تازہ ترین

پابندی ہٹا دی گئی

پاکستان نے بھارت کیلئے فضائی راستہ کھول دیا

17 جولائی 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

نیوز ڈیسک
اسلام آباد//پاکستان نے اپنی فضائی حدود کو بھارت کے فضائی ٹریفک کیلئے مکمل طور پر کھو ل دیں ۔رواں سال فروری میں بھارت سے کشیدگی کے بعد پاکستان نے اپنی فضائی حدود پروازوں کے لیے بند کردیں تھیں جسے بعد ازاں مسافر پروازوں کے لئے جزوی طور پر کھول دیا گیا تھا۔ البتہ بھارت سے متصل مشرقی سرحد بدستور فضائی پروازوں کے لیے بند تھی۔ اس سلسلے میں سول ایوی ایشن نے نوٹم جاری کردیا ہے۔ جس کے بعد تمام روٹس کے طیارے پاکستانی فضائی حدود استعمال کرسکیں گے۔ فضائی حدود کی بندش ختم ہونے کے بعد لاہور سے نئی دہلی، بنکاک، کوالالمپور، سری لنکا اور ارمچی کی پروازیں بحال ہوگئی ہیں۔سول ایوی ایشن اتھارٹی کے مطابق ابھی تک شمال سے جنوب اور جنوب سے شمال کے صرف تین روٹ کھلے تھے تاہم اب تمام روٹس پروازوں کے لیے کھول دیے گئے ہیں، جس کے بعد اب بھارتی ایئر لائنز بھی پاکستانی ایئر اسپیس استعمال کر سکتی ہیں۔واضح رہے کہ رواں برس پاک بھارت کشیدگی کے بعد پاکستان نے 27 فروری کو اپنی تمام فضائی حدود اور ایئرپورٹس کو بند کردیا تھا تاہم چند روز بعد اہم ہوائی اڈے کھول دیے گئے تھے، ابتدائی طور پر ابتدائی طور پر 3 روٹس کھولے گئے تھے۔ تاہم مشرقی حدود نہیں کھولی گئی تھیں جس سے صرف پاکستان کو یومیہ 15 کروڑ روپے کا نقصان ہورہا تھا۔
 

چین کا خیر مقدم

بات چیت شروع کرنیکی وکالت

بیجنگ //پاکستان کی جانب سے بھارت کیلئے فضائی راستہ کھولنے کے فیصلے پر چین نے مسرت کااظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ صحیح وقت پر صحیح فیصلہ لیا گیا ہے جس کا خیر مقدم کرتے ہیں ۔ چینی وزیر خارجہ یانگ یی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی جانب سے بھارتیہ فضائی کیلئے ائر روٹ کھولنے کا چین خیر مقدم کرتا ہے کیوں کہ چین بھارت اور پاکستان کے مابین قربت کا خواہاں ہے اسلئے چین مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے دونوں ممالک کو مذاکراتی عمل بحال کرنے کی بار بار اپیل کرتا رہا ہے ۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ چین کی مسئلہ کشمیر کے حوالے سے سابقہ پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی اور بھارت میں نئی حکومت تشکیل پانے کے باوجود بھی چین کی پالیسی تبدیل نہیں ہوگی ۔ بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ چینی وزیر خارجہ یانگ یی پاکستان کا دورہ کریں گے جہاں وہ پاکستان پرکو اس بات کیلئے قائل کرنے کی کوشش کریں گے کہ بھارت کے ساتھ مذاکراتی عمل پھر سے شروع کریں۔