پنڈتوں کی محفوظ باز آبادکاری منصوبے پرپھرغور ہوگا

اسمبلی الیکشن کے فوراً بعد معاملے کو فوقیت دی جائیگی: رام مادھو

13 جولائی 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

نیوز ڈیسک
سرینگر// بی جے پی نے کہا ہے کہ وہ  ہزاروں بے گھرکشمیری پنڈتوں کی محفوظ کیمپوں میں باز آبادکاری کے منصوبے پر از سر نو غور کرے گی۔ بی جے پی جنرل سیکریٹری اور کشمیر امور انچارج رام مادھونے کہا ہے کہ انکی پارٹی 1990کی دہائی میں ہجرت کرچکے 2سے 3لاکھ پنڈتوں میں سے کچھ کی کشمیر واپسی کیلئے وعدہ بند ہے۔رام مادھو نے ایک بین الاقوامی نیوز ایجنسی کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے کہا ’’ پنڈتوں کی وادی واپسی بنیادی حق ہے جس کی قدر کرنی چاہیے،اسکے ساتھ ہی ہمیں انہیں معقول سیکورتٰ بھی فراہم کرنا ہوگی‘‘۔مادھو نے کہا’’ جموں و کشمیر کی سابق مخلوط سرکارنے اس بات پر غور کیا تھا کہ پنڈتوں کیلئے الگ یا مشترکہ باز آبادکاری کالونیاں بنائی جائیں، لیکن اس پر بعد میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی، کیونکہ کسی بھی بات پر باہمی اتفاق رائے پیدا نہیں ہوسکا‘‘۔رام مادھو نے کہا کہ بھاجپا کو اس بات پر یقین ہے کہ وہ آنے والے اسمبلی انتخابات جیت جائے گی جس کے بعد باز آباد کاری منصوبہ کی عمل آوری پر غور ہوگا۔انکا کہنا تھا’’ میں یقین ہے جب ہم واپس اقتدار میں آئیں گے، ہم دوبارہ اس معاملے کو اٹھائیں گے اور دیکھیں گے کہ کوئی حل نکلے آئے‘‘۔خیال رہے کشمیر ی پنڈتوں کی وطن واپسی کے سلسلے میں علیحدہ کالونیوں کی تعمیر کے منصوبے کی نہ صرف علیحدگی پسند جماعتیں بلکہ مین اسٹریم سیاسی پارٹیاں بھی مخالفت میں پیش پیش ہیں۔علیحدگی پسند اور مین اسٹریم سیاسی پارٹیوں کا ماننا ہے کہ علیحدہ کالونیوں کے حکومتی منصوبے سے ریاست میں دونوں طبقے کے درمیان مزید خلیج پیداہوگی۔اس سلسلے میں سال 2015کے دوران پی ڈی پی، بی جے پی پر مشتمل مخلو ط حکومت نے ایک بلیو پرنٹ بھی جاری کیا تھا جس میں مذکورہ کالونیوں کی تعمیر کے حوالے سے مفصل تفصیلات موجود تھیں، تاہم بعد میں عوامی رد عمل سامنے آنے کے بعد اس منصوبے کو التوا میں ڈالا گیا۔واضح رہے پنڈتوں کی کشمیر واپسی سے متعلق حریت (ع) چیئرمین میرواعظ عمر فاروق نے حالیہ انٹرویو میں اس بات کا اظہار کیا  تھاکہ 1990میں ہجرت کرچکے کشمیری پنڈتوں کی واپسی کیلئے حریت متفکر ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنڈتوں کی کشمیر واپسی کو ممکن بنانے کیلئے حریت  آنے والے دنوں میں خصوصی ٹیمیں تشکیل دے گی جس میں علماء، سیول سوسائٹی ممبران، تجار کے ساتھ ساتھ کشمیر میں رہائش پذیر پنڈت برادری کے نمائندے شامل ہوں گے جو مختلف طبقوں کے ساتھ صلاح و مشورہ کرکے پنڈتوں کی واپسی کیلئے ماحول کو سازگار اور دوستانہ بنانے میں اپنا رول ادا کریں گے۔
 

تازہ ترین