ادارہ فلاح الدارین بارہمولہ کشمیر

سالانہ اجتماع کی اجمالی تصویر

13 جولائی 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

سہیل بشیر کار۔۔۔ بارہمولہ کشمیر
 ادارہ فلاح الدارین بارہمولہ کشمیر گزشتہ دو دہائیوں سے بارہمولہ میں جہاں فکری اور علمی بنیادوں پر کام انجام دے رہا ہے وہی سماجی خدمات پر مبنی مختلف نوعیت کے کام بھی کر رہا ہے۔اس ہمہ جہتی کام میں ایک طرف تفہیمِ قرآن کلاسز، دروس قرآن، ورکشاپس، مختلف موضوعات پر لیکچرز، اعلٰی معیاری اسکول ’’عارفین اسکول آف ایکسلنس بارہمولہ‘‘کا قیام اورکشمیرمیںاپنی نوع کامنفرد تحقیقی ادارہ’ ’مرکز برائے تحقیق وپالیسی مطالعات ‘‘کا قیام شامل ہے۔ دوسری طرف قصبہ بارہمولہ کے قریب ۵۰۰ کمزور اور مستحق کنبوں کی ماہانہ اعانت، درجنوں غریب بچیوں کی شادی بیاہ کے اخراجات اور سینکڑوں ضرورت مند بیماروں کی ا مداد بھی شامل ہے۔یہ ہمہ جہت کام اللہ کے فضل  وکرم سے اور لوگوں کے تعاون سے ہی ممکن ہو پاتا ہے۔ ادارہ روزاول سے ہی اس سلسلے میں کسی بھی سرکاری، نیم سرکاری یا غیر سرکاری تنظیم سے کوئی معاونت وصول نہیں کرتابلکہ قصبہ کے مخیرحضرات اپنی زکوٰۃ وصدقات اجتماعی طورپرادارہ کے سپرد کرکے نظم واجتماعیت کامظاہرہ کرتے ہیںاورادارہ منظم اورشفاف طریقے سے ہی قصبہ بارہمولہ کے مستحقین میںوہ تقسیم کرتاہے۔
ازاں جملہ ادارہ کا معمول رہا ہے کہ وہ ہر سال سالانہ اجتماع کا اہتمام بھی کرتا ہے اور سالانہ اجتماعات میں ادارہ کی روایت رہی ہے کہ ریاست و بیرون ریاست سے علماء ومقررین کو مدعو کیا جاتا ہے۔ سالِ رواں میںبھی ادارہ کی جانب سے سالانہ اجتماعات کاسلسلہ گزشتہ ماہ کے اواخرمیںشروع ہوکراختتام کوپہنچے۔۲۱ جون تا۲۵جون ۲۰۱۹ء مختلف النّوع پروگرامات منعقدکئے گئے۔ ادارہ کی دعوت پر ڈاکٹر محی الدین غازی کیرالا سے تشریف لائے۔ ڈاکٹر صاحب’ ’الجامعہ الا سلامیہ‘‘ شانتا پورم، کیرالا میں’’ ڈین فیکلٹی آف قرآنیات‘‘ ہیں۔کئی فکری اور علمی کتابوں کے مصنف بھی ہیں اور دبئی اسلامک بنک میں کئی سال تک مشیر بھی رہے ہیں۔ آپ کے مضامین کئی ممالک میں شائع ہوتے ہیں۔سالانہ کانفرنس کے سلسلے میں ڈاکٹر محی الدین غازی صاحب کومدعو کیاگیا۔موصوف نے اپنے قیام کے دوران کئی پروگرام دئے۔ پہلا پروگرام سرینگر کی مشہور مسجد اقراء سرائے بالا میں منعقد ہوا۔ اپنے جمعہ خطاب میں انہوں نے قرآنی حوالوں سے یہ بات بیان کی کہ مومن کی زندگی بغیر کشمکش کے ہو ہی نہیں سکتی۔ بندۂ مومن چاہے یا نہ چاہے، اسے کشمکش سے ضرور گزرنا ہے، مومن کی قرآنی تصویر میں جابجا اس کشمکش کے رنگ دیکھے جاسکتے ہیں۔ انہوں نے کئی مثالوں سے یہ بات حاضرین کے گوش گزارکی اوراس بات پرزوردیاکہ ہمیںزندگی بھرشیطانی قوتوںسے نبردآزمارہناہے ،اس لئے ہمیں اپنے ایمان کوپختہ کرنے کی فکردامن گیررہنی چاہئے۔ان کا دوسرا پروگرام زنانہ کالج بارہمولہ میںمنعقدہوا۔