تازہ ترین

مولانا محمد علی جوہرؔ

ایک نابغہ ٔ روزگار ہمہ جہت شخصیت

17 جولائی 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

مدثر شمیم راتھر۔۔۔ سرہامہ ، بجبہاڈہ
 دنیا میںبعض شخصیتیں عہد ساز ہوتی ہیں ، ان کا وجود عوام کی طاقت اور توانائی کا مرکز و محور ہوتا ہے ، ان کی حرکات اور چشم ابرو کے اشارات افراد و اقوام کیلئے مہمیز کا کام انجام دیتی ہیں ۔ اقبال کا یہ شعر ا س بارے میں چشم کشا ہے   ؎
افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر  فرد ہے  ملت کے  مقدر کا  ستارہ
بیسویں صدی کے اوائل میں برصغیر کے منظرنامے پر رئیس الاحرارمولانا محمد علی جوہرؔ کی شخصیت قائدین ملک و ملت کی صف میں کئی لحاظ سے منفرد تھی ۔ قائدانہ صلاحیت ، عزتِ نفس اور دولت استغنیٰ ان کی زندگی کا لازمی حصہ تھیں، فقیری میں شاہانہ خیالات اور پریشانی میں خودداری پر قائم رہنا ان کی دائمی خصلت تھی۔ وہ مخلص ،بہادر، اسلام کے شیدائی اور اظہار حق میں دوست دشمن کی پرواہ کئے بغیر اپنی بات سامنے رکھنے والے تھے۔دست قدرت نے مولانا محمد علی کو قیادت و سیادت ، صحافت و خطابت، خود اعتمادی و خود داری، سوزدروں اور درد فزوں کے ساتھ ساتھ مجاہدانہ کردار اور حوصلہ مندانہ عزم و استقلال جیسے بیش بہا امتیازات سے نوازا تھا ۔ محمد علی جوہر تنہا ایک فرد نہیں بلکہ اپنی ذات میں ایک مکمل انجمن تھے۔ برطانوی سامراج کے خلاف تحریک آزادی کا یہ ممتاز اور نامور مسلم رہنما 10دسمبر1878ء کو نجیب آباد ریاست رام پور کے ایک خوشحال گھرانے میں پیدا ہوا۔ابھی آپ دو سال کے تھے کہ ان کے والد عبدلعلی خان وفات پاگئے لیکن ان کی والدہ عابدہ بیگم نے تعلیم یافتہ نہ ہونے کے باوجود انتہائی روشن خیالی سے کام لیتے ہوئے اپنے تینوں بیٹوں ذوالفقار علی، شوکت علی اور محمد علی کو جدید تعلیم کے نور سے آراستہ کیا۔مولانا محمد علی 1898ء میں اعلیٰ تعلیم کیلئے انگلستان جاکر آکسفورڈ یونیورسٹی میں داخلہ لیا اور اپنے مذہبی تشخص کو من و عن برقرار رکھتے ہوئے دنیوی تعلیم حاصل کی ۔آپ وہ پہلے ہندوستانی تھے جنہیں آکسفورڈ یونیورسٹی یونین کے سیکرٹری بننے کا اعزاز حاصل ہوا۔ آکسفورڈ سے واپسی کے بعد آپ رام پور میں ایجوکیشن ڈائریکٹر کی حیثیت سے اپنی خدمات انجام دینے لگے۔ بعدازاں آپ اسٹیٹ ہائی اسکول کے پرنسپل مقرر ہوئے۔ قدرت نے اس شخص کو انتظامی عہدوں اور منصوبوں کیلئے نہیں بلکہ بڑے قومی اور ملی مقاصد کے حصول کے لئے پیدا کیا تھا۔ آپ ایک ایسے اعلیٰ پایہ ادیب، شعلہ نو امقرر اور بے لوث رہنما تھے جو اپنا سب کچھ قوم کیلئے نچھاور کرنا چاہتے تھے۔ مولانا محمد علی جوہرؔ جب انگریزی بولتے تھے تو ابل زبان بھی عش عش کرتے نظر آتے تھے۔آپ نے اپنی تحریروں اور تقریروں سے ہندوستانیوں کی رگوں میں حریت کا جذبہ اس قدر سرایت کر دیا کہ ان کی تحریروں سے ہر کوئی باشعور اور محب وطن ہندوستانی انگریزوں کی غلامی کے خلاف سربکف ہوکر میدان میں آیا۔ مولانا نے کبھی بھی اپنے اصولوں سے سمجھوتہ نہ کیا بلکہ ہمیشہ آزادی ٔ ہند کیلئے مضبوطی سے جمے رہے،آپ تحریک خلافت کے روح رواں اور عظیم مجاہدِ آزادی کی حیثیت سے انگریزوں کے خلاف بر سر پیکار رہے۔ جدو جہد آزادی میں سرگرم حصہ لینے کے جرم میں مولانا کی زندگی کا کافی حصہ قید و بند میں بسر ہوا۔ تحریک عدم تعاون کی یاداش میں کئی سال جیل میں رہے۔1919ء کی تحریک خلافت کے بانی آپ ہی تھے۔ جامعہ ملیہ دہلی آپ ہی کی کوششوں سے قائم ہوا۔
ممبئی کے ایک ممتاز پروفیسر بھولا بھائی ڈیسائی نے مولانا کے انتقال کے بعد بجا طور کہا تھا کہ مولانا محمد علی کا سب سے بڑا کارنامہ یہ تھا کہ انہوں نے اس بر اعظم کے لوگوں کو صحیح آزادی کے تصورسے روشناس کروایا۔ لندن میں گول میز کانفرنس کے افتتاح کے موقع پر مولانا نے جو تقریر فرمائی تھی اس کا شمار یقیناً دنیا کی اہم تقاریر میں کیا جا سکتا ہے ۔ اپنی خرابی ٔ صحت کا ذکر فرماتے ہوئے مولانا نے کہا تھا میری یہ کیفیت ہے کہ قلب کی حالت دُرست نہیں ،بینائی میں فرق آگیا ہے، پیر متورم ہیں، ذیابیطس کا عارضہ لاحق ہے۔ میں کہتا ہوں کہ جس آدمی کے حواس بجا ہوں، وہ بھی ان بیماریوں کے ساتھ سات میل کا سفر بھی نہیں طے کر سکتا، لیکن میں خشکی اور سمندر کے سات ہزار میل کا سفر طے کر کے یہاں پہنچا ہوں کیونکہ جہاں آزادی کا معاملہ آتا ہے، وہاں میری حالت دیوانوں کی سی ہو جاتی ہے۔ بقولِ ڈاکٹر ذاکر حسین’’محمد علی کی زندگی کا بیان دراصل ایک قوم اور ایک ملت کے حال اور مستقبل کی تفسیر کرنا ہے کہ محمد علی اسلامی ملت اور ہندی قوم کے قائد تھے اور نمائندہ بھی۔‘‘ برطانوی ادیب ایم جی ویلز کا محمد علی کے بارے میں یہ مقولہ مشہور ہے :’’محمد علی نے برک کی زبان، میکالے کا قلم اور نپولین کا دل پایا ہے۔‘‘ 
مولانا محمد علی جوہر جیسے نامور،ممتاز،وطن دوست شخصیت جن سے ہماری گرمی محفل قائم تھی، جن کی آواز سے ہمارا ملک گونجتا تھا اور جن کے جوش ِعمل سے بیک وقت تینوں بر اعظم متاثر تھے ، یہ عظم انسان اچانک 4؍جنوری سنہ1931ء کو اس دار فانی سے کوچ کر گیا۔دراصل آپ جنوری 1931ء میں گول میز کانفرنس میں شرکت کی غرض سے انگلستان گئے۔ آپ نے لندن میں ہونے والی گول میز کانفرنس میں کہا تھا کہ اگر ہندوستان کو آزادی نہیں دوگے تو یہاں مجھے قبر کیلئے جگہ دے دو، میں غلام ہندوستان میں جانے سے بہتر سمجھوں گا کہ یہیں مر جائوں اور مجھے یہیں دفنا دیا جائے۔آخر کار گول میز کانفرنس ناکام ہوئی اور آپ وہیں پر داعیٔ اجل کو لبیک کہہ گئے۔آپ کے جسد خاکی کو فلسطین لے جایا گیا اور انبیائے کرامؑ کی سر زمین میں آپ کو ابدی آرام کا اعزاز ملا۔ مولانا کی موت پر لوگوں کو یقین نہ آتا تھا کہ انہیں ابدی نیند بھی آسکتی ہے لیکن قدرت کا فیصلہ اٹل تھا ۔ لاکھوں عقیدت مندوں نے بادیدہ نم مولانا کے جسد مبارک کو سپرد خاک کر دیا۔ مولانا کی وفات پر علامہ اقبال نے جو مرثیہ قلم بند فرمایا ہے وہ اس المناک حادثہ پر تمام قوم کی ترجمانی کرتا ہے۔
