منشیات کا بھیانک چہرہ: ضلع سرینگر سر فہرست، اننت ناگ کا نمبر دوسرا

نشے میں مبتلا نوجوانوں میں60فیصد 10+2 ،20فیصد گریجویٹ اور 10فیصد پوسٹ گریجویٹ طلبا شامل

11 جولائی 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

اشفاق سعید
سرینگر// منشیات کے خلاف بیداری مہم چلانے کے باوجود بھی 90فیصد پڑھے لکھے نوجوان اس لت میں مبتلا ہیں، جبکہ صرف 10فیصد لوگ ان پڑھ ہیں۔ایک سروے رپورٹ میںیہ بات سامنے آئی ہے کہ اس لت میں 13برس کے بچوں سے لیکر 64برس کی عمر کے بزرگ شہری بھی مبتلا ہیں ۔نیشنل انسٹی چیوٹ آف مینٹل ہیلتھ و نیرو سائنس رپورٹ میںیہ حیران کن انکشاف ہوا ہے کہ مختلف قسم کی نشیلی ادویات یا منشیات استعمال کرنے والوں میں 60فیصد نوجوان کی تعلیمی قابلیت 10+2ہے جبکہ 20فیصد گریجویٹ اور10فیصد پوسٹ گریجویٹ بھی منشیات استعمال کرنے والوں میں شامل ہیں۔کشمیر عظمیٰ کے پاس دستیاب اعداوشمار کے مطابق کم پڑھے لکھے نوجوانوں کی تعداد بہت زیادہ ہے اور حیران کن طور پر ان پڑھ نوجوانوں کی تعداد بہت ہی قلیل ہے۔ا عدادوشمار سے یہ ظاہر ہو رہا ہے کہ ریاست میں منشیات کا کاروبار کرنے والوں کا مرکز پڑھے لکھے نوجوان ہیں۔ سروے میں یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ ہیروئن، برائون شوگر، کوکین اور نشیلی ادویات کا استعمال کرنے والے نوجوانوں میں 80فیصدکی تعداد انکی ہے جو مال دار گھرانوں سے تعلق رکھتے ہیں یا پھر خود کا کاروبار کرتے ہیں۔نیشنل انسٹی چیوٹ آف مینٹل ہیلتھ و نیرو سائنس رپورٹ2018.19 کے مطابق علاج ومعالجہ کیلئے آئے ایسے افراد میں سے 37فیصد لوگوں کا تعلق شہری علاقوں سے ہے اور 62فیصد کا تعلق دیہی علاقوں سے بتایا جا رہا ہے۔انسداد منشیات مرکز(صدر اسپتال) کے اعدادوشمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہاں جو نوجوان لائے گئے، ان میں 20فیصد کی عمر 13سے19سال کے درمیان،42فیصد کی عمر،20سے27 کے درمیان ،15فیصد کی عمر28سے34کے درمیان ،14فیصد کی عمر35سے 42سال کے درمیان،5فیصد کی عمر 43سے49سال کے درمیان ،3فیصد کی عمر 50سے47سال کے درمیان اور 2فیصد کی عمر58سے64 سال کے درمیان بتائی گئی ہے ۔رپورٹ میں60فیصد نوجوانوں کی تعلیمی قابلیت 10+2  ، 20فیصدگریجویٹ،10فیصد پی جی اور ان پڑھ نوجوانوں کی شرح فیصد 10بتائی گئی ہے ۔منشیات استعمال کرنے والوں میں 32فیصد شادی شدہ ، 45فیصد بغیر شادی شدہ، 10فیصد طلاق یافتہ ،7فیصد، جنہیں الگ کیا گیا ہے اور دیگر 6فیصد شامل ہیں۔انسداد منشیات مراکز پر جن نوجوانوں کو لایا گیا ان میں ضلع سرینگر سر فہرست ہے ، جنکی شرح 40.57فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔اسکے بعداننت ناگ ضلع کا نمبر آتا ہے ، جسکی شرح  14.15فیصد ہے ۔پلوامہ کے 7.5فیصد ، شوپیاں کے 8.4فیصد، بڈگام کے 8.5فیصد ، کولگام کے 2.8فیصد ، کپوارہ کے 8.4فیصد ، گاندربل کے 8.4فیصد ، بانڈی پورہ کے 3.7فیصد اور بارہمولہ کے 3.77فیصد لوگ  یہاں لائے گئے۔میڈکل کالج کے پروفیسر وذہنی امراض کے ماہر ڈاکٹر ارشد حسین نے کشمیر عظمیٰ کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت ضرورت جانکاری پروگرام منعقد کرنے کی نہیں بلکہ اس بات کی ہے کہ سوسائٹی اس کی روکتھام کیلئے آگے آئے۔ علماء کرام کا خطبہ ہر جمعہ اسی پر ہو پولیس، میڈیا اور ڈاکٹر اس میں اپنا رول ادا کر رہے ہیں لیکن حقیقت میں سماج کو اس پر خصوصی دھیان دینا چاہئے۔ اساتذہ کو سکولوں میں بچوں پر گہری نظر رکھنی چاہئے۔انہوں نے کہا کہ منشیات کا استعمال وادی بھر میں بڑھ رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں پہلے سے ہی سوسائٹی کو آگاہ کیا گیا تھا کہ اس کی روکتھام کیلئے سب کو مل کر اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے لیکن اُس وقت کسی نے بھی اس پر دھیان نہیں دیا۔

تازہ ترین