لیکچرکا عنوان "مسلم خواتین کی عظیم ترین ذمہ داریاں" تھا۔ پروگرام میں ڈاکٹر صاحب نے بچیوں سے مخاطب ہو کر انہیں تعلیم کے میدان میں آگے بڑھنے کی پرزور تلقین کی۔علاوہ ازیںاسلامی تاریخ کی پُرعظمت خواتین حضرت مریمؑ،موسیٰؑ کلیم اللہؑ کی بہن سے عزم واستقلال،دانش مندی وزیرکی سیکھنے کی تلقین کی۔ پروگرام کے آخر میں بچیوں نے کچھ اہم سوالات کیے جن کا ڈاکٹر صاحب نے تشفی بخش جواب دیا۔ ڈاکٹر صاحب کا تیسرا پروگرام ریسرچ اسکالرز، دانشور حضرات اور منتخب طلباء کے بیچ میںمنعقدہوا۔مذکورہ پروگرام فلاح الدارین کانوقایم کردہ ریسرچ سینٹر’’مرکزبرائے تحقیق وپالیسی مطالعاتـ‘ ‘کے کانفرنس ہال میں منعقدہوا۔موصوف نے وہاں "قرآن میں عقل کا مقام" کے موضوع پر لب کشائی کی۔اس پروگرام میں ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ قرآن مجید نے ہمیشہ عقل استعمال کرنے پر زوردیااورایسی تعبیریںاورفقرے استعمال کئے جن میںاولی الالباب کومخاطب کرکے غوروفکرکی ترغیب دی گئی ہے۔دوران لیکچرشرکاء نے سوالات بھی جاری رکھے اوراکثرفاضل مقررصاحب خودبھی حاضرینِ مجلس سے سوالات پوچھتے رہے جس سے سبھی کادھیان لیکچرکی طرف رہا۔اس دوطرفہ رابطے کافی مثبت اثرات پڑے۔ ڈاکٹر صاحب کا چوتھا پروگرام قصبہ میںعوامی اجتماع میںہوا۔
 سالانہ کانفرنس کے سلسلے کاسب سے بڑااجتماع مرکزی مسجد شریف بیت المکرم بارہمولہ میں منعقد ہوا۔مذکورہ کانفرنس اگرچہ عیدگاہِ جدیدبارہمولہ میںمنعقدہوناتھالیکن موسم کی ناسازگاری کی وجہ سے اجتماع گاہ علی الصّبح تبدیل کرناپڑا۔کانفرنس میں ڈاکٹر صاحب نے اپنے موضوع’’محبت واتفاق۔۔خاندان سے اُمت تک‘‘ پرسیرحاصل گفتگوکی۔اپنے خطاب میں ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ" محبت و اتفاق چاہے خاندان میں ہو یا امت میں یہ اسلام کی بنیاد ہے۔‘‘ محبت و اتفاق کے حوالے سے انہوں نے عملی نقشہ بھی پیش کیا۔ اس کانفرنس میں ڈاکٹر صاحب کے علاوہ امتیاز عبدالقادر (ریسرچ اسکالرشعبہ اردوکشمیریونیورسٹی سرینگرورکن ادارہ فلاح الدارین) نے امت مسلمہ، ترجیحات کے بگڑے نظام پر بات کی۔ کانفرنس میں انجینئر میر نذیر احمد پانپوری(شاہ ہمدان ؒٹرسٹ) نے "اعلی اخلاقی اقدار.. قومی عروج کا راز" پر خطاب کیا۔ اپنے خطاب میں انہوں نے مثالوں سے سمجھایا کہ یہ اعلی اخلاق ہی ہوتے ہیں جن کی بنیاد پر سیادت اور قیادت کے فیصلے کیے جاتے ہیں۔ کانفرنس میں مولانا اعجاز الحق نقشبندی(گاندر بل) نے" اتحاد ملت، وقت کی اہم ترین ضرورت" پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اتحاد ملت وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ انہوں نے ان عناصر سے ہوشیار رہنے کی دعوت دی جو امت مسلمہ میں اتحاد کو پارہ پارہ کر رہے ہیں۔ جناب شوکت شاہین (خطیب اقراء مسجد سرینگر) نے "  یس کر گونگل سوی کر کراؤ "کے موضوع پر اپنے خطاب میں ورک کلچر کی اہمیت کو اُجاگر کیا۔سیرت اور تواریخ سے حوالے دے کر انہوں مثبت اور مضبوط ورک کلچر کی افادیت کو بیان کیا اور موجودہ وقت میں اْسی طرح کے ورک کلچر کو فروغ دینے پر زور دیا۔ اس کانفرنس کی نظامت ڈاکٹر عبدالروف میرصاحب کر رہے تھے۔سالانہ کانفرنس میں بڑی تعداد میں مردوں کے علاوہ خواتین نے شرکت کی جو کہ معاشرے میں ایک خوشگوار تبدیلی کا عندیہ ہے۔