آپ کی تحریریں انگریزی اور اردو زبان میں ہندوستانی اخبارات کی زینت بنتی رہتی تھیں۔ آپ نے صحافت کے میدان میں ایک اردو  ہفت روزہ بنام’ہمدرد‘ اور انگلش ہفت روزہ ’کامریڈ ‘(Comrade) کا اجراء بھی کیا۔ مولانا ایک عظیم صحافی تھے،آپ کی تحریریں اتنی شستہ ہوتی تھیں کہ صرف مسلمان یا ہندوستانی ہی نہیں بلکہ انگریز بھی بصد شوق پڑھتے تھے اور ان پڑھنے والوں میں افسر، پروفیسر، طلبہ،اسکالر سبھی طرح کے لوگ شامل تھے اورسب آپ کی تحریریں دیکھ کر متاثر ہوئے بغیر نہ رہتے تھے ۔ جناب رضی الدین معظم آپ کی صحافتی خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھتے ہیں :’’ محمد علی کی صحیفہ نگاری نے اردو صحافت کا ایک نیا دور شروع کیا تھا اور وہ اردو کی پسماندہ صحافت میں بعض اہم اصلاحات کے بانی ہیں جیسے’’ ہمدرد‘‘ پہلا روزنامہ تھا جو لیتھو کے بجائے ٹائپ میں چھاپا گیا۔ ’’ہمدرد‘‘ پہلا روزنامہ تھا جس کے مضامین کا معیار اس زمانہ کی عام صحافت سے بھی زیادہ بلند تھا۔ بہت سے مشہور شعراء اور ادیبوں کو جو صحافت سے دور رہتے تھے،محمد علی صاحب کی شخصیت نے پہلی ہی دفعہ’’ ہمدرد‘‘ کے صفحات پر پیش کیا۔ مولانا حالی،علامہ اقبال اور مولانا شبلی کی نظمیں اور پریم چند کے افسانے پہلی بار اسی روزنامہ میں شائع ہوئے۔ مزاح نگاری کا’’ ہمدرد‘‘ نے ایک ایسا معیار قائم کیا جس کا اس سے قبل اردو صحافت میں کوئی وجود نہ تھا۔ آج بھی جو اچھے بلند پایہ افسانہ نگار ، مزاح نگار یا طنز نگار ہیں، انہوں نے ’’ہمدرد‘‘ کی روایات سے بہت کچھ حاصل کیا ہے۔ یہ درحقیقت سب مولانا علی جوہر کی ممتاز معظم لیق و جمیل شخصیت کا کرشمہ ہے ۔ ان حالات میں ہر ایک قاری یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ وہ اگر سیاسی اختلافات کی اُلجھنوںمیں نہ پھنس گئے ہوتے اور صحافت و تصنیف و تالیف کی طرف زیادہ متوجہ ہوتے تو خدا جانے وہ کیا سے کیا بن جاتے۔‘‘
مولانا محمد علی ایک صاحب طرز شاعر، ایک درد مند انسان اور ایک عاشق سر گزشتہ بھی تھے۔جوہر کی شاعری میں مرکزیت؛ جذبہ عشق کے ذریعے پیدا ہوئی، یہ عشق وطن کا،ملت اسلامیہ کا، اور آزادئی ہند کا عشق ہے۔۔۔۔غیر مشروط اور ہر طرح کے تحفظات سے مبرا۔مولانا محمد علی جوہرؔ نے شعر و سخن کے چمنستان میں اپنے منفرد انداز میں جوش جنوں کے گھل کھلائے اور انقلابی نغموں سے اردوئے معلی کو آشنا کیا۔ ان کے یہ چنیدہ اشعار پیش خدمت ہیں   ؎
دور حیات آئے گا قاتل قضا کے بعد
ہے ابتدا ہماری تیری انتہا کے بعد
قتلِ حسین ؐ اصل میں مرگ یزید ہے
اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد
ان کے کارنامے لائق تحسین بھی ہیں اور قابل تقلید بھی۔آخر پر میں اپنی اس تحریر کو مولانا محمد علی جوہر صاحب کے ایک شعر پر ختم کرتا ہوں  ؎ 
جیتے جی  تو کچھ نہ  دکھلایا  مگر
مر کے جوہر آپ کے جوہر کھلے
فون نمبر:  9797052494
ای میل:mudasir2041@gmail.com 
