تازہ ترین

اسلام اور جمہوریت

کچھ مماثلتیں کچھ اختلافات .....قسط2

12 جولائی 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

احمد شاہ نواز عالم قاسمی۔۔۔ بیگوسرائے

  جمہوریت اور ریشنلزم :

نظام اسلامی اورجمہوریت کے درمیان قدرے اشتراک اس امر میں ضرور ہے کہ ان دونوں نظام ہائے سلطنت نے شخصی اور وراثتی سلطنت کو صفحہٴ ہستی سے مٹانے میں اہم کردار ادا کیے ہیں لیکن اس ادنیٰ سی مناسبت کی وجہ سے ان دونوں نظام ہائے سلطنت کے اصولی و فروعی آپسی تناقض سے چشم پوشی کرنا کسی اعتبار سے بھی معقول نہیں۔ چوں کہ نظریے کے کسی بھی باب میں اتفاق کا لفظ اسی وقت استعمال کیا جاسکتا ہے جب کہ کم از کم ان دونوں نظریات کے بنیادی اصول و اغراض میں اتفاق ممکن ہو، حالاں کہ جمہوریت اوراسلامی نظام کے بنیادی نظریے میں زمین و آسمان کا فرق ہے؛ کیوں کہ حکومت اسلامی مسلمانوں کے ایمان باللہ، ایمان بالآخرة اوراسلامی مقاصد کو بروئے کار لانے کی ضامن ہے، جبکہ جمہوریت کے پس پردہ کوئی ایسی طاقت نہیں پائی جاتی جو ایسے مقاصد کو درجہٴ فعلیت میں لانے کی ضمانت دے سکے اوراگر کوئی طاقت ہے تو وہ ریشنلزم یا تعلقیت کی ہے جس کی ایک فرع جمہوریت ہے۔ ریشنلزم کی حقیقت سے متعلق جناب اسرار عالم صاحب ”انسائیکلو پیڈیا آف فلاسفی“ کے حوالے سے رقم طراز ہیں:’’ریشنلزم ، خیالات کے مختلف زاویہ ہائے نظر اور تحریکات کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، وہ اس بات پر زور دیتا ہے کہ دنیا کی حقیقی صداقتوں کو گرفت میں لینے کے لیے ایک استخراجی عقل کی قوت ضروری یا کافی ہے۔یہ دراصل ایک نقطہ  ٔ نظر ہے جو مذہب میں عقل کواتھارٹی مانتا ہے اور ان تمام عقائد و نظریات کو رد کرتا ہے جو عقل کے مطابق نہ پائے جائیں؛ لیکن اس لفظ کی موجودہ صورت دو معنوں کو محیط ہے: پہلا مفہوم اوپر ذکر ہوچکا ہے، جب کہ دوسرا اس کی وہ صورت گری ہے جوانیسویں صدی کے یورپ میں سامنے آئی جو سرتا سر مذہب کو ڈھانے والی تھی۔‘‘ (عالم اسلام کی اخلاقی صورت حال، ص: ۵۴)
ظاہر ہے کہ اصل اور سرچشمے کی صورت یہ ہے تواس پر قائم ہونے والی جمہوریت ان بنیادی کمزوریوں سے کیوں کر پاک ہوسکتی ہے؟ یقینا جمہوریت بھی الٰہیاتی تصور کھوکر بین الاقوامی بدامنی میں تبدیل ہوجائے گی، پھر جمہوریت کا نظام اسلامی کے موافق ہونا کوئی معنی نہیں رکھتا۔

اسلام کا تصور حاکمیت:

