تازہ ترین

’’ دعوت‘‘ کی بندش

ذمہ داری کس کے سر ؟

18 جولائی 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

امام الدین علیگ
سہ  روزہ’’ دعوت‘‘ کے بند ہونے کی خبرہر خاص وعام حلقے میں موضوع بحث ہے۔ آخر ہو بھِی کیوں نہ، ملت کے زوال کے اس دور میں عوامی حلقے میں جماعت اسلامی ہند کے واحد ترجمان ردو اخبار اور معیاری اردو صحافت کے واحد علمبردار سہ روزہ دعوت کے بند ہونے کی خبر مسلمانانِ ہند پر بجلی بن کر گری ہے۔ ایسے میں ضروری ہے کہ ان اسباب و عوامل اور وجوہات کا منصفانہ جائزہ لیا جائے جن کی وجہ سے آج یہ منحوس دن دیکھنے پڑے ہیں۔
جماعت اسلامی ہند اور دعوت ٹرسٹ کے ذمہ داران نے سہ روزہ کو بند کرنے کی واحد وجہ ’’مسلسل خسارہ و نقصان ‘‘بتایا ہے۔ دعوت ٹرسٹ کے سیکریٹری عبد الجبار صدیقی نے ذرائع ابلاغ سے بات چیت میں کہا :’’ہم اپنے ارکان سے پیسے لے کر ادارہ بناتے ہیں اور اس کے بعد ہماری کوشش ہوتی ہے کہ وہ اپنے پیروں پر کھڑا ہوجائے، ایسا نہ ہونے کی صورت میں ہم نے یہ سخت فیصلہ لیا۔‘‘ ایسے میں سوال اٹھتا ہے کہ 1953 سے جاری دعوت اخبار کیا کبھی اپنے پیروں پر کھڑا ہی نہیں ہوا؟ دعوت کی تاریخ سے واقف لوگ بتاتے ہیں کہ حقیقت کچھ اور ہے۔ ایک دورتھا جب دعوت کے پاس اپنا پریس، اپنا دفتر اور اپنی املاک تھیں۔
پرانی دہلی کے چوڑی ولان میں واقع دعوت کا پریس "دعوت آفسٹ پرنٹر” نام سے جانا جاتا تھا جس کا پرانا نام جمال پریس تھا۔ پریس کی زمین بھی دعوت ٹرسٹ کے نام سے تھی۔ اس پریس سے دعوت اخبار کے علاوہ جماعت اسلامی کے دیگر اخبارو رسائل اور کتابوں کی چھپاِئی بھی ہوتی تھی، جس سے یہ بات پورے وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ جماعت اسلامی کے لیے یہ ایک نفع بخش ادارہ رہا ہوگا۔ لیکن اسے دعوت کی بدقسمتی کہیں کہ پریس کی عمارت پر جماعت کے ہی ایک رکن نے قبضہ جما لیا۔ اب یہاں سے شروع ہوتی ہے دعوت ٹرسٹ کے ذمہ داروں کی غیر ذمہ داری اور ناعاقبت اندیشی کی کہانی جو آگے چل کر سہ روزہ کے خاتمے پر ختم ہوتی ہے۔ ہوا یہ کہ ’’دعوت آفسٹ پرنٹر‘‘کو بند کردیا گیا اور اس کے اسٹاف کو  بھی فارغ کر دیا گیا۔ اس کے بعد دعوت آفسٹ پرنٹر کی عمارت کو ٹرسٹ کے ذمہ داروں نے اونے پونے دام میں فروخت کردیا اور پریس کی مشینوں کو چتلی قبر میں واقع پرانے مرکز کے ایک اسٹور میں لاکر سڑنے کے لیے چھوڑ دیا۔ کچھ عرصہ گزرنے کے بعد ان مشینوں کو بھی کباڑ میں بیچ دیا گیا۔ اس طرح سے دعوت آفسٹ پرنٹر کی کہانی اپنے انجام کو پہنچتی ہے۔ اس کے علاوہ دہلی کے سوئی ولان میں دعوت کا اپنا دفتر تھا اور اس کا حشر بھی آفسیٹ پرنٹر جیسا ہی ہوا۔ اسے بھی اونے پونے بیچ دیا گیا۔ دعوت ٹرسٹ اور جماعت اسلامی ہند کے ذمہ داراران کی جانب سے دعوت ٹرسٹ کی املاک کو بیچنے کا سلسلہ یہیں تھم جاتا تب بھی شاید اخبار کے حق میں بہتر ہوتا لیکن یہ سلسلہ آگے بھِِی جاری رہا۔ دہلی کے بوانا میں سرکار نے دعوت ٹرسٹ کو اخبار کے لیے زمین الاٹ کی تھی اور اس زمین کو بھی بیچ دیا گیا۔
