تازہ ترین

پنچایتوں کے ذریعے مڈ ڈے میل سکیم کی عمل آوری کو منظوری

امسال5500 کلو میٹر سڑکوںکی تعمیر ہو گی،عارضی لیکچراروں کی بھی خدمات حاصل

11 جولائی 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

نیوز ڈیسک
سرینگر// ریاستی انتظامی کونسل میٹنگ گورنر ستیہ پال ملک کی صدارت میں منعقد ہوئی جس میں 10+2 لیکچراروں، جنہوں نے30 جون 2019 تک کام کیا ہے، کی خدمات سرمائی زون میں دوبارہ عارضی طور تدریسی انتظامات کی بنیاد پر10 جولائی2019 سے10 اگست2019 تک اور گرمائی زون میں15 جولائی2019 سے15 اگست2019 تک یاجب تک یہ اسامیا ں تقرری یا ترقی کے ذریعے مستقل طور پُر کی جاتی ہیں (جو عمل پہلے مکمل ہو) ، حاصل کرنے کو منظوری دی ہے۔ریاستی انتظامی کونسل نے مخصوص مضامین کے اساتذہ، جنہوں نے سال2019 کے دوران30 جون2019 تک کام کیا ہے، کی خدمات رمسا کے تحت اپ گریڈ کئے گئے110 ہائی سکولوں کے لئے کنٹریکٹ کی بنیاد پر سرمائی زون میں10 جولائی2019 سے10 اگست2019 تک اور گرمائی زون میں15 جولائی2019 سے15 اگست2019 تک یا جب تک سکولی تعلیم محکمہ مستقل عملے کی تعیناتی عمل میں لاتا ہے( جو عمل پہلے مکمل ہو)، عارضی طور دوبارہ حاصل کرنے کو بھی منظوری دی ہے۔

 سڑکوں کی تعمیر 

انتظامی کونسل میٹنگ میں ریاست میں پی ایم جی ایس وائی کی عمل آوری سے متعلق محکمہ تعمیرات عامہ کی جانب سے پیش کی گئی رپورٹ کا جائیزہ لیا گیا۔پی ایم جی ایس وائی  کے تحت10550 کلو میٹر لمبی سڑکیں تعمیر کی گئی ہیں جو1772 بستیوں کو رابطہ سہولیات فراہم کر رہی ہیں۔محکمہ تعمیرات عامہ نے اس مالی سال کے دوران5500 کلو میٹر لمبی سڑکوں کی تعمیر کا ہدف مقرر کیا ہے جس میں جموں صوبے میں4 ہزار کلو میٹر اور کشمیر صوبے میں1500 کلو میٹر سڑکوں کی تعمیر شامل ہے۔

 اکنامکس اینڈ سٹیسٹیکل سروس کاڈر 

 انتظامی کونسل میٹنگ میں جے اینڈ کے اکنامکس اینڈ سٹیسٹکل ( گزٹیڈ) اور جے اینڈ کے اکنامکس اینڈ سٹیسٹکل( سبارڈی نیٹ) سروس کے کاڈر کنٹرول کو منصوبہ بندی ، ترقی و نگرانی محکمہ سے خزانہ محکمہ کو منتقل کرنے کو منظوری دی گئی۔ریاستی انتظامی کونسل نے سرکاری حکمنامہ نمبر1469-GAD of 2018 بتاریخ26-09-2018  کی رُو سے تشکیل دی گئی کمیٹی کی سفارشات کے مطابق خزانہ اور منصوبہ بندی و ترقی محکموں کے کام کاج کی تفویض کو بھی منظوری دی۔ایس اے سی نے ہدایت دی کہ موجودہ نظام میں2 صوبوں کو منصوبہ بندی و ترقی محکمہ میں برقرار رکھا جائے گا اور جموں اینڈ کشمیر اکنامکس اینڈ سٹیسٹکل( گزٹیڈ/ سبارڈی نیٹ) سروسز کو فائنانس ڈیپارٹمنٹ سے ڈیپوٹیشن پر تصور کیا جائے گا۔ریاستی انتظامی کونسل نے فائنانس محکمہ کی جانب سے مرحلہ وار طریقے پر فائنانس اور منصوبہ بندی کی مشترکہ سرگرمیوں کو فائنا نس ڈویثرن میں ترتیب نو کو بھی منظوری دی۔

