شاہراہ بندشوں پر تشویش | سوپورکے باغ مالکان اور کاشتکار عمرعبداللہ سے ملاقی

10 جولائی 2019 (25 : 11 PM)   
(      )

غلام محمد
سرینگر//شمالی قصبہ سوپوراوراسکے نواحی علاقوں سے تعلق رکھنے والے فروٹ گروورس اورزمینداروں کاایک مشترکہ وفدسری نگرمیں سابق وزیراعلیٰ عمرعبداللہ سے ملاقی ہوا۔حاجی محمداکبرگنائی ،غلام نبی مناڈی اوربشیراحمدماگرے کی قیادت میں مشترکہ وفدنے نیشنل کانفرنس کے نائب صدرعمرعبداللہ کوبتایاکہ گونرانتظامیہ کی جانب سے سالانہ امرناتھ یاتراکے پیش نظرسری نگرجموں شاہراہ پرگاڑیوں کی آواجاہی پرعائدکردہ پابندی کے نتیجے میں کشمیرکی میوہ صنعت کوبھاری نقصان پہنچ رہاہے۔انہوں نے سابق وزیراعلیٰ کوبتایاکہ امرناتھ یاتراکے پیش نظر شاہراہ بندش کی وجہ سے وادی سے مختلف میوہ جات کی بیرون ریاست برآمدنہیں ہوپارہی ہے کیونکہ حضرت بلی (سیب)،گلاس (Cherry) اوردیگرمیوہ جات کی پیٹیوں اورڈبہ سے بھرے ٹرکوں کوبیرون ریاستوں میں قائم منڈیوں تک جانے کی اجازت نہیں دی جاتی ہے۔انہوں نے عمرعبداللہ کوبتایاکہ چونکہ امرناتھ یاتراتقریباًڈیڑھ ماہ تک جاری رہنے والی ہے ،اوراگرشاہراہ بندش کویاتراختم ہونے تک جاری رکھاجاتاہے توکشمیرکی میوہ صنعت سے وابستہ مالکان باغات ،بیوپاری اورزمینداروں کوناقابل تلافی خسارے سے دوچارہوناپڑے گا۔وفدمیں شامل زمینداروں اورفروٹ گروورس نے بتایاکہ عمرعبداللہ نے سوپورسے تعلق رکھنے والے فروٹ گروورس اورزمینداروں کی باتوں سے اتفاق کرتے ہوئے اْنھیں اسبات کی یقین دہانی کرائی کہ وہ یہ معاملہ گورنرانتظامیہ کی نوٹس میں لاکرشاہراہ بندش کے اقدام پرنظرثانی کرانے کی پوری کوشش کریں گے۔اس دوران نیشنل کانفرنس کے لیڈرارشادرسول کار،بشیراحمدملہ،علی محمدکنہ،ایڈوکیٹ حبیب اللہ اورایڈوکیٹ محمدمقبول نے مشترکہ بیان میں گورنرستیہ پال ملک سے پْرزوراپیل کی کہ وہ شاہراہ بندش فیصلے پرنظرثانی کریں۔ارشادرسول کارنے کہاکہ گورنرانتظامیہ کوسری نگرجموں شاہراہ کیلئے ایسا میکانزم ترتیب دیناچاہئے کہ یاتریوں کی آواجاہی کیساتھ ساتھ مال بردارگاڑیوں کی آمدورفت بھی بغیرکسی خلل کے جاری رہ سکے۔انہوں نے اسبات پرزوردیاکہ شاہراہ بندش اقدام کے نتیجے میں کشمیرکی میوہ صنعت اورسیاحتی صنعت پرپڑنے والے منفی اثرات کوزیرغورلاکراس معاملے کابہترحل نکلاجائے۔