حاکمیت کے باب میں اسلام کا بنیادی نظریہ یہ ہے کہ ایک انسان کو دوسرے انسان پر کسی طرح حکمرانی کا کوئی حق حاصل نہیں، اقتدار و حکومت، جاہ و منصب اور قانون سازی کا اختیار صرف اور صرف احکم الحاکمین کو ہے اور خدائی کاموں میں دخل اندازی انسانی منصب کے قطعی منافی ہے۔ قرآن کریم میں’’بے شک حکم صرف اللہ کاہے ‘‘ کی واضح نص موجود ہے۔ البتہ حکومت کا نظم و نسق سنبھالنے کے لیے زمین میں ایک نائب جماعت سرگرم عمل ہے،اس کی حیثیت فقط ایک مزدور کی ہے جو آقا کے متعین کردہ حدود میں رہتے ہوئے اپنے فرائض کی انجام دہی میں مصروف کار ہے، زندگی کے ہر شعبے میں اس کے طور طریقے معیاری حیثیت کے حامل ہیں جس سے اس کو تمکن فی الارض کا منصب حاصل ہوتا ہے، اس کو کسی طرح قانون میں ترمیم و تنسیخ اور ردوبدل کرنے کا حق حاصل نہیں ہوتا، وہ جماعت اس قانون کو اصلی شکل میں نافذ کرتی ہے اور خود بھی سختی سے اس پر کاربند رہتی ہے،اس کا ہر آئین، ہر قانون و ہر دستور غیر متبدل ہے بلکہ دائمی و پائدار حیثیت کا حامل ہے، محض حسن ظن کی بنا پر نہیں بلکہ واقعات و شواہد کی بنیاد پر اس پر عمل پیرا ہونا ناگزیر ہے، اسلامی نظریہٴ حیات ہی زندگی کے تمام مشکلات کو حل کرسکتا ہے اور مسلمان اسی فلسفہٴ زندگی کا علمبردار ہے اوراسی کو یہ حق پہنچتا ہے کہ اپنے نوع انسانی کی قیادت کرسکے۔
قرآن کریم کی آیت’’ اور ہم نے تمیں امت ِوسط بنایاہے‘‘ میں وسط کے لفظ سے اس طرف اشارہ ملتا ہے کہ امت مسلمہ اقوام عالم کے لیے مرکز اور وسط حقیقی کی حیثیت رکھتی ہے اور ساری کائنات اس کے گرد چکر کاٹتی ہے۔ اسی طرح ’’شہید‘‘ کا لفظ بھی بتا رہا ہے کہ موٴمنین کی جماعت، عالم انسانی کے لیے گواہ اور نگراں ہے اور سوسائٹی میں نظم و ضبط کا قیام، شاہ و گدا اور گورے وکالے میں مجلس مشاورت کا قیام اور تمام اخلاقی و جنسی خرابیوں کی اصلاح اس کا فریضہ قرار دیاگیا ہے ، دوسری اقوام و ملل کی قیادت و سیادت کے خاتمے کے بعد امامت و رہبری کی ذمہ داری اسی امت کے کندھے پر ڈالی گئی ہے قرآن کریم کی متعدد آیات میں اس مضمون کی نہایت تفصیل سے وضاحت کی گئی ہے۔

امارت و خلافت کا معیار:

قرآن کریم میں حق جل مجدہ کا یہ ارشاد موجود ہے :’’ وہ لوگ جنہیں ہم زمین میں تمکن( غلبہ و سلطنت ) عطاکر تے ہیں ‘‘ یا ’’اللہ کے نزدیک وہ سب سے مکرم ہے جو اس سے سب سے زیادہ ڈرتا ہو ‘‘ان آیات کریمہ میں تمام شرائط امارت و خلافت کی طرف بالاجمال اشارہ کردیا ہے۔ اقامت صلاة، ایتائے زکاة اورامر بالمعروف و نہی عن المنکر میں تمام انفرادی و اجتماعی فرائض شامل ہیں۔ امربالمعروف کے لئے قرآن کریم کا مکمل فہم اور احکام و مسائل کا علم بہ ہر صورت لازم ہے، اسی طرح یہ فریضہ اس وقت تک پایہٴ تکمیل کو نہیں پہنچ سکتا جب تک کہ قوت مقتدرہ اوراعدائے دین سے مقابلے کے لئے پوری صلاحیت ولیاقت موجود نہ ہو۔ امربالمعروف قرآن کریم کی ایسی جامع اور مکمل اصطلاح ہے جس کا اطلاق زندگی کے ہر گوشے پر ہوتا ہے مگر اخلاقی قیود و اقدار پر ان کا اطلاق زیادہ بیّن و واضح ہے،اس لئے آمر کا بذات خود اعلیٰ اخلاق اور شاندار کردار کا حامل ہونا لازم ہے۔ ظاہر ہے کہ موجودہ نظام ہائے سیاست میں اخلاق و کردار کی بلندی، سیرت کی پاکیزگی اور شیریں اخلاقی کو بعید گوشے میں جگہ حاصل نہیں ہے اور نہ ان کو ایمان باللہ اور مرنے کے بعد کی زندگی کے محاسبہٴ اعمال کے تصور سے کوئی نسبت۔

