مزید خبریں

11 جولائی 2019 (42 : 10 PM)   
(      )

نیو ڈسک

وسندراپاٹھک مسعودی کی خورشیدگنائی سے ملاقات

سر ینگر//سٹیٹ کمیشن برائے تحفظ خواتین و بچہ حقوق کی حال ہی میں تعینات کی گئی چئیر پرسن وسندرا پاٹھک مسعودی نے یہاں گورنر کے مشیر خورشیداحمد گنائی کے ساتھ ملاقات کی۔پرنسپل سیکرٹری سماجی بہبود روہت کنسل بھی اس موقعہ پر موجود تھے۔مشیر نے چیئرپرسن کو کمیشن کا چارج سنبھالنے پر مبارک باد دی اور اُمید ظاہر کی کہ اُن کی قیادت میں کمیشن اپنا کام کاج شروع کرے گا اور ریاست میں خواتین اور بچوں کے حقوق کو تحفظ دینے میں نمایاں رول ادا کرے گا۔وسندرا پاٹھک مسعودی نے مشیر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے یقین دلایا کہ وہ خواتین اور بچوں کے حقوق کی پاسداری کو یقینی بنانے کے لئے وعدہ بند ہیں۔
 
 
 
 

عوام دوست پالیسی ہی بھاجپا کیلئے راہ فرار کی وجہ بن گئی: پی ڈی پی 

سری نگر//پی ڈی پی کے نائب صدر عبدالرحمٰن ویری نے بتایا کہ پارٹی کی طرف سے اپنائی گئی مضبوط پالیسی کے نتیجے میں بی جے پی نے مخلوط حکومت سے راہ فراراختیار کرلی۔انہوںنے کہا کہ سابق مخلوط حکومت کے دور اقتدار میں پی ڈی پی کی طرف سے 12ہزار ایف آئی آر کی منسوخی، رمضان جنگ بندی اور دفعہ 35Aکی حفاظت نے بی جے پی کو ننگا کردیا۔  پی ڈی پی کے نائب صدر عبدالرحمٰن ویری کی صدارت میں سرینگر میں پارٹی لیڈران اور کارکنان کی اعلیٰ سطحی میٹنگ جمعرات کو منعقد ہوئی جس میں پارٹی لیڈران نے کارکنان کو زمینی سطح پر متحرک رہنے کیساتھ ساتھ پارٹی ورکروں، کارکنوں اور حامیوں کے درمیان بہتر تال میل کو یقینی بنانے پر زور دیا۔پارٹی کی طرف سے طلب کی گئی میٹنگ میں جنرل سیکرٹری غلام نبی لون ہانجورہ، ریاستی سیکرٹری آسیہ نقاش، صدر ضلع سرینگر محمد خورشید عالم، محمد اشرف میر، عبدالقیوم وانی، نور محمد شیخ اور دیگرلیڈران موجود تھے۔میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے پارٹی کے نائب صدر عبدالرحمٰن ویری نے کہا شہر سرینگر کو تعمیر و ترقی کے لحاظ سے نظر انداز کرنے پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شہر سرینگر میں متعدد تعمیراتی پروجیکٹوں پر کام کاج ٹھپ پڑا ہوا ہے۔ انہو ں نے بتایا سرینگر کے عوام کو ریاستی حکومت نے تمام بنیادی سہولیات سے یکسر طور پر محروم کرکے رکھ دیا ہے جس کے نتیجے میں یہاں رہائش پذیر آبادی کو سخت مشکلات کا سامنا درپیش ہے۔