منشیات کی وبا کیلئے انسدادی تدابیر اور مسلم خواتین کو درپیش مسائل

متحدہ مجلس علماء کے اجلاس میں گہری فکر و تشویش کا اظہار،2کمیٹیاں تشکیل

10 جولائی 2019 (25 : 11 PM)   
(      )

نیوز ڈیسک
سرینگر//متحدہ مجلس علماء کے سرکردہ علمائے کرام ، مفتیان عظام ، انسداد منشیات پر کام کررہے ماہرین، ڈاکٹرس ، کئی غیر سرکاری تنظیموں این ائو جیز سے وابستہ افراد کا ایک غیر معمولی اجلاس تاریخی میرواعظ منزل راجوری کدل سرینگر پر منعقد ہوا۔ یہ اجلاس جموںوکشمیر میں منشیات کی بڑھتی ہوئی وبا کے انسداد تدابیر اور مسلم خواتین کو درپیش کئی سنگین نوعیت کے مسائل جن میں ان کو حق وراثت سے محروم رکھنا، گھریلو تشدد(Domestic Voilence)کا شکار بنانے جیسے معاملات کے تناظر میں طلب کیا گیا تھا۔اپنے افتتاحی خطاب میں میرواعظ نے کشمیر میں منشیات کی بڑھتی ہوئی لعنت خاص طور پر نوجوان نسل کا اس میں بری طرح سے ملوث ہو جانے پر گہری فکر و تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اب ہاتھ پر ہاتھ دھرے رہنے کا وقت نہیں رہابلکہ من حیث القوم یہ ہم سب کیلئے ایک Challenging  Situationہے اور اس کے سد باب کیلئے ہم کو اجتماعی طور پر اپنی کوششوںکو بروئے کار لانا ہوگا۔ میرواعظ نے کہا کہ یہ بڑے افسوس کی بات ہے کہ دین اسلام کے واضح احکامات کے باوجود کشمیر میں مسلم خواتین کو ان کے جائز حقوق کے حوالے سے شدید مشکلات سے دوچار کیا جارہا ہے خصوصاً ان کو اپنے والدین کی جائز حق وراثت سے محرومی اور گھریلو تشدد اور جہیز جیسی بدعات کے ذریعے ان کے حقوق کو سلب کرنے کا رحجان برابر جاری ہے اور یہ علمائے کرام، دینی تنظیموں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس حوالے سے عوام میں آگاہی اور بیداری پیدا کرنے کی کوشش کریںاور اس سنگین مسئلہ پر قابو پانے کیلئے رہنمائی کا فریضہ انجام دیں۔ میرواعظ نے تمام مقررین کی آرا سن کر منشیات کے استعمال کی روک تھام اور خواتین کو درپیش مسائل سے نمٹنے کیلئے الگ الگ دو کمیٹیاں تشکیل دینے کی تجویز رکھی تاکہ سماج کو درپیش ان مسائل کا سدباب کیا جاسکے۔اس موقعہ پر اپنے خطاب میں مولانا حامی نے مختلف سرکاروں کی کارکردگی کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ ان سرکاروں نے بازار میں دستیاب نشیلی ادویات کو کنٹرول کرنے میں کوئی موثر کردار ادا نہیں کیا۔انہوں نے کہا کہ نوجوانوں میں منشیات کے استعمال کے رحجان میں پچھلے کئی برسوں سے اضافہ دیکھا جارہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ’’ میں بغیر کسی ہکچاہٹ کے یہ بات کہہ سکتا ہوں کہ ہم ریاستی ایڈمنسٹریشن پر اس بدعت کے خاتمے کیلئے انحصار نہیں رکھ سکتے کیونکہ وہ اس معاملے میں سنجیدہ اور پرخلوص نہیں لگتے‘‘۔اجلاس میں دارلعلوم رحیمیہ بانڈی پورہ کے مفتی نذیر احمد قاسمی ، جمعیت اہلحدیث کے پروفیسر غلام محمد بٹ المدنی،آغا سید مجتبیٰ الموسی الصفوی،مولانا خورشید احمد قانون گو اور دوسرے علماء نے  دونوں موضوعات پرتفصیل سے اظہار خیال کیا۔سمینار میں شامل جن غیر سرکاری تنظیموں نے شرکت کی انہوں نے ایک مفصل پاور پوائنٹ پرزنٹیشن کے ذریعہ نوجوانوںمیں منشیات کے استعمال سے حاضرین کو آگاہ کیا۔Kashmir womens collective initative،( (KWC کی منتشا بنت رشید نے خواتین کو درپیش روز مرہ کے مختلف مسائل پر تفصیل سے رووشنی ڈالتے ہوئے ان کی بھر پور انداز میں نشاندہی کی ۔ میرواعظ نے عورتوں سے متعلق مسائل کی کمیٹی میں KWC کے نمائندہ کی شرکت کی بھی تجویز رکھی۔اجلا س میں مفتی نذیر احمد قاسمی القاسمی، مولاناغلام رسول حامی، پرفیسر غلام محمد بٹ المدنی، مفتی محمد یعقوب بابا المدنی ،مولانا مسرور عباس انصاری، مولانا شوکت حسین کینگ، مولانا خورشید احمد قانون گو، آغا سید مجتبیٰ حسن الموسوی الصفوی، ڈاکٹر یوسف العمر، مفتی نثار احمد قاسمی، مفتی سجاد الرحمن میر، پروفیسر سید محمد طیب کاملی، محمد سعید زرو،پیرزادہ عبدالحمید، محمد رفیق شاہ، محمد یوسف مخدومی، سید بشارت احمد اندرابی، آزاد بشیر، غلام محمد ناگو،  ڈاکٹر سلیم یوسف، جاوید جیلانی، حیات احمد بٹ،  محمد یاسین بٹ،  فوق الامین بٹ،  خرم وانی، ایڈوکیٹ سید مجتبیٰ، میر عمران، بلال بشیر بٹ، سبط محمد شبیر قمی، عبدالباسط، محمد سلمان ملک، عبید بشیر، محمد یعقوب خان، جنید کاٹجو، منظور احمد، محمد تجمل قادری، مفتی غلام رسول سامون، Kashmir  womens collective initativeنامی گروپ کی منتشا بنت رشید،صبا، رفعت، صبرین وغیرہ شامل تھے۔ٍ