حاکمیت و خلافت کا فرق:

یہ دو مختلف چیزیں ہیں، حاکمیت کے باب میں ضروری ہے کہ اپنے احکام دوسروں پر لاگو کیے جائیںمگر خلافت سے مراد نیابت و جانشینی ہے، جن احکام کو خلیفہ دوسروں پر نافذ کرتا ہے وہ خود بھی ان کا مکلف ہوتا ہے اوراس کے لئے اپنے اوپر ان کا نفاذ ضروری ہوتاہے، اس لحاظ سے خلیفہ خداکی نیابت کے فرائض انجام دیتا ہے ،اس کی حیثیت صرف ایک امین کی ہوتی ہے، اس کا اولین فریضہ یہ ہے کہ وہ عدل وانصاف اور مساوات عامہ کی شکلوں کو عالم کے روبرو پیش کرے اور یہ واضح کرے کہ نفس انسانیت کے لحاظ سے تمام افراد بشر مساوی ہیں۔ چنانچہ حدیث میں آیا ہے ’’تم سب بنی آدم ؑہو اور آدم ؑ مٹی سے بنائے گئے ۔ 

نظام اسلامی کا تصوراحتساب:

نمائندہ کے منتخب کیے جانے کے سلسلے میں نظام اسلامی کا مزاج، جمہوری طرز سے کہیں اعلیٰ ہے، جس کی قدرے تفصیل مولانا سید اکبر شاہ نجیب آبادی ؒ یوں بیان کرتے ہیں:’’تمام سمجھ دار اپنے اندر سے کسی ایک شخص کو منتخب کرکے اپنا امیر اور قانون نافذ کرنے کا اہتمام کرلیں، اس امیر کے منتخب ہونے کے بعد انہیں شاہانہ اختیارات حاصل ہوتے ہیں؛ لیکن ایسے اختیارات حاصل نہیں ہوسکتے کہ وہ مسئول نہ ہوسکے بلکہ وہ قانون یعنی شریعت کے قائم کردہ اصولوں اور حکموں کے ماتحت ملک و قوم میں امن و انتظام قائم رکھنے کا ذمہ دار ہوتا ہے اور ہر ایک شخص اس کو کوئی خلاف قانون کام کرتے ہوئے دیکھ کر روک ٹوک سکتا ہے اور ہر معاملے میں اس سے جواب طلب کرنے کا آزادانہ حق رکھتا ہے۔‘‘ (آئینہٴ حقیقت نما، ص: ۴۵-۴۶)
امیر کے منتخب کیے جانے کے اثر و رسوخ اورجواب دہی کے سلسلے میں جو اسلامی نظریہٴ سیاست پیش کیاگیا ہے وہ یقینا ًجمہوریت کی حد کمال سے بھی اعلیٰ و ارفع ہے۔ علاوہ ازیں نظام اسلامی کے نزدیک پیش کیے گئے نظریے سے بھی اہم چیز الٰہیاتی تصور ہے، اگر نظام اسلامی سے الٰہیاتی تصور مفقود ہے تو گویا اس کی روح مفقود ہے۔ چوں کہ نظام اسلامی کے نزدیک اقتدار و حکومت ایمان باللہ اور تصور احتساب پرمبنی ہے، یہی وجہ ہے کہ اس کے اصول و نظریات اور اعمال میں لامحالہ یگانگت پائی جاتی ہے؛ یعنی ایک مسلم حکومت کو صرف اس بات کا احساس نہیں ہوتا کہ وہ عوام کے روبرو جواب دہ ہے؛ بلکہ اس سے زیادہ اس کو ایک غیر محسوس اور قادر مطلق ہستی کا خوف دامن گیر ہوتا ہے،اس لیے حکومت اسلامیہ کو ہر حال میں اسلام کے قوانین عدل اور اصول مساوات کی پابندی کرنی ہوتی ہے، چوں کہ ایک صالح اورمہذب نظام حکومت وہی ہوسکتا ہے جس کی بنیاد اخلاقی اور مابعد الطبعی تصورات پر قائم ہو، جب کہ نظام جمہوری میں ایسا کوئی بھی تصور قائم نہیں ہے جو اس کے ماننے والے سیاست دانوں کو تصوراحتساب سے آشنا کرے۔ یہی وجہ ہے کہ جمہوری حکومتوں کے سیاست داں بلا کسی خوف و خطر کے بدعنوانیوں کو جنم دیتے ہیں جو اسلامی نظام میں انتہائی قبیح عمل ہے۔

