تازہ ترین

مزید خبرں

18 جولائی 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

سمگلنگ کی کوشش ناکام

۔6مویشی بازیاب

زاہد ملک 
 
ریاسی //پولیس نے مویشی سمگلنگ کے خلاف اپنی مہم جاری رکھتے ہوئے ریاسی ضلع میں 6مویشیوں کو بازیاب کیاجنہیں غیر قانونی طور پر دوسری جگہ سمگل کیاجارہاتھا۔ایس ایس پی ریاسی نیشا نتھیال کی ہدایت پر پولیس تھانہ چسانہ کی ایک ٹیم نے مصدقہ اطلاع ملنے پر 6مویشیوں کو بازیاب کرایا۔پولیس کے مطابق اس سلسلے میں مویشی سمگلر ممتاز احمد ولد عبداللہ ساکن بیگوداس کو حراست میں لیاگیاہے ۔پولیس نے بتایاکہ ان مویشیوں کو غیر قانونی طریقہ سے کشمیر منتقل کیاجارہاتھا ۔اس ضمن میں پولیس تھانہ چسانہ میں ایف آئی آر زیر نمبر34/19زیر دفعہ 188کاکیس درج کرکے مزید تحقیقات شروع کردی گئی ہے ۔یہ کارروائی ایس ڈی پی او مہور ذاکر شاہین مرزا اور ایڈیشنل ایس پی ریاسی شیو کمار چوہان کی نگرانی میں انجام دی گئی ۔
 

 رام بن کے دور افتادہ علاقے بنیادی سہولیات سے محروم

ایم ایم پرویز
 
رام بن//ضلع رام بن کے دور دراز علاقوں کے لوگ بنیادی سہولیات جیسے بجلی،پینے کے پانی ،رابطہ سڑکوں اور طبی سہولیات سے محروم ہیں ۔ پبلک ہیلتھ سینٹر وں اورڈسپنسریوں میں طبی عملہ کی کمی، پینے کے صاف پانی ،بجلی اور رابطہ سڑکوں کی کمی سے لوگوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔لوگوں نے شکایت کی کہ آزادی کے72سال بعد بھی وہ بنیادی سہولیات سے محروم ہیں جو بد قسمتی کی بات ہے۔انہوں نے کہا کہ صوبائی انتظامیہ ضلع رام بن خاص طور سے راج گڑھ کمیت کے لوگوں کو جان بوجھ کرنظر انداز کر رہی ہے۔لوگوں نے گورنر انتظامیہ کی طرف سے تعلیم یافتہ بے روزگار نوجوانوں کیلئے ریاستی اور مرکزی سے پروجیکٹوں میں ملازمت کے مواقع پیداکرنے کی مانگ کی ۔انہوں نے کہاکہ ان نوجوانوں کا آج تک ہر ایک نے استحصال کیا اور ان کے ساتھ جھوٹے وعدے کئے گئے ۔
 
 

کشتواڑ ہسپتال کی حالت پر تشویش کا اظہار

کشتواڑ //ضلع ہسپتال کشتواڑ کی حالت زار پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سماجی کارکن جوگیندر بھنڈاری نے کہاکہ مناسب ڈھانچہ نہ ہونے کی وجہ سے ضلع کے لوگوں کو شدید متاثر ہوناپڑرہاہے ۔یہاں جاری بیان میں بھنڈاری نے کہاکہ 2007میں ڈوڈہ سے الگ ہوکر نئے ضلع کے طور پر وجود میں آنے والے کشتواڑ ضلع کو نظرانداز کردیاگیاہے اور خاص طور پر طبی خدمات کی فراہمی کے دعوئوں کی نفی ہورہی ہے۔انہوں نے کہاکہ ضلع کے مریضوں کو اس بات کیلئے مجبور کیاجارہاہے کہ وہ علاج کیلئے جموں کے ہسپتالوں کا رخ کریں جو نہ صرف تکلیف دہ ہے بلکہ کافی مہنگا بھی ۔انہوں نے الزام عائد کیاکہ ڈاکٹر رات کوتیمارداروں کی طرف سے اپیل کئے جانے کے باوجود بھی وارڈوں کا رخ نہیں کرتے اور وہ ڈیوٹی اوقات کار کے دوران بھی اپنی نجی کلینکوں میں بیٹھے رہتے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ ہسپتال کے نظام میں کافی زیادہ خرابیاں پائی جارہی ہیں جن کو دور کرنے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے بنیادی ڈھانچے اور مشینری کی فراہمی کا مطالبہ بھی کیا ۔انہوں نے کہاکہ ضلع میں کوئی دن ایسا نہیں گزرتاجب حادثات نہ ہوں اور ایسے میں ہسپتال میں طبی خدمات کی عدم فراہمی ایک سنگین مسئلہ ہے۔