تازہ ترین

ہیرا گولڈ فراڈ سے کوئی سبق سیکھا؟

پس چہ باید کرد

17 جولائی 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

ڈاکٹر علیم خان فلکیؔ۔۔۔۔ صدر سوشیو ریفارمز سوسائٹی
 قصور ہیرا گولڈ کا نہیں، قصور ہمارے حافظے کا ہے۔ ورنہ یہ دھوکہ دہی کوئی نئی نہیں ہے۔ ہر دس پندرہ سال میں کوئی نہ کوئی مذہبی یا سماجی تنظیموں کا سہارا لے کر کروڑوں کا چونا لگا جاتا ہے اور ہم بھول جاتے ہیں۔ ہاں ہیرا گولڈ کے دھوکے میں صرف عوام ہی نہیں بلکہ اِس بار بڑے بڑے علماے ٔسلف بھی آگئے۔ خیر سانپ تو نکل گیا اب لکیرکو پیٹنے سے کوئی فائدہ نہیں۔ ہاں مستقبل میں اگر کوئی سبق سیکھنا ہوتو ہمارے پاس چند اہم تجاویز ہیں۔ 
سب سے پہلے تو اِس غلط فہمی سے باہر آیئے کہ صرف مسلمان ہی دھوکہ کرتے ہیں۔ ہیراگولڈ،IMA ، المیزان، الامانہ، الحرم، الفلاح سعیدبھائی وغیرہ اور دوسرے کئی زمینات اور عمرہ و حج ایجنٹوں سے دھوکے کھانے کے بعد اکثرلوگ اتنے بددل ہوگئے کہ حمیت ِقومی کا لحاظ کئے بغیر یہ کہنے لگے کہ مسلمانوں کے سارے کاروبار ایسے ہی ہوتے ہیں ۔ جب کہ غیرمسلموں نے اِن سے بھی کئی گنا زیادہ فراڈ کئے ہیں جیسے FMLC, Trade Bizz India, Vihaan, Manpasand Beverages, Satyam, Saradha Chitfunds, Viyamshi etc۔ فرق اتنا تھا کہ مسلمان دھوکے باز کمپنیوں میں کسی غیرمسلم نے کبھی پیسہ نہیں لگایا لیکن غیرمسلموں کی ہر اسکیم میں مسلمانوں کا بھی ہزاروں کروڑ روپیہ ڈوب گیا۔ 
ایک اہم سوال پر غور کیجئے کہ وجئے مالیا اور نیرومودی وغیرہ نے کئی ہزار کروڑ کے غبن کئے لیکن کسی بھی فرد یعنی Individual کا نقصان نہیں ہوا، جب کہ ہیراگولڈ وغیرہ نے کئی معصوم افراد کی زندگی بھر کی کمائی کو لوٹ لیا۔ ایسا اس لئے ہوا کہ وجئے مالیا وغیرہ نے بنکوں کو لوٹا۔ بنکوں کی ذمہ دار RBIہوتی ہے۔ اس لئے RBIنے کسی فرد کا نقصان ہونے نہیں دیا جب کہ ہیراگولڈ وغیرہ کسی بھی سرکاری Regulatory body like RBI, SEBI (Security & Exchange board of India) or IRDAI etcسے رجسٹرڈ ہی نہیں تھے۔ یہ لوگ انفرادی طور پر کہیں مذہب اور کہیں سماجی تنظیموں کاسہارا لے کر راست عوام کی جیبوں کو صاف کرتے تھے۔ لہٰٗذا پہلا سبق یہ ہے کہ جب تک کسی کمپنی کے پاس ان سرکاری طور پر ضمانت دینے والے اداروں کا رجسٹریشن نہ ہو ان کے ساتھ ہرگز سرمایہ نہیں لگانا چاہئے۔
سوال یہ ہے کہ حکومت کے پاس ایسے قوانین موجود ہیں جن کے ذریعے ایسی پونزی اسکیمس پر فوری ہاتھ ڈالا جاسکتا ہے جیسے Unregulated Deposit Schemes Ordinance 2019 اس قانون کے تحت بنکوں پر لازم ہے کہ جب کسی اکاؤنٹ میں کوئی مشکوک رقم جمع ہونے لگے، فوری انکم ٹیکس، کورٹ اور پولیس کو الرٹ کردیں لیکن کیا وجہ ہے کہ وہ ہزاروں کروڑ لٹ جانے تک حکومت خاموش رہتی ہے؟ پونزی اسکیموںکی کامیابی کے ذمہ دارچار لوگ ہوتے ہیں: سیاستدان، پولیس،انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ اور بنک۔ جتنے مضبوط سیاستدان پیچھے ہوں گے اور اُن کو خوب مال پہنچتا رہے گا وہ باقی تین لوگوں کو کنٹرول کرتے رہیںگے۔  