نظام اسلامی کے بنیادی اصول:

نظام اسلامی کے بنیادی اصول کو جو دراصل قرآن و حدیث اور خلافت راشدہ کے طریقے سے ماخوذ ہیں حضرت علامہ سید سلیمان ندوی رحمة اللہ علیہ نے تتبع و جستجو کے بعد مندرجہ ذیل لفظوں کے ساتھ بیان کیا ہے:
(۱) خلیفہ کے انتخاب میں پوری بصیرت سے کام لیا جائے؛ یعنی جتنی کوشش ممکن ہو کی جائے، پھر انتخاب کے بعد اس کے احکام جو کتاب و سنت اورمصالح مسلمین کے خلاف نہ ہو مان لیے جائیں۔
(۲) امور مہمہ میں جو منصوص نہ ہوں اہل حل و عقد سے مشورہ کیا جائے۔
(۳) بیت المال خلیفہ کی ذاتی ملک نہیں وہ صرف مصالح مسلمین کے لئے ہے۔
(۴) سلطنت کے نظم و نسق میں حددرجہ سادگی اور کفایت شعاری اختیار کی جائے۔
(۵) عہدہ دار اور اہل منصب میں ادائے فرض کے اندر پوری دیانت برتی جائے۔
(۶) عہدہ داران سلطنت کیلئے مقررہ وظیفہ کے علاوہ رعایا سے کسی قسم کا تحفہ، قطعاً 
ناجائزہے۔
(۷) رعایا سے شرعی ٹیکس کے علاوہ دوسرے قسم کے غیر شرعی ٹیکس نہیں لیے جاسکتے۔
(۸) حکام پر پورا پورا عدل فرض ہے، عدل و انصاف کی راہ میں رشوت، طرف داری اور بے 
انصافی ظلم اور گناہ کبیرہ ہے۔
(۹) کاشت کار اور زمین دار کے درمیان اتنا ہی تعلق ہے جتنا ایک مزدور یا اجارہ دار         
اورمالک کے درمیان۔
(۱۰) اسلامی سلطنت کے اندر ہرمسلمان جو معذور نہ ہو اس کا سپاہی ہے۔(اسلامی
نظریہٴ سیاست، ص:۴)

اسلامی حکومت کے اغراض ومقاصد:

