تازہ ترین

ہیرا گولڈ فراڈ سے کوئی سبق سیکھا؟

پس چہ باید کرد ۔۔۔۔ قسط2

18 جولائی 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

ڈاکٹر علیم خان فلکیؔ۔۔۔۔ صدر سوشیو ریفارمز سوسائٹی
 سبق  یہ ہے کہ مسلمان غریب نہیں ہیں۔ قرآن و حدیث پر عمل کرلیں تو دنیا میں امیر ترین لوگ بن سکتے ہیں۔ 
لائف انشورنس والے انوسٹمنٹ ۔ ایک حلاس سے پہلے کہ ہم اس موضوع پر بات کریں ہم آپ کو دعوت دیتے ہیں کہ ان مشاہدات پر غور فرمائیں: 
۱۔ حادثاتی امواتAccidental deaths   اِس وقت تقریباً ہر شہر میں اوسطاً بارہ افراد کی موت کی خبر ہراخبار میں ہوتی ہے۔ پانچ سڑک حادثات میں، پانچ خودکشی میں اور کم سے کم دو قتل۔ ان اموات میں کم سے کم ایک دو مرنے والے تو مسلمان ہوتے ہی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہر روز کم سے کم دوعورتیں بیوہ ہوتی ہیں، چار پانچ بچے یتیم ہوتے ہیں چار پانچ بزرگ بے سہارا ہو کر رہ جاتے ہیں۔ مرنے والوں میں خوشحال گھرانوں کے افراد کی تعداد کم ہوتی ہے۔زیادہ تر وہ لوگ ہوتے ہیں جو جب تک پہلی تاریخ کو تنخواہ نہ لائیں تو گھر گرہستی چلانا ناممکن ہوتا ہے۔ اگر ایک آدمی صبح گھر سے نکلے اور خبر آئے کہ اب وہ کبھی زندہ نہ لوٹے گا، اس کے گھروالے کیا کریں؟ یا توبیوی گھر سے نکلے اور نوکری مزدوری کرے، یا بچوں کو یا تو ماموں پالیں یا چاچایا بچوں کی تعلیم کیلئے یا بچیوں کی شادی کیلئے گھر بیچ دیاجائے، یا بھیک، چندہ یا خیرات مانگی جائے یاپھر بچے تعلیم وتدریس ہی چھوڑدیں۔ کیا ہمارے پاس کوئی ایسے بیت المال یا ایسے سخی وفیاض افراد ہیں جو ہر روز اتنی بڑی تعداد میں پیدا ہونے محتاجوں اور معذروں کو اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے میں مکمل مدد کریں؟ 
۲۔ اچانک موت Sudden deaths or Natural deaths کتنے لوگ ہیں جو ہر روز ہارٹ اٹیک، کِڈنی فیلئر یا کسی اور وجہ سے اچانک مرجاتے ہیں یا تاعمر معذور ہوجاتے ہیں۔ ایسے کتنے واقعات ہیں کہ کسی کی موت کے بعد پارٹنر ہر چیز پر قبضہ کرلیتے ہیں، مرحوم نے بغیر لکھائی پڑھائی کے جتنوںکو قرض دئے تھے، وہ سارے ہضم کرجاتے ہیں، کئی واقعات ایسے بھی ہیں کہ مرحوم کے بھائی فتویٰ لاکر مرحوم کی بیوی کا حق مارتے ہیں اور کئی واقعات ایسے بھی ہیں کہ بیوی اور اس کے گھر والے مرحوم کے ترکہ پر قبضہ کرلیتے ہیں اور اس کے ماں باپ اور بھائی بہنوںکو بے دخل کردیتے ہیں۔ بے شمار اموات تو ایسی ہوئی ہیں کہ مرحوم نے کاروبار کیا، کہیں پیسہ لگایا لیکن بیوی معصوم تھی یا بچے بہت چھوٹے تھے، مرحوم کے کیا کرتے تھے کسی کو پتہ نہیں چلتا، پیسہ بنکوں کے یا چِٹ فنڈ والوں کے یا کسی اور کے حوالے ہوجاتا ہے۔ کئی ایسے افراد بھی ہم نے دیکھے جو گلف میں کام کرتے تھے، چھٹی پر آئے ، انتقال کرگئے اور ان کے کفیلوں نے ان کے جملہ حقوق مع رقومات، مشاہرے وغیرہ غصب یا ہڑپ کرلئے۔ 