دوسرا سبق یہ ہے کہ سرمایہ لگانے سے پہلے صحیح Financial Consultantسے مشورہ کرنا ضروری ہے جو کہ لوگ عام طور پر نہیں کرتے۔ مالی ایکسپرٹس کے مشورے کے بغیر پہلے لاکھوں روپیہ لگادیتے ہیں جب دھوکہ ہوجاتا ہے تب وکیلوں کو پیسہ دے کر مشورے ڈھونڈتے ہیں۔ لوگ ڈاکٹر کو، وکیل اور پولیس والوں کو تو ایڈوانس میں نقد ادا کرتے ہیں لیکن کچھ کام ایسے ہیں جو پوری قوم مفت میں کروانا چاہتی ہے ،جیسے فیا نیشل کنسلٹنسی۔ بجائے ماہرین سے مشورہ لینے کے ایرے غیرے سے مشورے لیتے ہیں نتیجہ ہیراگولڈوغیرہ کی شکل میں نکلتا ہے یاپھر دھوکے والی جائدادوں میں۔
مسلمانوں کی Income per Capitaجسٹس سچر کی رپورٹ سے واضح ہے کہ دلتوں سے بھی کم تر ہے۔افسوس ناک صورتِ حال یہ ہے کہ آج پوری قوم ڈرائیوروں، واچ مین، ٹھیلے والوں یا پھرچپراسیوں، کلرکوں ، ٹیچروں، کانسٹبلوں، معمولی کنٹریکٹرز ، دوکانداروں اور رئیل اسٹیٹ ایجنٹس کی ہے۔ جو لوگ اچھے ڈاکٹر اور انجینئر ہیں وہ بھی کسی نہ کسی کمپنی میں محض ملازم ہیں ،کوئی CEO ہے نہ کوئی Decision maker۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا واقعی مسلمانوں کے پاس پیسہ نہیں؟ ایسا ہرگز نہیں، مسلمانوں کے پاس کئی ہزار کروڑ روپیہ ہے لیکن ان کے پاس انوسٹمنٹ کا شعور نہ ہونے کی وجہ سے ضائع ہورہا ہے۔ مثال کے طور پر ملاحظہ فرمایئے:
۱۔ شادیاں
جو باپ بیٹے کو کاروبار کرنے کیلئے دس لاکھ نہیں دے سکتا وہ بیٹی کی شادی طے ہوجائے تو کہیں نہ کہیں سے پیسہ لے آتا ہے۔ یا تو گھر بیچتا ہے یا قرضہ، چندہ، زکوٰۃ ضرور وصول کرتا ہے۔ اگر یہ پیسہ جو شادیوں کے نام پر غیر شرعی  مدات اور طورطریقوں پر برباد ہورہا ہے، اگر وہ لڑکی کے بھائیوں کے ہاتھ آئے تو بھائی تاجر بن سکتے ہیں جن کیلئے رسول اللہ ﷺ نے بشارت فرمائی ہے۔ صرف شہر حیدرآباد کے وقف بورڈ سے سالانہ دو ہزار نکاح نامے جاری ہوتے ہیں۔ ہر کوئی جانتا ہے کہ ایک شادی پانچ لاکھ سے لے کر ایک کروڑ تک کے خرچے پر ہوتی ہے۔ ۔ اگرہم ایک اوسط دس لاکھ فی شادی بھی مان کر چلتے ہیں تو پتہ چلے گا صرف شہرحیدرآباد میںتقریباً سو کروڑ روپیہ ہر سال شادیوں پر خرچ ہوتا ہے۔ اگر ایسے ہی کم سے کم صرف پچاس شہر کا حساب دیکھیں جیسے لکھنو، علی گڑھ، ممبئی، احمدآباد، بنگلور وغیرہ کو بھی شامل کریں تو مسلمان 5000 کروڑ روپیہ ہر سال صرف شادیوں پر خرچ کرتے ہیں۔ 
 ۲۔ سالگرہ، انیورسری، پہلی زچگی، چہلم، برسی، روزہ افطارپارٹی، عقیقے، بسم اللہ، ختنہ، نوروز، وغیرہ:ان رسومات پر جتنا پیسہ خرچ کیا جاتا ہے کیا انہیں دیکھ کر کوئی کہہ سکتا ہے کہ مسلمانوں کا Income Per Capita دلت سے کم ہے؟ ہمارے پاس ان کا کوئی سروے تو نہیں لیکن ہر شخص ایک محتاط اندازہ تو قائم کرسکتا ہے کہ ان تقریبات پر پوری قوم ہرسال کم سے کم پانچ ہزار کروڑ روپیہ بہاتی ہے۔ 
۳۔ گولڈ