مڈ ڈے میل

 انتظامی کونسل میٹنگ میں سرکاری تعلیمی اداروں میں پنچایتی راج اداروں کے ذریعے سے ایم ڈی ایم سکیم کی عمل آوری کے تعلق سے محکمہ تعلیم کے ایکشن پلان کو منظوری دی گئی ۔ سکولی تعلیم محکمے نے 17 جون 2019 کو آرڈر نمبر 202EDU بتاریخ 2019 کی رو سے ایک لائحہ عمل نوٹیفائی کیا تھا جس میں پنچایتی راج اداروں کے ذریعے سے ایم ڈی ایم کی عمل آوری کی بات کہی گئی تھی جسے آج ایس اے سی نے منظوری دی ۔ پرائمری اور مڈل سکولوں میں ایم ڈی ایم کی تیاری اور تقسیم کاری حلقہ پنچائتیں دس ممبروں پر مشتمل ایک مقامی سطح کی کمیٹی انجام دے گی جس کی سربراہی سرپنچ یا سرپنچ کی طرف سے نامزد کئے گئے پنچ کریں گے اور اس میں پہلے ہی تعینات کئے گئے کُک و ہیلپر کی خدمات حاصل کی جائیں گی ۔ حلقہ پنچائتیں ہر ایک سکول کے دن ایم ڈی ایم کی تیاری اور تقسیم کاری کو یقینی بنائیں گے اور یہ عمل سکیم کے بنیادی رہنما خطوط کے مطابق پورا کیا جائے گا ۔ اس مقصد کیلئے پنچائتی راج ادارے ایم ڈی ایم کے ایک اعلیحدہ اکاؤنٹ سے رقومات کا انتظام کریں گے اور یہ اکاؤنٹ مشترکہ طور پر سکول کے سربراہ اور سرپنچ یانامزد کئے گئے پنچ چلائیں گے ۔ پنچائتی راج ادارے سکولوں میں ایم ڈی ایم کا ہفتہ وار بنیادوں پر چیک کیا کریں گے ۔ ایم ڈی ایم تیاری اور تقسیم کاری یہی کمیٹی عملائے گی اگر اسی سکول میں مڈل یا پرائمری شعبے موجود ہوں ۔ کُک کم ہیلپروں کا مشاہرہ اور دیگر خرچے کیلئے رقومات ایم ڈی ایم اکاؤنٹ کی موجودہ قوانین کے مطابق تفویض کئے جائیں گے ۔ سکولوں میں ایم ڈی ایم کی تیاری اور تقسیم کاری سے متعلق سرگرمیاں ریاست میں پنچائتی راج اداروں کو جے اینڈ کے پنچائتی راج ایکٹ 1989 کی رو سے تفویض کئے گئے ہیں ۔ 
 
 