قرآن کے طالب علموں اور مدرسین کو یہ مشکل پیش آتی ہے کہ وہ مختلف تفاسیر کے باوجود بہت سے معاملات میں تشفی محسوس نہیں کرتے۔ڈاکٹر محی الدین غازی قرآنیات کے ماہرہیں۔وہ برصغیرکے ان چنیدہ اسکالرزمیںہیںجوقرآن فہمی پرکام کر رہے ہیں۔موصوف کی اس صلاحیت کوملحوظ خاطررکھتے ہوئے ادارہ کے چنندہ افراداور’’ بنات الزہرہ‘‘ بارہمولہ کشمیر سے وابستہ منتخب بہنوںکے لئے ’’مرکزبرائے تحقیق وپالیسی مطالعات‘‘ نے ایک لیکچرکااہتمام کیا۔ڈاکٹرمحی الدین غازی نے "قرآن مجید پر تدبر، نئی راہوں کی دریافت" کے عنوان پر ایک پاور پوائنٹ پریزینٹیشن کے ذریعے قرآن فہمی اوراس پرتدبرکے حوالے سے کافی مفید نکات بیان کیے ۔لیکچرکااختتام سوالات و جوابات پرہوا۔مذکورہ پروگرام کی نظامت ریسرچ سینٹرکے کوآرڈینیٹرامتیازعبدالقادرنے سنبھالی۔
ڈاکٹر محی الدین غازی کا ایک اور پروگرام ڈگری کالج بارہمولہ کے آڈیٹوریم ہال میں " سوشل جسٹس اِن اسلام " کے عنوان پر ہوا۔ اپنی تقریر میں انہوں نے عدل کے تئیں اسلام کی اصولی تعلیمات کا خلاصہ پیش کیا۔ سماجی انصاف اسلام میں کسی وقتی عمل کا نام نہیں ہے بلکہ اسلام چاہتا ہے کہ یہ ہر شخص کا مستقل رویہ ہو۔ پروگرام میںکالج عملہ کے علاوہ طلباء و طالبات کی کافی تعدادموجودرہی۔
ڈاکٹر غازی کا آخری پروگرام مسجد نور ،خواجہ باغ بارہمولہ میں منعقد ہوا، جہاں پر ڈاکٹر صاحب نے ’’مثالی معاشرہ ‘‘کے حوالے سے اہم گفتگوکرتے ہوئے اسلامی معاشرہ کی تعمیر کا عملی خاکہ پیش کیا۔ والدین پراولاد کی تربیت اوراولادپروالدین کے حقوق کے حوالے سے انہوںنے بات کی۔علاوہ ازیںمعاشرہ جن عناصرسے وجودپاتاہے،ان سبھی کے حقوق کی نگہداشت ہی ایک مثالی معاشرے کی تشکیل میں معاون ہوتاہے۔گھر،خاندان اوران سے جڑے رشتوںکی قدرپرموصوف نے زوردیا۔
سالانہ کانفرنس کی اہم بات یہ رہتی ہے کہ کارکنان میںایک نئی زندگی عودکرآتی ہے۔ہررفیق اپناسوفیصددے کرخودکوجمودوتعطل سے نجات دے کرتحرک وتبدل کی راہ پرلگالیتاہے۔حالانکہ وہ سبھی بغیرکسی مادی معاوضے کے صرف اللہ کی رضاکے لئے اپنی اپنی ذمہ داریاںنبھاتے ہیں۔صبح سے رات گئے تک ان ایام میں کارکنان اپنی سی سعی میںمصروف رہتے۔صلے کی پروا نہ اور نہ ستائش کی تمنا۔آج کے مادہ پرست معاشرے میںیہ کسی کرامت سے کم نہیں اوریہی ہماری بڑی کامیابی ہے۔ اللہ تعالیٰ ادارہ کی اس چھوٹی سی کوشش کو اپنی بارگاہ ایزدی میں شرف قبولیت بخشے اور ادارہ کی ان جملہ کاوشوں کا پھل ہمیں دیکھنا نصیب کرے۔ ���
 

تازہ ترین