شاید آپ کو اندازہ نہیں کہ مسلمانوں کی دولت کا کتنا بڑا حصّہ آج بنکوں کے لاکرز میں بند ہے۔ یہ برس ہابرس سے رکھا ہوا سونا جو صرف چند شادیوں کے موقع پر دوسروں کو دکھانے کے کام آتا ہے، اس گولڈ میں ہزاروں شوہروں اور بیٹوں کا مستقبل دفن ہوتاہے۔ مڈل کلاس فیملیز میں عام طور پر ہر عورت کے لاکر میں کم سے کم پچاس تولے سونا ہوتا ہے۔ اگر دو تین بھائی مل کر اس سونے کو تجارت میں لگائیں تو بے شمار کاروبار وجود میں آسکتے ہیں۔ انڈیا سالانہ گولڈ ایمپورٹ کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے، جو ہر سال آٹھ ٹن سونا ایمپورٹ کرتا ہے۔ اس میں سے 25% مندروں میں چڑھایا جاتا ہے اور باقی عورتوں کے زیور میں استعمال ہوتا ہے۔ جب امریکہ اور یورپ بھی گولڈ ایمپورٹ کرتے ہیں لیکن وہاں کی کوئی عورت نندی کی گایوں کی طرح زیور لاد کر نہیں چلتی۔ سارا گولڈ انویسٹ کرتی ہیں۔اپنے اپنے خاندان کی تمام عورتوں کے پاس محفوظ گولڈ کی مقدار کا اندازہ لگایئے اور پھر بتایئے کہ کیا مسلمان غربت و افلاس کا شکار ہیں؟
ایک اور اہم نکتہ غور کیجئے کہ جس طرح ہندوؤں میں عقیدہ ہے کہ بھگوان پر گولڈ چڑھانے سے نجات ( نروان) حاصل ہوتا ہے ، اسی طرح مسلمانوں میں بھی عقیدہ ہے کہ پیروں کی جیبیں بھرنے اور کہیں اور نذر ونیاز چڑھانے سے نجات حاصل ہوتی ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ مسلمان گولڈ نہیں بلکہ پیسہ نذرانے میں دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عام شہروں کی چھوٹی چھوٹی درگاہوں کے غلے کا دس دس کروڑ روپیہ میں خراج ہوتا ہے۔ اس سے ان درگاہوں کی آمدنی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ جب ایک شہر کی عام درگاہوں کا کلیکشن اتنا ہے تو اجمیر شریف، نظام الدین والیاؒ وغیرہ جیسی درگاہوں کا کلیکشن کتنا ہوگا؟ یہ پیسہ قوم کی ملکیت ہونا چاہئے تھا یا سجادہ نشینوں کی تجوریوں کی زینت؟ کیا خاکم بدہن ان اولیائے کرامؒ نے دین کی تبلیغ محض اپنی نسلوں کو مفت خور بنانے ، عیش کرانے اور تصوف کے نام پر متوازی دین چلانے کے لئے کی تھی؟ اگر ان تمام درگاہوں کا پیسہ ایک منظم اورtransparent انداز میں قوم کی تعمیر وترقی پر لگے توقوم وملت میں دعوت و تبلیغ اور تحقیق وتدریس کے کئی کئی اعلیٰ مراکز قائم ہوسکتے ہیں اور غربت وافلاس کا جنازہ اٹھ سکتا ہے۔ 
۴۔ پارٹنرشِپ بزنس
مسلمانوںمیں دو چار فیصد سے زیادہ ایسی مثالیں نہیں جن میں آپس میں پارٹنرشپ کا بزنس کامیاب ہوا ہو۔ ہیراگولڈ جیسی کمپنیوں کے ڈوبنے کے بعد ہر کوئی تبصرے کرسکتا ہے لیکن پہلے نہیں بتاسکتا۔ ایک بات ہم پہلے ہی بتادینا چاہتے ہیں کہ اگر آپ اپنے سرمائے سے محبت کرتے ہیں تو دوستی یا رشتہ داری کی بنیاد پر اعتبار کرکے پارٹنرشپ ہرگز نہ کریں۔ پچانوے فیصد بزنس نہ صرف ناکام ہوتے ہیں بلکہ ایک طرف پیسہ بھی ڈوب جاتا ہے اور دوسری طرف تعلقات میں دراڑیں پیدا ہوجاتی ہیں۔ ایسی شراکتوں کی ایک اور اہم بنیاد یہ بھی ہے کہ قرآن کے اہم حکم کو نظرانداز کیا جاتا ہے: ائے ایمان والوں اپنے درمیان ہونے والو اگر تم ایک دوسرے سے کسی مخصوص مدت تک کیلئے قرض لو تو لکھ لیا کرو۔(سورہ بقرہ آیت ۲۸۳)۔ہماری سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ ہمارے سارے معاملات زبانی اور مروّتوں کی بنیاد پر ہوتے ہیں۔ کبھی قانونی طور پر ہر دو کو پابند بنانے والے ایگریمنٹ نہ لکھے جاتے ہیں اور نہ کسی قانونی کارروائی کرنے والے کو فیس ادا کرنا چاہتے ہیں۔ ہم نے سینکڑوں ایسی بغیر لکھا پڑھی کی پارٹنرشپ کرنے والوں کو ڈوبتے دیکھا ہے۔سبق یہ ہے کہ ایسی پارٹنرشپ میں ڈوبنے والے پیسے کا بھی اگر سروے کیا جائے تو یہ بھی ہزاروں کروڑ میں پہنچتا ہے۔ یہی پیسہ اگر نہیں ڈوبتا تو مسلمان کئی انڈسٹری کے مالک ہوتے۔