دعوت کی تین۔تین املاک کو بیچے جانے کے بعد سوال یہ اُٹھتا ہے کہ اس سے حاصل ہونے والی رقم کا کیا ہوا؟ اس کا صحیح جواب تو جماعت اور ٹرسٹ کے ذمہ داران ہی دے سکتے ہیں لیکن ایک بات جس سے جماعت کے سبھی ارکان واقف ہوں گے وہ یہ کہ دہلی کے جامعہ نگر، ابوالفضل انکلیو میں جس زمین پر جماعت کا مرکز واقع ہے وہ کبھی دعوت کے نام منسوب تھی۔ جماعت کے ذرائع کا کہنا ہے کہ مرکز کی موجودہ پُرشکوہ عمارت کی بنیاد ہی دعوت بلڈنگ کے نام سے رکھی گئی تھی۔ سابق امیر جماعت مولانا سراج الحسن صاحب نے مرکز کی موجودہ عمارت کا افتتاح دعوت کی بلڈنگ کے طور پرہی کیا تھا لیکن دعوت کی بلڈنگ بننے کے بجائے وہاں مرکز کو منتقل کر دیا گیا اوردعوت کو مرکز کی پرانی بلڈنگ میں پھینک دیا گیا۔ یہاں اس بار دعوت کے مستقبل کے ساتھ ایک اور کھل کھیلا گیا، وہ یہ کہ مرکز کی پرانی عمارت میں دعوت کو منتقل تو کیا گیا لیکن پراپرٹی دعوت ٹرسٹ کے نام نہیں کی گئی۔ ایسے میں سہ روزہ’’ دعوت‘‘ کی حالت دھوبی کے کتے جیسی ہو گئی جو نہ گھر کا رہ گیا نہ گھاٹ کا۔
 سہ روزہ ’’دعوت‘‘ کے ساتھ ہوئی ایک اور ستم ظریفی ملاحظہ کریں۔ ایک وقت جب مرکزی سرکار نے دہلی کے آئی ٹی او میں ’’ٹائمس آف انڈیا‘‘ سمیت ملک کے دیگر موقر اخباروں کو زمین الاٹ کی تھیں تو سہ روزہ’’ دعوت‘‘ کو بھی اس آفر کی پیش کش کی گئی تھی لیکن جماعت کے ذمّے داروں نے سرکار کے آفر کو یہ کہتے ہوئے ٹھکرا دیا تھا کہ ہم سرکار کی مراعات قبول نہیں کریں گے۔ بہرحال جماعت نے اس سرکاری آفر کو ٹھکرانے کے ساتھ ساتھ ایک اور فیصلہ کیا وہ یہ کہ ہم ڈی اے وی پی اور ڈی آئی پی ایڈ یعنی سرکاری اشتہار بھی نہیں لیں گے۔ ذمّے داروں نے سرکاری اشتہارات کو یوں خم ٹھونک کر ٹھکرایا ہوگا کہ اخبار ہم اپنے بل بوتے پر نکالیں گے۔ بہرحال اب دعوت کی آمدنی کے لیے اگر کوئی آپشن رہ گیا تھا تو وہ تھا صرف پرائیویٹ اشتہار لیکن جماعت اور ٹرسٹ کے ذمّے داروں نے پرائیویٹ اشتہارات پر بھی سخت سنسرشپ نافذ کر دی اور اس طرح کی مختلف النوع شرطیں لگا دیں کہ تصویر والا اشتہار نہیں چھاپا جائے گا، غیر معیاری پروڈکٹ اور جنسی مسائل کے اشتہارات نہیں لیں گے وغیرہ وغیرہ اور ساتھ ہی یہ شرط بھی لگا دی گئی کہ کوئی بھی پرائیویٹ اشتہار چھاپنے سے پہلے جماعت کے ذمّے داروں کی منظوری ضروری ہے۔غرض یہ کہ آمدنی کے سارے راستوں، سبھی کھڑکیوں اور دروازوں کو بند کر دیا گیا۔اتنا سب ہونے کے اب موجودہ صورتِ حال یہ ہے کہ گجرات میں دعوت ٹرسٹ کی جو واحد پراپرٹی بچی ہے، اُسے بھی بیچنے کی تیاری ہے۔ ذرائع کے مطابق کہ اس پراپرٹی کو بیچنے کے لیے بات چیت چل رہی ہے۔ مزید یہ کہ’’ دعوت‘‘ کو سر چھپانے کے لیے مرکز کی جو پرانی عمارت دی گئی تھی، اُسے اب جماعت کے چار سرکردہ ذمّے داروں کا فیملی کوارٹر بنانے کا منصوبہ ہے۔
اب ایسے میں سوال اٹھتا ہے کہ جماعت اسلامی ہند اور ٹرسٹ کے ذمّے دار یہ دلیل آخر کس بنیاد پر دے رہے ہیں کہ’’ دعوت‘‘ اپنے پیروں پر کھڑا نہیں ہو سکا، اس لیے اسے بند کیا جا رہا ہے؟ جب کہ حقائق تو یہ بتا رہے ہیں کہ دعوت تو اپنے پیروں پر کھڑا تھا لیکن اس کے پیروں کو کاٹ دیا گیا۔ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ دعوت کو قسطوں میں قتل کیا گیا۔ اب آپ خود طے کر لیں کہ سہ روزہ’’ دعوت‘‘ کا قاتل کون ہے؟ جماعت کے ذمّے داران؟ ٹرسٹ کے سکریٹریز؟ دعوت کے ملازمین؟ یا پھر دعوت نہ خریدنے والا عام اردو طبقہ؟