ویری کے مطابق سرینگر میں جہاں بھی نظر دوڑائی جائے ، پانی کی شدید قلت کیساتھ ساتھ سڑکوں کی خستہ حالی ہی نظر آتی ہے۔انہوں نے کہا کہ سرینگر کی بیشتر سڑکیں حکومت نے نظر انداز کردی ہے۔ یہاں سڑکیں عدم توجہی کے باعث کھنڈرات میں تبدیل ہوچکی ہیں۔ تعمیراتی سرگرمیوں کے عدم موجودگی کے نتیجے میں سرینگر میں اضطرابی صورتحال پید اہوئی ہے۔ انہوں نے کارکنان پر زور دیا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ سرینگر کے عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوکر یہاں پیدا شدہ مسائل کے تصفیہ کی خاطر آواز کو بلند کیا جائے۔اس دوران میٹنگ سے پارٹی کے جنرل سیکرٹری غلام نبی لون ہانجورہ نے خطاب کرتے ہوئے سال 2002تا 2005کو ریاست کیلئے مثالی حکومت کا دور قرار دیا۔انہوں نے بتایا کہ 2014کے انتخابات میں پارٹی کو عوام کی جانب سے واضح اکثر یت نہیں ملی جس کے بعد پی ڈی پی کو مجبوری کے طور پر بی جے پی کیساتھ حکومت سازی کرنی پڑی۔ انہو ں نے کہا کہ بی جے پی کیساتھ حکومت سازی کے دوران پی ڈی پی نے اپنی پالیسی پر کسی بھی قسم کا کمپرومائز نہیں کیا اور چٹان کی طرح اپنے عوام دوست ایجنڈے پر قائم رہی۔ ہا نجورہ نے بتایا کہ پی ڈی پی کی کی طرف سے اپنائی گئی مضبوط پالیسی کے نتیجے میں بی جے پی نے مخلوط حکومت سے راہ فراراختیار کرلی۔ انہوں نے کہا کہ سابق مخلوط حکومت کے دوران پی ڈی پی نے 12ہزار ایف آئی آر کی منسوخی ، سنگ بازوں کیلئے عام معافی اور این ایچ پی سی کے زیر کنٹرول پائور پروجیکٹوں کی واپسی کا مطالبہ دہرانے میں کسی بھی سطح پر مصلحت پرستی سے کام نہیں لیا۔میٹنگ کے دوران سابق وزیر اور ریاستی سیکرٹری آسیہ نقاش نے بتایا کہ پی ڈی پی نے ریاست کی وحدت اور شناخت کی حفاظت کو یقینی بنانے کیلئے دلیرانہ اور بہادرانہ اقدامات اُٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی نے بحیثیت وزیر اعلیٰ مرکزی سرکار کے ہر اُس اقدام کی کڑی مخالفت کی جس کا مقصد ریاست کے آئین کیساتھ چھیڑ چھاڑ کرنی تھی۔آسیہ نقاش کا کہنا تھا کہ محبوبہ مفتی نے 12ہزار نوجوانوں کیخلاف درج ایف آئی آر کو منسوخ کرنے کے ساتھ ساتھ مرکزی سرکار کو ماہ صیام کے دوران جنگ بندی پر راضی کیا۔ادھر پارٹی کے ضلع صدر سرینگر محمد خورشید عالم نے اپنے خطاب میں پارٹی کارکنان کے درمیان بہتر تال میل پر زور دیا۔ انہوں نے بتایا کہ وقت آچکا ہے کہ جب پی ڈی پی ریاست میں ایک بڑی طاقت کے طور پر اُؓبھر کرسامنے آئیگی اور ریاستی کے مستقبل کو خوشحالی کی طرف رہنمائی کریگی۔
 
 
 
 
 
 
 