اضلاع میں ترقیاتی کاموں کی نگرانی 

 انتظامی سیکریٹری بطور انچارچ سیکرٹری نامزد 

سر ینگر//حکومت نے مختلف اضلاع کیلئے انتظامی سیکریٹریوںکو انچارج سیکریٹریوں کے بطور نامزد کیا ہے جو ترقیاتی سرگرمیوں اور دیگر متعلقہ معاملات کی نگرانی کریں گے۔جی اے ڈی سے جاری ایک حکمنامے کے مطابق جن انتظامی سیکریٹریوں کو انتظامی سیکریٹریوں کے بطور نامزد کیا گیا ہے ان میں بارہمولہ کیلئے فائنانشل کمشنر خزانہ ارون کمار مہتا ،اننت ناگ کیلئے فائنانشل کمشنر صحت و طبی تعلیم اٹل ڈولو ، شوپیاں کیلئے پرنسپل سیکریٹری داخلہ شالین کابرا اور سر ینگر کیلئے پرنسپل سیکریٹری مکانات و شہری ترقی دھیر ج گپتا شامل ہیں۔اسی طرح پرنسپل سیکریٹری بھیڑ و پشو پالن اصغر حسن ساموں کو بانڈی پورہ ضلع کیلئے انچارج سیکریٹری نامزد کیا گیا ہے جبکہ پرنسپل سیکریٹری صنعت و حرفت نوین کمار چودھری کو سانبہ ، پرنسپل سیکریٹری منصوبہ بندی اور ترقی روہت کنسل کو پلوامہ ، کمشنر سیکریٹری جنگلات و ماحولیات ایم کے دویدی کو بڈگام اور کمشنر سیکریٹری بجلی ہردیش کمار کو راجوری کیلئے انچارج سیکرٹری نامزد کیا گیا ہے۔ کمشنر سیکریٹری سکولی تعلیم سریتا چوہان کو ادھمپور ، کمشنر سیکریٹری تعمیرات عامہ خورشید احمد شاہ کو جموں ، کمشنر سیکریٹری محنت و روزگار سوربھ بھگت کو رام بن ، کمشنر سیکریٹری صحت عامہ ، آبپاشی و فلڈ کنٹرول اجیت کمار ساہو کو پونچھ ، کمشنر سیکریٹری لداخ امور ریگزن سمفل کو لیہہ ، سیکریٹری ڈیزاسٹر منیجمنٹ ریلیف و باز آباد کاری اور تعمیر نو پانڈو رانگ کونڈ بارو پول کو ڈوڈہ اور سیکریٹری باغبانی منظور احمدلون کو کپواڑہ کیلئے انچارج سیکریٹری نامز د کیا گیا ہے۔اس کے علاوہ جن دیگر انتظامی سیکریٹریوں کوانچارج سیکریٹریوں کے بطور نامزد کیا گیا ہے ان میں کٹھوعہ کیلئے دیہی ترقی محکمہ کی سیکریٹری شیتل نندا ،کرگل کیلئے امور نوجوان و کھیل کود کے سیکریٹری سرمد حفیظ ، کولگام کیلئے جنرل ایڈ منسٹریشن ڈیپارٹمنٹ کے سیکریٹری فاروق احمد لون ،ریاسی کیلئے امداد باہمی کے سیکریٹری عبدالمجید بٹ ، کشتواڑ کیلئے اعلیٰ تعلیم محکمہ کے سیکریٹری طلعت پرویز روہیلا اور گاندربل ک لئے کلچر محکمہ کے سیکریٹری زبیر احمد شامل ہیں۔
 
 

ملازمین انشورنش توسیعی منصوبے کو منظوری 

اگلے مالی سال سے عملدر آمد ہوگا

نیوز ڈیسک
 
سر ینگر/ /گورنر کے مشیر خورشید احمد گنائی نے ملازمین سٹیٹ اِنشورنس کارپوریشن ( ای ایس آئی سی ) کے وسیع توسیعی منصوبے کو منظوری دی جسے اگلے مالی سال سے عملایا جائے گا۔ یہ فیصلہ مشیر موصوف کی صدارت میں منعقدہ ای ایس آئی سی کی 16ویں علاقائی بورڈ میٹنگ کے دوران لیا گیا۔خورشیداحمد گنائی نے پریمیم کم کرنے کیلئے مرکزی حکومت کا شکریہ ادا کیا۔ میٹنگ میں فیصلہ لیا گیا ہے کہ پروڈنٹ فنڈ سکیم کے تمام 5.5لاکھ مستحقین کو ای ایس آئی سکیم کے دائرے میںلایا جائے گا ۔بورڈ نے فیصلہ لیا کہ اوم پورہ بڈگام میں 100بستروں پر مشتمل ایک ٹریشری کیئریر ای ایس آئی ہسپتال قائم کیا جائے گا جس کے لئے پہلے ہی اراضی کی نشاندہی کی جاچکی ہے۔اس کے علاوہ کٹھوعہ ، سانبہ ، رنگریٹ اور کھنموہ کے انڈسٹریل ایسٹیٹس میں اس طرح کے 30بستروں پر مشتمل ہسپتال قائم کئے جائیں گے۔ بورڈ نے یہ بھی فیصلہ لیا کہ ای ایس آئی کی معاونت سے کئی دیگر اضلاع میں ڈسپنسریاں قائم کی جائیں گی۔خورشید احمد گنائی نے افسروں پر زور دیا کہ وہ سکیم کے بارے میں جامع بیداری پیدا کریں ۔ اُنہوں نے کہاکہ سکیم کے اصل مقاصد کی حصولیابی کے لئے لازمی اقدامات کئے جانے چاہئیں۔چیئرمین نے اَفسروں کو ہدایت دی کہ وہ اِلتو أ میں پڑے تمام معاملات کو 15دِنوں کے اندر اندر حل کریں۔اُنہوں نے کہا کہ تمام 700 اِلتوأ میں پڑے دعوئوں کو معیاد بند مدت کے اندر مکمل کیا جانا چاہئے ۔