تازہ ترین

نئی حد بندی نہیں ہوسکتی

لوک سبھا کے بعد راجیہ سبھا میں مرکز کی وضاحت

18 جولائی 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

یوگیش سگوترہ

  خصوصی آئینی پوزیشن کی وجہ سے جموں وکشمیر میں اقدام نہیں کیا جاسکتا:مرکز

 
جموں//مرکزی حکومت نے ایک بار پھر کہاہے کہ ریاست جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی پوزیشن کی وجہ سے اسمبلی حلقوں کی حد بندی سے متعلق کوئی اقدام نہیں کیاجاسکتا۔ لوک سبھا کے بعد راجیہ سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں وزیر مملکت برائے داخلہ امورجی کشن ریڈی نے کہاکہ جموں کشمیر میں اسمبلی حلقوں کی حد بندی ریاست کے اپنے آئین کے مطابق ہی ہوسکتی ہے ۔وزیر موصوف نے بتایاکہ ریاست جموں و کشمیر حد بندی ایکٹ 2002کے دائرہ میں نہیں آتی اورریاستوں کے اسمبلی حلقوں کی حد بندی کے معاملات طے کرنے والا آئین ہند کے دفعہ 170کی ریاست میں توسیع نہیں ہوئی ۔انہوں نے ایوان کو مزید بتایاکہ جموں و کشمیر میں اسمبلی حلقوں کی حد بندی ریاست کے آئین کے دفعہ 47اوردفعہ 141کے تحت ہوتی ہے ۔حد بندی کے حوالے سے سوال سماج وادی پارٹی سے تعلق رکھنے والے راجیہ سبھا ممبر سریندر سنگھ ناگر کی طرف سے پوچھاگیاتھا۔انہوں نے اپنے سوال میں ریاست میں اچانک حد بندی کروانے کی اطلاعات کے بارے میں مرکزی حکومت کا موقف جاننے کی کوشش کی ۔قبل ازیں بھارتیہ جنتاپارٹی کی طرف سے ریاست میں حد بندی کا معاملہ اٹھاتے ہوئے کہاگیاکہ کشمیر وادی کو برسوں سے اسمبلی میں زیاد ہ نشستیں حاصل رہیں اور جموں ولداخ خطوں کو دبایاگیا۔جون کے مہینے میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے ریاستی گورنر ستیہ پال ملک سے ملاقات کی تھی جس کے بعد یہ افواہیں پھیلی کہ حکومت ریاست میں اسمبلی حلقوں کی از سر نو حد بندی کرنے کا منصوبہ بنارہی ہے ۔تاہم اس کے بعد ریاستی گورنر انتظامیہ کی طرف سے یہ وضاحت کی گئی کہ حد بندی کاکوئی منصوبہ زیر غور نہیںاورنہ ہی یہ معاملہ زیر بحث بھی آیا ۔البتہ بھاجپا کے ریاستی یونٹ کی طرف سے حد بندی کے حق میں ایک قرارداد منظور کی گئی ۔