بجلی کی پیداوار میں خود کفالت

شرما کاریاست میں غیرروایتی توانائی کے ذرائع بروئے کار لانے پر زور 

سر ینگر//گورنر کے مشیر کے کے شرما نے بجلی کی پیداوار میں خود کفالت حاصل کرنے کے لئے غیر روائتی توانائی کے ذرائع کو مکمل طور سے بروئے کار لانے پر زور دیا ہے ۔مشیر موصوف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی محکمہ کی طرف سے ہاتھ میں لئے جانے والے2 میگاواٹ صلاحیت والے سولر و پن بجلی پروجیکٹوں کی پیش رفت کا جائیزہ لینے کی غرض سے منعقدہ ایک میٹنگ سے خطاب کر رہے تھے۔کمشنر سیکریٹری ہردیش کمار، سیکرٹری پی ڈی ڈی ریگزن سیمفل، سی ای او جکیڈا، کے آر ای ڈی اے اور ایل آر ای ڈی اے کے نمائندے بھی میٹنگ میں موجود تھے۔مشیر نے چھوٹے پن بجلی پروجیکٹوں پر جاری کام کا جائیزہ لیتے ہوئے اس کام میں سرعت لانے کی ہدایت دی کہ بجلی کی پیداوار میں اضافہ کیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ ان پروجیکٹوں کی بدولت بجلی کی پیداوار کو تقویت بخشنے میں مدد ملے گی۔انہوں نے کہا کہ پن بجلی پروجیکٹوں کے وسائل کو بروئے کار لانے اور لوگوں کو ان کے فوائد سے روشناس کرانے کے لئے جامع روڈ میپ تیار کیا جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ دیگر غیر قابل تجدید توانائی کے ذرائع کو استعمال میں لانے کے لئے مناسب منصوبہ بندی کی جانی چاہئے تا کہ ریاست کو بجلی کے شعبۂ میں خود کفیل بنایاجاسکے اور بجلی کا خرچہ بھی کم ہوسکے۔میٹنگ میں جانکاری دی گئی کہ جکیڈا نے مختلف مقامات پر13 چھوٹے پن بجلی پروجیکٹوں کی نشاندہی کی ہے جن کی مجموعی صلاحیت 112.5 میگاواٹ ہے اور انہیں پی ایم ڈی پی۔2015 کے تحت عملایا جائے گا۔میٹنگ میں سانبہ ضلع میں سولر پارک کے قیام اور ایل آر ای ڈی اے اور کے آر ای ڈی اے کے کام کاج پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
 
 
 
 

صوبائی کمشنر نے بڈگام کے ترقیاتی منظر نامے کی پیش رفت کاجائزہ لیا

بڈگام//صوبائی کمشنر کشمیر بصیر احمد خان نے ایک میٹنگ کے دوران بڈگام ضلع کے ترقیاتی منظرنامے کی پیش رفت اورچیف سیکریٹری کی صدارت میں ضلع انتظامیہ کے ساتھ گذشتہ میٹنگ میں دی گئیںہدایات اورفیصلوں کی عمل آوری سے متعلق ایکشن رپورٹ کا جائزہ لیا۔میٹنگ کے ابتدأ میں ترقیاتی کمشنر بڈگام ڈاکٹر سید سحرش اصغر نے ایک پاور پوائنٹ پرزنٹیشن کے ذریعے ترقیاتی محاذ پر حصولیابیوں اورکئی درپیش رکائوٹوں،جنہیںہٹانے کے لئے صوبائی انتظامیہ کی مداخلت لازمی ہے کو اجاگر کیا۔اس موقعہ پر بتایا گیا کہ مختلف محکموں کے تحت رُکے پرے96پروجیکٹوں کی تکمیل کے لئے 234.22کروڑ روپے کی منظوری حاصل ہوئی ہے۔جبکہ جے کے آئی ڈی ایف کے تحت124.47کروڑ روپے کی لاگت والے مزید9پروجیکٹوں کو منظور کیا گیا ہے۔’’بیک ٹو ولیج‘‘ پروگرام کی کامیاب عمل آوری کو اجاگر کرتے ہوئے میٹنگ میں کہا گیا کہ ضلع بھر میں 296پنچایتوں کو پروگرام کے دائرے میں لایا گیا ہے۔جب کہ مستفیدین میں 500جاب کارڈ تقسیم کئے گئے۔میٹنگ کے دوران ضلع میں دیگر حصولیابیوں کو بھی اجاگر کیا گیا۔صوبائی کمشنر نے عوامی شکایات کے ازالہ کے لئے عوامی درباروں کا انعقاد کرنے پر بھی زوردیا۔
 
 
 