 ۵۔ وراثت کے احکام
قرآن نے نماز روزے یا حج کو تلک حدوداللہ نہیں کہا لیکن وراثت کے معاملے کو فرمایا کہ یہ اللہ کی حدیں یعنی  (Line of Control) ہیں۔یہاں تک کہ حدیث میں آیا ہے کہ وراثت میں کمی بیشی کرنے والے کے خلاف اللہ تعالیٰ خود مقدمہ لڑے گا۔ عام مسلمان لڑکیوں کی شادیوں پر اپنی نمود ونمائش کی خاطر خوب پیسہ ضائع کردیتے ہیں لیکن لڑکیوں کو وراثت نہیں دیتے۔ بزرگ خواتین کے انتقال پران کا زیور اس طرح تقسیم ہوتا ہے کہ جس بیٹے یا بیٹی نے ماںکو جو دیا تھا وہ واپس لے لیتے ہیں۔ جو بیٹا یا بیٹی نے مجبوری کی وجہ سے کچھ نہ دیا انہیں کچھ نہیں ملتا۔ حالانکہ مرحومہ کو جس نے جو تحفہ دیا وہ مرحومہ کی ملکیت ہوگئی۔ ان کے انتقال پر اب یہ ترکہ سب میں شریعت کے مطابق تقسیم ہوگا۔
ایک اور اہم ترین حکم جو نظرانداز کردیا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ ہر مرد اور عورت کو یہ حق دیا گیا ہے کہ وہ اپنے ترکے میں سے ایک تہائی 1/3rd دولت کی اپنے یا غیر کسی کے حق میں بھی وصیت کرسکتے ہیں۔ باقی تقسیم شریعت کے طریقے پر ہوگی۔ اگر ہر عورت اور ہر مرد اپنے حق کا استعمال کرتے ہوئے اپنا ایک تہائی کسی اصلاحی تحریک، کسی متاثرہ تحریکی فرد، کسی مستحق شخص یا کسی مدرسے کے حق میں وصیت کردیں تو قوم کی ترقی میں کتنی مدد مل سکتی ہے لیکن بدقسمتی سے لوگ ساری زندگی اولاد کیلئے اور دامادوں کو خریدنے کماتے کماتے مرجاتے ہیں۔ کئی ایک تو ایسے ہیں جن کی اولادیں خوش حال ہیں لیکن پھر بھی تمنا یہ ہوتی ہے کہ ان کے بعد بھی سب کچھ دامادوں اور بیٹے بیٹیوں کو ملے۔ جو زیور بیٹیوں اور بہوؤں کو ملتا ہے وہ پھر لے جاکر لاکرز میں زنگ آلود کرتی ہیں اور وہ بھی جب مرتی ہیں تو ان کے زیور کے ساتھ بھی وہی حشر ہوتاہے، لیکن یہ لوگ اس خزانے کو قوم کے کام آنے نہیں دیتے۔وارثین کو بھی جب بغیر محنت کے دولت ہاتھ آتی ہے تو اس کی کوئی قدر نہیں ہوتی۔ وہ بھی شادیوں اور فضول شوق پر بے رحمی سے پیسہ خرچ کرتے رہتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہوتا کہ وراثت کا وہ حکم جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے ایک بہترین Financial Planning عطا فرمائی تھی، ضائع ہوجاتا ہے۔ یوں غریب اور غریب ہوتا جاتا ہے امیر اور امیر ہوتا جاتا ہے۔ان کے گھروں کی خدمت کرنے والے نوکروں کی تنخواہ دس دس ہزار ہوتی ہے لیکن اللہ کے گھر کی خدمت کرنے والے امام، مؤذن اور خطیب کی تنخواہ پانچ ہزار سے زائد نہیں ہوتی۔ پھر لوگ یہ چاہتے ہیں کہ علمائے کرام قوم کی تقدیر پلٹ دیں۔ یہ کیسے ممکن ہے؟ 
(بقیہ جمعرات کے شمارے میں ملاحظہ فرمائیں)