اسلامی مفکرین اور قد آور دانشوروں نے اسلامی حکومت کے اغراض و مقاصد درج ذیل بیان 
کئے ہیں:
(۱) قیام عدل (۲) رفع فساد اور قیام امن (۳) افراد مملکت کو حریت فکر (۴) مجلس قانونی کو معاشی اور سیاسی مساوات عطا کرنا؛ یعنی اسلامی حکومت کااصل مطمح نظر یہ ہے کہ انسانوں کو غیرفطری رجحانات سے ہٹاکر فطرة اللہ یا نقطئہ عدل پر قائم کیا جائے۔

حریت عامہ اور اسلام:

اسلام کا نظریہ سیاست ہر اعتبار سے ہمہ گیر اور لامحدود حیثیت رکھتا ہے،اس کی افادیت نسلی و وطنی حدود سے آزاد اور پورے عالم انسانیت کو محیط ہے، اس کی نگاہ کسی ایک شعبہٴ حیات پر نہیں؛ بلکہ جملہ شعبہ ہائے زندگی کو محیط ہے اور وہ انسانوں کی بلندی خواہ فکری ہویا دینی، علمی ہو یا مادی، اخروی ہو یا دنیوی، ان تمام ضروریات میں کسی ضرورت سے بھی غافل نہیں یہی وجہ ہے کہ اسلام کا موضوع نفس انسانیت ہے جو دنیا کے تمام انسانوں کو زندہ رہنے کا حق دیتا ہے اور حریت اجتماع یا حریت فکر میں کسی بھی اعتبار سے ترجیحی سلوک نہیں برتتا۔ اسلامی نظریہٴ حاکمیت کسی کے لیے روادار نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کی حاکمیت میں دخل اندازی کرے؛ لہٰذا قدرتی طور پر اس کا نتیجہ آزادیٴ فکر اور مساوات عامہ کی شکل میں نمودار ہوتا ہے۔

آزادیٴ فکر اور مساوات عامہ:

یہی وجہ ہے کہ خلیفہٴ اسلام کو دوسرے لوگوں پر کوئی ترجیحی حیثیت حاصل نہیں اور نہ یہ اختیار ہے کہ وہ اپنے آپ کو دوسروں سے اعلیٰ و برتر تصور کرے؛ بلکہ آزادیٴ فکراور شہری حقوق کے لحاظ سے وہ ایک عام شہری کا درجہ رکھتا ہے۔ اس آزادی کو ہر شعبہ میں ملحوظ خاطر رکھاگیا ہے؛ چنانچہ معاشی و اقتصادی طور پر خلیفہٴ اسلام کو مساوی حیثیت حاصل ہے، تقسیم اموال میں انہیں یہ حق نہیں ہے کہ وہ اپنے لیے یا کسی رشتہ دار کے لیے دوسروں سے زائد حصہ لے لے، نیز یہ بھی روا نہیں کہ قومی اجازت یا عام مشورہ کے بغیر مالی فنڈ سے خرچ کرسکے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا اپنے مرض سے شفایابی کی خاطر تھوڑی شہد کے لیے عام مشورہ طلبی، قادسیہ کی لڑائی کے بعد تنخواہوں کے تعین کے وقت اول درجہ میں ہونے سے صاف نکیر کرنا اور اپنے فرزند ارجمند حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کی تنخواہ کا اُسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کی تنخواہ سے کم مقرر کرنا، یہ سب ایسے لازوال و لافانی نقوش ہیں کہ جن کی مثال نہیں۔

معزولیٔ امیر کا غیر مشروط اختیار:

