تازہ ترین

منشیات کی خوفناک وباء۔۔۔سماج کےلئے چیلینج‎

19 جولائی 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

وادیٔ کشمیر میں جس رفتار کے ساتھ منشیات کے استعمال کی وباء پھیل رہی ہے وہ کسی بھی سنجیدہ فکر اور درد دل رکھنے والے شہری کےلئے المناک ہے۔ تحقیقی رپورٹس کے مطابق فی الوقت وادی میں 70ہزار لوگ منشیات کی لت میں مبتلا ء ہوگئے ہیں جن میں 4ہزار سے زائید خواتین بھی شامل ہیں۔ جموںوکشمیر کےسماج میں خواتین کا سماج سازی میں کلیدی رول رہا ہے اور اگر صنف نازک  منشیات کے استعمال میں مبتلاء ہوجائے تو لازمی طور پر آئندہ برسوں میں ایک ایسے سماج کی تشکیل یقینی ہے جو نوع انسانی کےلئے بے بیان مشکلات اور مصائب کا سبب بن سکتا ہے۔ دیکھنے میں آیا ہے دنیا بھر میں سیاسی تصادم آرائی سے مخصوص علاقے کسی نہ کسی مرحلہ پر منشیات میں مبتلاء ہو جاتے ہیں اور ایساماضی میںپنجاب میں بھی دیکھنے کو ملا ہے، جہاں اُس وقت مسلح تصادم آرائیاں ہو رہی تھیں اور اُس ریاست میں ایک منظم مافیا تیار ہوگیا، جس کی سرگرمیاں، پولیس کی طرف سے کی گئی کاروائیوں کے مطابق،جموںوکشمیر میں بھی پھیل گئیں۔ اعداد و شمار کے مطابق صرف صدر ہسپتال اور پولیس رہبیلی ٹیشن سینٹر میں 10ہزار سے زائید منیشوں کا اندراج کیا گیا ہے جبکہ متعدد ایسے متاثرین ہیں، جنکے والدین اُنہیں مالی سختیوں کے باوجود بیرون ریاست علاج کےلئے لے جانے پر مجبور ہیں۔اگرچہ ہر دن پولیس کی جانب سے منشیات سمگلروں کو پکڑے جانے کی خبریں موصول ہوتی رہتی ہیں لیکن انفرادی گرفتاریوں کے باوجود منشیات کی زنجیر میں منسلک افراد پر ہاتھ نہیں ڈالا جاتا۔ المیہ تو یہ ہے کہ کشمیر سے کٹھوعہ تک پوری ریاست اس وباء کی لپیٹ میں آچکی ہے ۔گو پولیس کا دعویٰ ہے کہ وہ منشیات مخالف مہم میں سرگرم ہے تاہم زمینی صورتحال یہ ہے کہ ریاست منشیات کے خریدو فروخت کی پسندیدہ جگہ بن چکی ہے۔ جہاں تک وادی کشمیر کا تعلق ہے تو یہ بات بلا خوف تردید کہی جاسکتی ہے کہ چند برس قبل تک کشمیری سماج اس خجالت سے مکمل طور ناآشنا تھا بلکہ یہاں تمباکو کو چھوڑ کر دیگر انواع کے نشوں کے بارے میں سوچنا اور بات کرنا بھی گناہ عظیم تصور کیاجاتا تھا تاہم اب وہ صورتحال نہیں رہی ہے۔چینیوں کو تودہائیوں قبل اس لت سے نجات مل گئی تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کشمیر اس دلدل میں پھنستے ہی جارہا ہے اور یہاں ہرگزرنے والے سال کے ساتھ ساتھ نہ صرف منشیات کا کاروبار فروغ پارہا ہے بلکہ منشیات کے عادی افراد کی تعداد میںتیزی کےساتھ اضافہ ہی ہوتا جارہا ہے ۔ ماہرین نفسیات  کے مطابق16 سے 30برس کے درمیانی عمروں کے لوگ اس خباثت کی طرف زیادہ آسانی سے راغب ہوتے ہیںجبکہ فی کس منشیات کے استعمال پر ماہانہ لاکھوں روپے خرچ ہوتا ہے۔ یہ پیسہ کہاں سےآتا ہے ؟ظاہر ہے انہیں غیر قانونی سرگرمیوں میں مبتلا ہونا پڑتا ہے۔1980کے دوران تک ہیروئن اور دوسری سخت نشہ آو ر چیزیں ممبئی سے آ یا کرتی تھیں، لیکن پولیس کا ماننا ہےکہ1990کے بعد ریاست ہیروئن اور اس سے وابستہ اشیاء کی اسمگلنگ کا بین الاقوامی ٹرانزٹ پوائنٹ بن رہی ہے ۔ایک مقامی رضاکار تنظیم کی ایک تحقیق کے مطابق کشمیر میں منشیات کی وباء طوفان کی رفتار سے بڑھ رہی ہے اور تشویشناک امر یہ ہے کہ چھوٹے بچے اور نوجوان ، جس میں طلباء اور طالبات کی ایک اچھی خاصی تعداد بھی شامل ہے ،اس کا شکار ہورہے ہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر یہ سب کچھ سرکاری حکام کی ناک کے نیچے کیسے ممکن ہوپاتا ہے؟ بھنگ، پوست اور ایسی دوسری نشہ آور فصلیں این ڈی پی ایس ایکٹ، 1985 کی دفعہ 18 کے تحت ایک قابل سزا جرم ہے اور اس کیلئے مجرم کو 10 سال قید با مشقت اور ایک لاکھ روپے تک کا جرمانہ ہو سکتا ہے۔ایسی منشیات کو خریدنا اور فروخت کرنا بھی اس قانون کی دفعہ 15 کے تحت جرم ہے۔ مرکزی حکومت کے ذریعے پاس کئے گئے اس قانون کو ریاستی حکومتیں اپنی زمینی حقائق کی بنیاد پر نافذ کرتی ہیں۔ اگرچہ اس قانو ن کی دفعہ 10 ریاستی حکومت کو اس بات کی اجازت دیتی ہے کہ وہ افیم اور پوست کے پودوں اور دوائوں میں استعمال ہونے والی افیم اور بھنگ کی کھیتی کی بین الریاستی حرکت پر روک لگا سکتے اور اسے ضبط کر سکتے ہیں تاہم عملی طور ایسا کچھ ہوتا دکھائی نہیں دیتا ہے بلکہ اگر حق گوئی سے کام لیاجائے تو حکومتی سطح پر صرف کاغذی گھوڑے دوڑائے جارہے ہیں جبکہ عملی سطح پر بہت کم کام ہورہا ہے ،جس کے نتیجہ میں ہماری نوجوان نسل اس دلدل میں پھنستی ہی چلی جارہی ہے اور اگر یہی رجحان جاری رہا تو کشمیری سماج  کے مستقبل کے بارے میں کچھ وثوق کے ساتھ نہیں کہا جاسکتا ہے ۔اگر افیم زدہ چینی قوم ،جو جاپانی راج کے زیر تسلط اس میں غرق ہوگئی تھی،اس خجالت سے نجات پاسکتی ہے توماضی قریب تک اس لعنت سے نامانوس کشمیری قوم کیوں نشے کے سمندر میں غرق ہوتی جارہی ہے ۔یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا ارباب حل و عقد اور اہل دانش اور سماجی حلقوں کو جواب  دینا پڑے گا،وگرنہ یہی کہاجائے گا کہ ارباب اختیار، سیاستدان اور سماجی رہنما کشمیریوں کی بربادی کا تماشا دیکھنے پر تلے ہوئے ہیں ،جو کسی صدمہ عظیم سے کم نہ ہوگا۔ فی الوقت ریاست میں صدر راج نافذ ہے اور ریاستی انتظامیہ مقامی سطح کے سیاسی دبائو سے آزاد ہے لہٰذ اس کےلئے یہ موقع ہے کہ گورنر انتظامیہ اس وباء کےخلاف مؤثر اور منصوبہ بند پالیسی کے ذریعہ ریاستی عوام کو اس مصیبت سے نجات دلائے۔