تازہ ترین

جنگجوؤں کی تعداد میں تنزلی

لیہہ اور کرگل ملی ٹینسی سے آزاد، گاندربل میں کوئی جنگجو نہیں

19 جولائی 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

بلال فرقانی

  بالائے زمین ورکروں میں اضافہ،پولیس کرائم برانچ کے سالانہ کرائم گزیٹ رپورٹ میں اعدادوشمار پیش

 
سرینگر//ریاستی حکومت کا کہنا ہے کہ2017سے متحرک جنگجوئوں کے گراف میں تنزلی پیدا ہوئی ہے،تاہم بالائے زمین کارکنوں کے نیٹ ورک میں اضافہ ہوا ہے،جو کہ سیکورٹی گرڈکیلئے ایک اور بڑا سنگین مسئلہ پیدا ہوگیا ہے۔ پولیس کرائم برانچ کے سالانہ کرائم گزیٹ رپورٹ کے مطابق سرینگر میں جنگجوئوں کی تعداد11ہے،جبکہ بالائے زمین کارکنوں کی تعداد112تک پہنچ چکی ہے۔پولیس کے ڈائریکٹر جنرل دلباغ سنگھ کی طرف سے حالیہ دنوں میں منظر عام پر لائے گئے اس گزیٹ کے مطابق سرحدی ضلع کپوارہ میں(پولیس ڈسڑکٹ)میں9متحرک عسکریت پسند ہیں،جبکہ بالائے زمین کارکنوں کی تعداد32تک پہنچ گئی ہے۔رپورٹ میں اس بات کا انکشاف کیا گیا ہے’’ہندوارہ علاقے میں23متحرک جنگجوئوں کے علاوہ496بالائے زمین کارکن بھی موجود ہیں،جبکہ بارہمولہ میں صرف3متحرک جنگجو ہیں،تاہم بالائے زمین کارکنوں کی تعداد26اور سوپور میں متحرک جنگجوئوں کی تعداد30اور بالائے زمین کارکنوں کی تعداد15 تک پہنچ چکی ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق بڈگام میں4متحرک جنگجو ہیں،تاہم بالائے زمین کارکنوں کی تعداد 89ہے،وہیں گاندربل میں کوئی بھی جنگجو متحرک نہیں ہے،مگر38بالائے زمین کارکن موجود ہیں۔ رپورٹ میں جنوبی کشمیر کے بارے میںبتایا گیا ہے کہ شوپیاں میں متحرک جنگجوئوں کی تعداد39 ہے،جبکہ بالائے زمین کارکنوں کی تعداد136ہے، ضلع اننت ناگ میں23متحرک جنگجوئوں کے علاوہ130بالائے زمین کارکن بھی موجود ہیں۔پولیس ضلع اونتی پورہ میں25 متحرک جنگجوئوںکے علاوہ71 بالائے زمین کارکن بھی موجود ہیں۔ جنوبی ضلع کولگام میں29متحرک جنگجوئوں کے علاوہ317 بالائے زمین ورکر بھی کام کررہے ہیں،جبکہ ضلع پلوامہ میں36جنگجوئوں کے علاوہ92بالائے زمین کارکن کام کررہے ہیں۔رپورٹ کے مطابق ریاست کے لیہہ اور کرگل اضلاع میں کوئی بھی جنگجو نہیں ہے،اور نا ہی کوئی بالائے زمین کارکن متحرک ہے۔ رپورٹ کے مطابق خطہ چناب میں اگرچہ متحرک جنگجوئوں کی تعداد کم ہے تاہم بالائے زمین کارکن سیکورٹی ایجنسیوں کیلئے تشویش کن بن چکے ہیں،سانبہ میں بھی کوئی بھی جنگجو متحرک ہے اور ناہی کوئی بالائے زمین کارکن ہے۔تاہم رپورٹ کے مطابق ضلع ڈوڈہ میں اگر چہ کوئی بھی جنگجو متحرک نہیں ہے،تاہم بالائے زمین کارکنوں کی تعداد122ہے۔ پولیس کے کرائم برانچ کی طرف سے مرتب شدہ شماریات کے مطابق ضلع میں2متحرک جنگجو اور39بالائے زمین کارکن ہے،جبکہ ریاسی میں کوئی بھی جنگجو متحرک نہیں مگر بالائے زمین کارکنوں کی تعداد182ہے۔ رپورٹ کے مطابق راجوری میں5عسکریت پسند متحرک ہیں اور راجوری میں 80بالائے زمین کارکن ہے۔کشتواڑ کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہاں متحرک جنگجوئوں کی تعداد7اور بالائے زمین کارکنوں کی تعداد135ہے۔