۳۔ دوسری شادی:
ہمارا معاشرہ بر ہمنیت متاثرہ معاشرہ ہے جہاںدوسری بیوی کا تصور اُسی ’’رانڈ‘‘ کا تصور جیساہے جو منوسمرتی میں لکھا ہے۔ اگر کوئی شخص دوسری شادی کرتا ہے تو اس کے ساتھ وہی بُرا سلوک ہوتا ہے جو ہندو معاشرے میں ایسے لوگوں کے ساتھ ہوتا چلاآیا ہے۔ پہلی بیوی طلاق یا خلع تک چلی جاتی ہے، جس کے نتیجے میں خود بھی اور بچے بھی بری طرح متاثر ہوجاتے ہیں۔ کہیں خود مرد دوسری بیوی کے خوف سے پہلی بیوی اور اس کے بچوں کے ساتھ ناانصافی کرتا ہے، کہیں پہلی بیوی کے خوف سے دوسری کے ساتھ ناانصافی کرتا ہے۔ ہر دو صورتوں میں کسی نہ کسی ایک بیوی اور کسی نہ کسی ایک بیوی کے بچوں کے ساتھ ناانصافی ہوتی ہے، بچوں کا مستقبل متاثر ہوجاتا ہے۔ ا س سوچ کو بدلنے سے ہمارے بے شمار مسائل حل ہوسکتے ہیں ۔ 
۴۔  Inflation
اِس وقت ملک میں inflation rate 6%ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آج اگر کسی کا ماہانہ خرچہ بیس ہزار روپے ہے تو آج سے ٹھیک بیس سال بعد یہ خرچ ساٹھ ہزار روپے تک پہنچ جائے گا۔ کیا آپ کی جائداد، دوکان یا نوکری سے اتنے اخراجات اُس وقت پورے ہوں گے؟ 
۵۔ فسادات
فاشزم کی جو لہر اس وقت ملک میں پورے عروج پر ہے یہ اور بڑھے گی، اگر کوئی اصلاح ِ احوال کی شروعات نہ ہوئی۔ مسلمانوں کی جان و مال کے ساتھ ساتھ دین، کلچر اور تاریخ کو مٹانے کے جو جو دل آزارواقعات سامنے آرہے ہیں، ان کے سامنے مسلمان بے بس وپامال ہوتے جارہے ہیں۔ ہر پسماندہ قوم کیلئے تحفظات یعنی Reservationsدئے جارہے ہیں لیکن مسلمانوں کو چپراسی اور جاروب کش کی نوکری کیلئے بھی کوئی قانونی تحفظ حاصل نہیں۔ اہم سرکاری عہدوں پر مسلمانوں کا تقرر ناممکن ہوتا جارہا ہے۔ دوسرے یہ کہ کب بلوائیوں کے ہاتھوں ہمارے مکانات اور کارگاہیں جلادئے جائیں، کب ماب لِنچنگ جیسے المیے ہمارے ساتھ وقوع پذیر ہوجائیں، کب ہمارے نوجوانوںکو بنا کسی قصور کے دہشت گردی میں ملوث قراردے کر اندر کیا جائے ،کب بٹلہ ہاؤس جیسا انکاؤنٹر کردیا جائے ،اس کی کوئی گارنٹی نہیں۔ جب تک گنگاجمنی تہذیب معدوم اور قانون کی حکمرانی مفقود رہے گی اس ملک میں دہشت گردی ختم ہوسکتی ہے نہ مسلمان آرام سے جی سکتے ہیں۔ ان حالات میں آپ کی فینانشیل پلاننگ کیا ہے؟ کس طرح آپ اپنی بیوی اور بچوں کو تحفظ دے سکیں گے؟ ان تمام امور کے پیش نظر ایک حل جو کسی طرح آپ کے خاندان کو تحفظ دے سکتا ہے، وہ ایسی جگہ انوسٹمنٹ ہے جہاں لائف بھی انشورڈ ہو، تاکہ اگر آپ کو کچھ ہوجائے تو آپ کے خاندان کو گھر فروخت کرنے، قرضہ یا چندہ مانگنے کی ضرورت نہ پڑے، بیوی اور بیٹی بیٹے کو مجبوری کی حالت میں بے سروسامان ہو کرسڑک پر نہ آنا نہ پڑے۔ 
ہم جانتے ہیں کہ لائف انشورنس کے لفظ کے ساتھ ہی کئی ایک لوگوں کے کان کھڑے ہوجاتے ہیں،کیونکہ ان کے دلوں میں برسہابرس سے یہی سبق بٹھایا گیا ہے کہ یہ کام حرام ہے۔ ہم نے ایسے کئی لوگوں سے پوچھا کہ کیا آپ نے لائف انشورنس کے بارے میں کچھ پڑھا ہے۔ جواب ہمیشہ یہی ملا کہ کبھی نہیں پڑھا صرف سنا ہے۔ ہم ایسے کرم فرماؤں سے پوچھتے ہیں کہ کیا آپ نے اپنی شادی میں لڑکی والوں سے بارات کا کھانا لیا ہے؟ کیا آپ ایسی خلافِ سنت شادیوں میں شرکت کرتے ہیں؟ ان کا جواب نہ صرف ہاں میں ہوتا ہے بلکہ اس نامناسب کام کو جائز کرنے کے فتوے لے آتے ہیں ۔ خوشی سے دینے اور لینے کو جائز سمجھنا جس میں سراسر قوم کا اخلاقی اور مالی نقصان ہے، لیکن اضطراری حالات میں مالی تحفظ کی ضمانت دینے والی لائف انشورنس کو ناجائز سمجھنا ایک اجتماعی غفلت بلکہ مجرمانہ غفلت ہے۔ ا س با رے میں علمائے کرام کو سر جوڑ کر بیٹھ کر ملک کے نا گفتہ بہ حالات اور مسلم معاشرے کو درپیش مسائل کی روشنی میں زندگی بیمہ پالیسی کے بارے میں ایک قابل اعتماد موقف وضع کر ناچاہیے تاکہ حالات متاثرین کا کچھ بھلاہو۔
 لائف انشورنس کے بارے میں عام غلط فہمیاں یہ ہیں کہ اس میں ’’غرر، جوّا، تقدیر پر ایمان سے روگردانی، سود وغیرہ‘‘ شامل ہیں۔ اس ضمن میں اطمینان بخش جوابات کا یہاں لکھنا ناممکن ہے ۔ ایک مکمل ریسرچ ورک جو ہم نے اپنی کتاب "Life Insurance and The Muslims" میں پیش کردیا ہے، قارئین سے درخواست ہے کہ وہ www.socioreforms.comکی ویب سائٹ سے ڈاؤن لوڈ کرلیں یا پھر ہمیں +91 9642 571 721پر واٹس اپ کریں ہم PDF بھیج دیں گے۔ اس کتاب میں ہم نے ان تمام علما کے دلائل پیش کئے ہیں جو اس کے حق میں ہیں یا مخالف ہیں۔ اب یہ آپ کی عقل سلیم یعنی Common Senseپر منحصر ہے کہ پڑھ کر آپ کیا فیصلہ کرتے ہیں۔ ہندوستان میں قاضی مجاہدالاسلام قاسمیؒ نے فقہ اکیڈیمی کے ذریعے بھاگلپور فسادات کے بعد ہندوستان بھر کے علماء کو جمع کیا اور حیدرآباد کے 1991ور اس کے بعد کے 1992اعظم گڑھ کے اجلاس میں یہ قرارداد پاس کروائی کہ ’’الضرر تبع الخطورہ، دفع الحرج، دفع الضرر، تحفظ جان و مال‘‘ کی بنیاد پر لازماً لائف انشورنس کروایا جائے۔ جامعہ نظامیہ اور مناظر احسن گیلانی کے اہم فتوے بھی لائف انشورنس کی تائید میں موجود ہیں، جن کا انگریزی ترجمہ ہم نے اپنی کتاب میں پیش کردیا۔اہل حدیث میں دو گروپ ہیں:ایک گروپ جو مفتیٔ اعظم سعودی عرب مرحوم عبداللہ بن باز اور ان کے بیٹے احمد بن عبدالعزیز بن باز، عادل صلاحی اور یوسف القرضاوی کا قائل ہے ،وہ لائف انشورنس کی تائید میں ہے۔ دوسر ا گروپ ہے شیخ صالح منجّد کو مانتا ہے وہ لائف انشورنس کا مخالف ہے لیکن کار انشورنس اور ہیلتھ انشورنس کو جائز سمجھتا ہے۔ یہاں صرف اتنا عرض کرنا چاہتے ہیں کہ اوپر بیان کئے گئے تمام حالات کی روشنی میں آپ کی حلال کمائی کی حفاظت اور آپ کے خاندان کے صحیح تحفظ کیلئے اس وقت ایسی اسکیموں کی ضرورت ہے جس میں آپ کی لائف بھی انشورڈ بھی ہو۔ کس طرح یہ اسکیم خریدی جائے اور کتنا پریمم ادا کیا جائے ،اس کے لئے بھی کسی فینانشیل کنسلٹنٹ سے رجوع کرنا ضروری ہے۔ یہاں ہم لائف انشورنس انفرادی طور پر اور اجتماعی طور پر کیا کیا فائدے بہم پہنچاتا ہے اس پر روشنی ڈالیں گے۔ 
انفرادی فائدے
لائف انشورنس ہر ہر شخص کے اپنی اپنی ضروریات کو پوری کرنے کی اسکیمیں پیش کرتا ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ اگر آپ کو خدانخواستہ کچھ ہوجائے توآپ کے خاندان کو مکمل مالی ضمانت دیتا ہے کہ جتنا آپ ان کے لئے چھوڑ کر جانا چاہتے تھے جس کا پریمیم آپ نے پورا ادا بھی نہیں بھی کیا ہے تو انشورنس والے آپ کے خواب کو چکنا چُور نہیں ہونے دیں گے بلکہ پوری رقم آپ کی بیوی اور بچوں کے حوالے کی جائے گی۔یہ آپ کی اپنی ضرورت اور استطاعت کے مطابق ہوتی ہے۔ آپ زندہ رہیں تو پوری رقم سے کاروبار کرسکتے ہیں۔ ایسی اسکیمیںجن میں ضمانت ہوتی ہے کہ آپ کا پیسہ کسی ایسے کاروبار میں نہیں لگایا جائے گا جس میں کوئی حرام کام شامل ہو۔ ایسی اسکیموں کو Sharia Complianed کہتے ہیں۔ پیسے ادا کرنے کی مدت ایک سال بھی ہوسکتی ہے اور کئی سال بھی۔ بڑھاپے میں اگر آپ اولاد پر بالخصوص بہو یا داماد پر منحصر ہونے سے بچنا چاہتے ہیں تو اس کی بھی پالیسی ہوتی ہے۔ کوئی بچہ معذور پیدا ہوجائے، بچوں کو اعلیٰ تعلیم کیلئے باہر بھیجنا پڑے، آپ نے کاروبار کیا اور کسی نے آپ کا پیسہ ہڑپ کرلیا، یا مرنے والے نے بنک سے قرض لیا اور اس کے مرنے کے بعد بنک نے پیسہ روک لیا اور بیوی بچوں کو محروم کردیا، ایسی تمام صورتوں میں اپنے خاندان محفوظ رکھنے کی کئی پالیسیاں ہوتی ہیں۔ آپ کی پالیسی کو ضمانت کے طور پر استعمال کرتے ہوئے قرض بھی حاصل کرسکتے ہیں، کسی اور دلا بھی سکتے ہیں۔ سب سے اہم یہ کہ لائف انشورنس کے ذریعے آپ انکم ٹیکس کی ادائیگی سے چھوٹ جاتے ہیں۔ 
