کے بعد وترکی ادائیگی افضل!
(۴) وتر کی نماز کے لئے افضل وقت یہ ہے کہ تہجد کی نماز کے بعد وتر ادا کئے جائیں لیکن اگر اس بات کا خدشہ ہو کہ ممکن ہے کہ تہجد کی نماز کےلئے آنکھ نہ کھل سکے تو اس صورت میں وتر قضا ہو جائےگی۔ ایسی صورت میں بہتریہی ہے کہ نماز عشاء کے ساتھ ہی وتر کی نماز ادا کی لی جائے۔ پھر اگر تہجد کی نماز کےلئے بیدار ہو پائے تو نماز وتر دوبارہ پڑھنے کی ضرورت نہیں ہے صرف تہجد کی نماز ادا کرنے پر اکتفا کریں۔
اگر کسی شخص نے نماز عشاء کے ساتھ وتر کی نماز نہیں پڑھی اور اُس کا ارادہ تھا کہ وہ تہجد کے ساتھ وتر ادا کرے گا مگر وہ تہجد میں بیدار نہ ہوسکا ۔ اس طرح وتر کی نماز چھوٹ گئی اب اس کو وتر کی قضا کرنا لازم ہے۔ یہ قضا کسی بھی وقت درست ہے۔ افضل یہ ہے کہ طلوع آفتاب کے بعد وتر پڑھے۔
سوال:۱- ایک لڑکی اگر طلاق لینا چا ہے تو کیا وہ یا زمین اور دیگر اموال ،واپس لاسکتی ہے یا کہ اس پر شوہر کا ہی حق ہے اور وہ اس کو اپنے پاس رکھ سکتاہے ۔جب کہ بدلِ خلع میں شوہر صرف حق مہر کا ہی حقدار ہوتاہے ۔ 
سوال:۲-دوسری صورت اگر لڑکا طلاق دینا چاہے تو وہ لڑکی کو مائیکہ اور سسرال اور سسرالی رشتہ داروں کی طرف سے دیئے گئے تحائف لڑکی کو واپس کرسکتاہے یا نہیں ؟
نورالحسن 

شوہر میں خرابی ہو تو خلع کا عوض لینا گناہ 

جواب:۱-جب زوجہ طلاق کا مطالبہ کرے تو شوہر کو حق ہے کہ وہ عوضِ طلاق کا مطالبہ کرے لیکن اگر شوہر کے ظلم یا کسی دوسری کوتاہی کی بناء پر زوجہ مجبورہوکر طلاق کا مطالبہ کرے تو ایسی صورت میں شوہر کا عوض طلب کرنا جائز نہیں ہے ۔ اب اگر اس نے عوض طلب کرلیا اور لڑکی اپنی گلوخلاصی کے لئے مجبوراً عوض دیدے تو عورت کو کوئی گناہ نہ ہوگا۔اگر بدل طلاق جس کو بدلِ خلع بھی کہتے ہیں ،میں صرف مہر طے ہوا تو بقیہ تمام چیزیں عورت کا ہی حق ہے اور اگر بدلِ خلع میں مہر اور دیگر اشیاء کا مطالبہ کیا گیا اور عورت نے اپنی جان چھڑانے کے لئے مجبوراً قبول کرلیا تو پھر مہر اور دیگر وہ اشیاء جو بدلِ خلع میں طے کی گئیں وہ شوہر کو دینی ہوں گی ۔
جب کوئی شوہر یہ کہے کہ میری بیوی مجھ سے چھٹکارا چاہتی ہے میں کس کس چیز کا مطالبہ کرسکتاہوں تو جواب یہ ہوگاکہ اگر وہ خواہ مخواہ رشتہ ختم کرنے پر مُصر ہے تو پھر جومہر اور زیورات شوہر نے دئے ہیں اُن کی واپسی کی شرط پر خلع کرسکتے ہیں لیکن اگر خامی اورخرابی شوہر میں ہے تو کچھ بھی لینا گناہ ہے ۔
جواب:۲-جب شوہر از خود طلاق دے تو ایسی صورت میں عورت کو مہر اور دیگر تمام اشیاء چاہے وہ میکے والوں کی طرف سے دی گئی ہوں یا سسرال والوں کی طرف سے ، یہ سب اُس مطلقہ کا حق ہے اور شوہر اُن میں سے کچھ بھی نہیں لے سکتا۔