تازہ ترین

۔5برسوں میں 1376ہلاکتیں

۔ 963 جنگجومارے گئے،413سیکورٹی اہلکار بھی اپنی جان گنوابیٹھے:مرکز

17 جولائی 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

نیوز ڈیسک

کشمیر میں ملی ٹینسی اور علیحدگی پسندانہ سوچ آخری سانسیں لے رہی ہے

 
نئی دہلی //مرکزی سرکارنے کہا ہے کہ 3برسوں کے دوران لائن آف کنٹرول اور بین الاقوامی سرحد سے لگ بھگ 400جنگجو اس پار دراندازی کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ مرکزی وزیرمملکت برائے امورداخلہ جی کشن ریڈی نے  لوک سبھا میںکہاکہ جموں وکشمیربالخصوص وادی میں ملی ٹنسی اورعلیحدگی پسندانہ فکروعمل آخری سانسیں لے رہاہے اوربہت جلدطویل شورش سے یہ ریاست نجات پالے گی ،اوروہاں پہلے جیساامن وامان قائم ہوجائیگا۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ 3برسوں کے دوران 400جنگجوئوں نے دراندازی کی جن میں 12 کوجوابی کارروائی کے دورانہلاک کیا گیا۔مرکزی وزیر نے بتایا کہ لائن آف کنٹرول پر جنگجوئوں کا مقابلہ کرنے اور ان کی دراندازی ناکام بنانے کے نتیجے میں 27فورسز اہلکار بھی ہلاک ہوئے۔ انہوں نے بتایا کہ سرحد پر دراندازی کا قلع قمع کرنے کی خاطر فورسز انتہائی چوکسی کا مظاہرہ کررہے ہیں جس دوران انہوں نے اس عرصے کے دوران 4دراندازوں کو زندہ  بھی گرفتار کرلیا۔دراندازی سے متعلق واقعات کی تفصیلات فراہم کرتے ہوئے ریڈی نے بتایا کہ2016اور 2017میں بالترتیب136اور 119دراندازی کے واقعات پیش آئے ۔ انہوں نے کہا کہ  2018میں 143دراندازی کے واقعات پیش آئے جو گزشتہ برسوں کے مقابلے میں کچھ زیادہ ہیں تاہم انہوں نے کہا کہ امسال کے نصف اول حصے میں دراندازی کے واقعات میں نمایاں کمی دیکھنے کو ملی ہے ۔ ریڈی کا کہنا تھا کہ رواں سال کے چھ مہینوں میں اب تک دراندازی کے واقعات میں 43فیصدکمی واقع ہوچکی ہے۔

۔5برس کے واقعات

کانگریس رکن پارلیمان ششی تھروئورکی جانب سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں جی کشن ریڈی نے ایوان کو جانکاری فراہم کی کہ سال2014کے اوائل سے جون 2019 تک 5 برسوں میں جموں وکشمیرمیں جھڑپوں اورملی ٹنسی سے جڑے دیگرواقعات کے دوران 1376 افرادمارے گئے ،جن میں 963مقامی وغیرمقامی جنگجو اور 413سیکورٹی اہلکارشامل ہیں۔انہوں نے کہاکہ موجودہ مرکزی سرکارنے روزاول سے ہی دہشت گردانہ اورملک دشمنانہ سرگرمیوں کوناقابل قبول مانتے ہوئے جموں وکشمیرکے حوالے سے ایک جامع پالیسی اپنارکھی ہے ،جسکے خاطرخواہ اورحوصلہ افزاء نتائج برآمدہوئے ہیں ۔ وزیر کاکہناتھاکہ مرکزی سرکارنے ’جنگجوئوں اورملک دشمن ‘عناصرکے حوالے سے ’زیرئوٹالرنس ‘پالیسی اپنارکھی ہے ۔انہوں نے کہاکہ جموں وکشمیرمیں جنگجوئیانہ اورعلیحدگی پسندانہ سرگرمیوں کاقلع قمع کرنے کیلئے ایک فعال پالیسی پرعمل کیاجارہاہے ،اوریہ سیکورٹی فورسزکی اسی پائیداراورٹھوس پالیسی کانتیجہ ہے کہ اب جنگجوچھپتے اورجان بچاتے پھررہے ہیں  ۔انہوں نے لوک سبھا کو بتایا کہ مرکزی سرکار پاکستان کی جانب سے لائن آف کنٹرول اور بین الاقوامی سرحد پرکی جارہی دراندازی کے واقعات سے نمٹنے میں انتہائی سنجیدہ ہے جس کے روکتھام کیلئے کثیرالمقاصد والے منصوبوں پر کام شروع کیا جارہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ رواں برس کے ابتدائی چھ مہینوں میں دراندازی کے واقعات میں جو کمی واقع ہوئی ہے وہ اسی پالیسی کا نتیجہ ہے۔انہوں نے کہا کہ کثیر مقاصد والے اہداف میں جو اُمور شامل ہیں اُن میں لائن آف کنٹرول اور بین الاقوامی سرحد پر فورسز کی سخت دائروں والی سیکورٹی ، سرحد پر تار بندی، خفیہ اطلاعات کو مزید بہتر بنانا، آپریشنوں کے دوران آپسی تال میل، سیکورٹی فورسز کو جدید اسلحہ سے لیس کرنا اور دراندازوں کے ساتھ سختی سے نمٹنا شامل ہیں۔