اجتماعی فائدے:
گروپ انشورنس کے ذریعے ایک ہی پیشے کے کئی افراد کو آپ اگر ایک گروپ بناکر انشورڈ کردیتے ہیں تو پریمیم کا آدھی رقم کمپنی ادا کرتی ہے اور آدھی ریاستی حکومت یا پھر کسی بھی آرگنائزیشن کی طرف سے ملتی ہے۔ غریب لوگوں کو ان کی پریشانی کے وقت یہ ایک نعمت غیرمترقبہ ثابت ہوتی ہے۔کتنے لوگ ہیں جو ہوٹل، کارخانے، شادی خانے اور مختلف کاروبار کرتے ہیں، ان کے ہاں کئی ملازم ہوتے ہیں جو معمولی تنخواہوں پر ہوتے ہیں۔ اگر ان بے چارے ملازمین کا حادثہ ہوجائے یا بیمار ہوجائیں، تو دس بیس ہزار دے کر احسان کردیتے ہیں، باقی عمر اب وہ بھیک مانگتا پھرے۔ اگر ان تمام ملازمین کا گروپ انشورنس کروادیا جائے اور وہی دس بیس ہزار جو انہیں بھیک دیتے ہیں، وہی پریمیم میں ادا کردیں تو یہ سارے ملازمین کی زندگی کا ایک تحفظ حاصل ہوجاتا ہے۔ اگر انہیں کچھ ہوجائے تو ان کی بیوی اور بچوں کی مدد جاری رہتی ہے۔
جو لوگ راہِ خدا میں دینی وفلاحی جماعتوں اور خیراتی اداروں کی خوب اعانت کرتے ہیں، اگر انہیں خوف ہو کہ ان کے بعد ان کی اولاد یہ سلسلہ باقی نہیں رکھے گی تو وہ اپنی جانداد کی ضمانت پر ایک پالیسی خرید سکتے ہیں جسے ESTATE کہتے ہیں، اس کے ذریعے ان کے مرنے کے بعد ان تمام اداروں اور تحریکوں کے انسانی وفلاحی مشن کا فائدہ ہوسکتا ہے جو مخلصانہ طور قوم و ملت کیلئے کام کرتی ہیں۔ یہی نہیں بلکہ آپ اپنی پوری جماعت کے افراد، مسجد کمیٹیوں بالخصوص امام، مؤذن اور خطیب کا بھی انشورنس کرواسکتے ہیں، اس کو بھی گروپ انشورنس کہتے ہیں۔ ان لوگوں کیلئے انتظامی کمیٹیاں یہ تو کرسکتی ہیں کہ ان کا گروپ انشورنس کروالیں اور انہیں کچھ ہوجائے تو کم سے کم ان دین کے خدمت کرنے والوں کی بیویاں اور بچے تو پریشان نہ ہوں۔ 
خلاصہ یہ ہے کہ ہیراگولڈ جیسے نقصانات سے مستقبل میں بچنا چاہتے ہوں، فسادات یا حادثات سے اپنے خاندان کو بچانا چاہتے ہوں اور قوم وملت کی معیشت کو مضبوط کرکے اپنے افراد کو ڈرائیوروں اور ٹھیلے والوں کی اکثریت سے باہر نکالنا چاہتے ہوں تو یہ چند تجاویز ہیں، جن پر عمل در آمد کرنے کے لئے کسی جماعت کی ضرورت ہے ،نہ لیڈر کی، نہ حکومت سے بھیک مانگنے کی ضرورت ہے اور نہ خالی دعائیں کرتے رہنے کی۔ ہر شخص اپنی اپنی جگہ کوشش شروع کردے تو انشااللہ  مولائے کریم کی مدد بھی آئے گی ورنہ اب ابابیل یا من و سلویٰ تو آسمان سے آنے سے رہے۔ 
(ختم شد)
واٹس اپ :  9642571721