۔13 ؍جولائی کو دوسری قومی لوک عدالت کا انعقاد ہوگا

سر ینگر//جموں وکشمیر لیگل سروسز اتھارٹی کی طرف سے ریاست میں13 جولائی کو دوسری قومی لوک عدالت کا انعقاد کیا جارہا ہے۔جے کے ایل ایس اے نے ایک مکتوب میں عوام کو مطلع کیا ہے کہ یہ لوک عدالت ریاست کی تمام عدالتوں بشمول جموں وکشمیر ہائی کورٹ کی دونوں شاخوں میں منعقد کی جائے گی۔اس میں مزید کہا گیا ہے کہ جو لوگ اپنے معاملات لوک عدالت کے ذریعے افہام و تفہیم کے ساتھ حل کرانا چاہتے ہوں وہ چیئرمین/ سیکرٹری ڈسٹرکٹ لیگل سروسز اتھارٹی کے ساتھ 12 جولائی2019 تک رابطہ قائم کرسکتے ہیں تا کہ اُن کے معاملات کو لوک عدالتوں کے لئے لسٹ کیا جاسکے۔مکتوب میں کہا گیا ہے کہ فریقین کے درمیان افہام و تفہیم کو یقینی بنانے اور معاملات نمٹانے کے لئے زیادہ سے زیادہ کیسوں کو شنوائی کے لئے اُٹھایا جائے گا۔لوک عدالت کی مختلف بنچوں کی طرف سے بنک ریکوری معاملات، کریمنل کمپاؤنڈ ایبل معاملات، بجلی معاملات، اراضی تنازعات، ایم اے سی ٹی معاملات اور دیگر کئی نوعیت کے معاملات اُٹھائے جائیں گے۔
 
 
 

انسانی حقوق کی پامالیوں سے متعلق تازہ رپورٹ قابل داد: مولانا عباس 

سرینگر// اتحاد المسلمین کے سربراہ مولانا محمد عباس انصاری نے کشمیر میں ہورہی انسانی حقوق کی پامالیوں پر اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کونسل کی جانب سے تازہ رپورٹ کی سراہنا کرتے ہوئے اُسے قابل داد قرار دیا ہے۔ اپنے بیان میں انصاری نے کہا کہ انسانی حقوق کونسل کی اس رپورٹ نے کشمیر میں دہائیوں سے جاری انسانی اقدار کی پامالیوں کوبے نقاب کیا ہے اور خواب خرگوش میں محو اقوام عالم کو بیدار کرنے کیلئے یہ رپورٹ ایک اہم کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے اقوام متحدہ پر زور دیا کہ وہ اس تازہ رپورٹ اور سال گزشتہ کی رپورٹ کے حوالے سے مثبت اقدامات کریں ۔ انہوں نے ہندوستان اور پاکستان پر زور دیا ہے کہ مذکورہ رپورٹ میں تجویز کئے گئے اقدامات پرعمل کرکے اس صورتحال کا تدارک کریں۔
13جولائی1931
 
 
 