بہت سے جمہوری ممالک میں متعینہ مدت تک حکمراں تخت و تاج شاہی کے مالک بنے بیٹھے رہتے ہیں، اس سے قبل عوام کو عزل امیر کا اختیار نہیں گو انتہائی سفاکیت و درندگی کا مظاہرہ کرے اور حقوق کی پامالی روز مرہ کا معمول بنارہے۔ یہ کہاں کا انصاف ہے کہ تعین سے قبل حکومت کا اصل منبع عوام کو سمجھا جاتا رہا اور تعین کے بعد انہیں ازکار رفتہ اور عضو معطل گردان کر پس پشت ڈال دیاگیا، کیا یہ جمہوریت کے منافی نہیں؟ اسی لیے اسلام نے روزاول سے امارت و خلافت کا معیار اتباع شریعت کو قرار دیا، خلیفہ کے لیے واجب ہے کہ قدم بقدم متبع شریعت ہو؛ اگر وہ ایک قدم بھی آگے تجاوز کرتا ہے یا پیچھے مڑتا ہے تو عوام کو اس کو معزول کرنے کا کلی اختیار حاصل ہے۔

رائے دہندگان کا معیار:

موجودہ طرز حکومت میں اخلاقی معیار مقرر نہ ہونے کی وجہ سے جمہوری ملکوں میں ہر آزاد شخص کو اور نیم جمہوری ممالک میں امارت کا معیار تعلیم اورجاہ و دولت کو قرار دیا جاتا ہے، ظاہر ہے ایسی صورت میں کسی صالح، مہذب و سلیقہ مند خلیفہ کا انتخاب مشکل ہی نہیں محال ہے، زیادہ سے زیادہ پارٹی سے متعلق جماعت ایسے شخص پر آمادئہ انتخاب ہوگی جو ان کی ذاتی و جماعتی خواہشات کی تکمیل کرسکتا ہو، جہاں رسہ کشی کا ہونا قطعاً ناگزیر ہے، اس کے برعکس اسلام کا طرز انتخاب بالکل جداگانہ ہے، اس سلسلے میں ہر بالغ کے فیصلے و رائے کی عدم درستگی پر مبنی ہونے کی وجہ سے چند سرکردہ شخصیات، ارباب دانش، اصحاب فکر اور ذی رائے ہی سے مشورہ لیا جائے اور انہی کو اختیار دیاگیا کہ کسی نیک سیرت، تقویٰ شعار اورحامل علوم کتاب و سنت کو اقتدار کی گدی پر بٹھائیںتاکہ کسی کے لئے انگشت نمائی کا موقع باقی نہ رہے کیوں کہ اسلام میں اعتماد عام اور وجہ ترجیح علم و عمل ہے اوراسی شخص کی رائے باوزن ہوسکتی ہے جو ان اوصاف سے متصف ہو، اسلام میں ایسے افراد کو ’’ارباب حل و عقد‘‘ سے موسوم کیا جاتا ہے۔ چنانچہ خلفائے اربعہ ؓکا انتخاب اسی طرز پر ہوا، انصار و مہاجرین کو ارباب حل و عقد تسلیم کیا جاتا رہا اور ان کے فیصلے کو پوری امت کے لیے حکم ناطق کی حیثیت حاصل رہی۔

خواہش امارت اوراسلام:

موجودہ جمہوریت میں سب سے عظیم نقص یہ ہے کہ اقتدار کے لیے چند افراد اپنے آپ کو پیش کرتے ہیں، اس خواہش کی تکمیل کی راہ میں جنگ و جدال، قتل و قتال اور دوسری پارٹی کا نہایت بے دردی کے ساتھ سیم و زر کی ٹھیلیاں لٹانا یہ سبھی کچھ ڈرامے رونما ہوتے ہیں، اس لیے اسلام نے امارت کی خواہش پر پابندی عائد کردی۔ اگر اسلام کے اس نہج کو اپنایا جائے تواس سے لازماً دو فائدے ہوسکتے ہیں: اوّل یہ کہ انتخابی کش مکش اور باہمی تصادم سے نجات ملے گی۔ دوم یہ کہ جب کوئی امارت کا مدعی نہ ہوگا توامت پر خوف یا لالچ کی فکر غالب نہ آئے گی اور صحیح خلیفہ متعین کرنے میں کوئی دقت نہ ہوگی۔ (ختم شد)
 
رابطہ : جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی
))))))((((((