حریت (گ)،حریت (ع)اورلبریشن پارٹی کا شہداء کو خراج عقیدت

سرینگر//حریت (گ) اور حریت (ع)نے 1931 کے شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا ہے۔ حریت (گ)کے ایک بیان کے مطابق حریت چیئرمین سید علی گیلانی کی ہدایت پر حریت قائدین مزارِ شہداء نقشبند صاحب جاکر شہداء کو خراج عقیدت پیش کریں گے۔ بیان کے مطابق 1931 میں جب توہین قرآن کے خلاف جموں کشمیر میں عوامی احتجاج بھڑک اٹھا تو خانقاہ معلی کے ایک عوامی اجتماع میں عبدالقدیر نامی نوجوان نے پرجوش تقریر کی جس کی پاداش میں اس کو گرفتار کرکے سرینگر سینٹرل جیل میں مقید کیا گیا۔ 13جولائی 1931 کو سرینگر سینٹرل جیل میں اس کے خلاف عدالتی کارروائی ہورہی تھی اور عوام جوق در جوق اس نوجوان کی عدالتی کارروائی کا مشاہدہ کرنے کیلئے آرہے تھے اور اس دوران نمازظہر کا وقت آیا تو ان میں سے ایک فرد اذان دینے کیلئے کھڑا ہوااور ڈوگرہ فوج نے اس موذن کو گولیوں سے بھون ڈالا پھر ایک کے بعد ایک نے اذان دی تو اذان مکمل ہونے تک 22افراد نے جام شہادت نوش کیا۔ یوں یہ پہلا موقع تھا جب معصوم اور نہتے کشمیری عوام کو اجتماعی طور لہو لہو کیا گیایہی وہ عوامی جوش وجذبۂ تھا جس نے شخصی راج کی بنیادیں ہلادیں لیکن 1947 میں کچھ لوگوں کے ہوس اقتدار نے ان قربانیوں کا کوئی پاس ولحاظ نہ رکھ کر قوم کو ایسے دلدل میں پھنسا دیا جس وجہ سے اب تک یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ حریت کانفرنس نے ائمہ مساجد سے بھی اپیل کی کہ وہ نماز جمعہ کے موقع پر اجتماعی دعاؤں کا اہتمام کریں۔ادھر حریت(ع) نے 13 جولائی 1931 کے شہداء کو خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ حریت چیئرمین میرواعظ محمد عمر فاروق کی قیادت میں 13 جولائی کو نماز ظہر کے بعد مرکزی جامع مسجد سرینگر سے مزار شہداء حضرت نقشبند صاحبؒ تک ایک جلوس نکالا جائے گا جہاں شہداء کی اجتماعی فاتحہ خوانی ہوگی اور انہیں خراج عقیدت پیش کیا جائے گا۔ایک بیان کے مطابق جن لوگوں نے اُس روز اپنی جانیں دے دیں وہ جموںوکشمیر کے اولین شہداء ہیں۔بیان کے مطابق کشمیری عوام کی طرف سے اپنے جذبات اور احساسات کی تقویت و احترام کیلئے جدوجہد تب سے برابر جاری ہے اور آج تک اس راہ میں لاکھوں افراد نے اپنی جانوں کی قربانی دی ہے۔بیان میں کہا گیا کہ کشمیری عوام اُن کے جذبات اور احساسات کا احترا م کرتے ہوئے اس سیاسی اور انسانی مسئلہ کا ایک پر امن اور منصفانہ حل چاہتے ہیں تاکہ اس مسئلہ کی وجہ سے یہاں ہو رہی انسانی حقوق کی پامالیوں اور خون خرابے کا خاتمہ کیا جاسکے ۔ڈیموکریٹک لبریشن پارٹی کے چیئرمین ہاشم قریشی نے 13جولائی 1931کے شہداء کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ُان ہی کے نقوش پر چلتے ہوئے کشمیری عوام 70برسوں سے مالی و جانی قربانیاں دیتے آرہا ہے ۔ایک بیان میں ہاشم قریشی نے کہا کہ جب ہندوستان انگریز وں کا غلام تھا اور پاکستان اور بنگلہ دیش کا وجود ہی نہیں تھا تب بھی جموں کشمیر ایک علاحدہ اور خود مختار مملکت تھی۔انہوں نے کہا 13جولائی کے شہدا نے اگرچہ شخصی راج کے خلاف آواز اُٹھاکر اپنی جانوں کی قربانی پیش کی لیکن تاریخ گواہ ہے کہ اُس وقت بھی جموں کشمیر ایک خود مختار ملک تھا ۔
 
 
 

مامر کنگن میں حادثہ،خاتون زخمی

غلام نبی رینہ

کنگن//مامر کنگن میں سڑک کے ایک حادثے میں ایک سویفٹ کار زیر نمبر JKO2G-9317نے 48سالہ ساجہ بیگم زوجہ غلام محمد رینہ ساکن مامر کو ٹکر مار کرشدید ذخمی کردیا ۔مذکورہ خاتون کو شدید زخمی حالت میں سب ڈسٹرکٹ ہسپتال کنگن منتقل کردیا گیاجہاں اُس کا علاج و معالجہ جاری ہے۔
 
 
 
 
 
 
 
 
 

تازہ ترین