آئینی معاملات سے متعلق فیصلہ لینے کیلئے پارلیمنٹ مجاز، دفعہ 370عارضی

ریاست بھارت کا اٹوٹ حصہ، غیر ملکی حکومت یا ادارہ مداخلت نہیں کرسکتا: مرکز

11 جولائی 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

نیوز ڈیسک
 نئی دہلی // مرکزی حکومت نے کہا ہے کہ بھارت کے آئین میں موجود دفعہ 370عارضی شق ہے،جو ریاست جموں و کشمیر کو خصوصی درجہ دیتا ہے۔راجیہ سبھا میں مرکزی سرکار سے پوچھا گیا تھا کہ کیا حکومت دفعہ 370اور 35 اے ختم کرنے والی ہے، اور کیا ایسا کرنے سے اقوام متحدہ کی قراردادوں اور عالمی سطح کی ذمہ داریوں سے انحراف تو نہیں ہوگا۔اس پروزیر مملکت برائے امور داخلہ جی کشن ریڈی نے راجیہ سبھا میں کہا’’ دفعہ 370،جو ریاستی کو خوصی درجہ دیتا ہے، آئین ہند میں عارضی شق ہے،اور دفعہ 35A، جو ریاست کے شہریوں کو خصوصی حقوق دیتا ہے، کو آئین میں، صدر جمہوریہ کی جانب سے جاری کئے گئے ایک آئینی حکم نامے کی بدولت شامل کیا گیا ہے‘‘۔انہوں نے راجیہ سبھا کو بتایا’’ موجودہ وقت میں دفعہ 370 عارضی شق ہے،اورریاست جموں و کشمیر کے حوالے سے آئین کے حصہ xxi (عارضی،خصوصی شق )میں عارضی حیثیت رکھتا ہے‘‘۔ایک تحریری جواب میں وزیر مملکت نے کہا’’موجودہ وقت میں دفعہ35A آئین میںجموں و کشمیر سے منسوب ہے،جسے دفعہ 370کے تحت 1954کے صدر جمہوریہ کے آئینی احکامات سے شامل کیا گیا ہے‘‘۔ریڈی نے کہا کہ ریاست جموں و کشمیر بھارت کا اٹوٹ حصہ ہے، اور آئین کے حوالے سے جو بھی معاملات ہیں وہ داخلی ہیں،اور کلی طور پرپارلیمنٹ کو ہی دیکھنے ہیں۔انہوں نے کہا ’’ کسی بھی غیر ملکی حکومت یا جماعت کو مقامی طور پر ان معاملات میں کوئی حق نہیں ہے۔
 

جنگجوانہ سرگرمیوں میں 28فیصد کمی

کامیاب آپریشنوں میں 22فیصد اضافہ

نیوز ڈیسک
 
نئی دہلی//وزیر مملکت برائے محکمہ داخلہ جی کرشن ریڈی نے کہا ہے کہ گذشتہ سال کے مقابلے میں امسال جنگجوانہ سرگرمیوں میں 28فیصد کمی اور کامیاب آپریشنوں میں 22فیصد اضافہ ہوا ہے۔راجیہ سبھا میں وقفہ سوالات کے دوران  انہوں نے کہا کہ پلوامہ خود کش حملے کے بعد وادی کشمیرمیں سیکورٹی فورسز کے ساتھ مختلف معرکوں میں اب تک 93جنگجوئوں کو ہلاک کیا گیا ہے۔ریڈی کا کہنا تھا کہ سال 2018کے مقابلے میں امسال کے 6مہینوں میں وادی کشمیر میں جنگجوانہ کاروائیوں میں کافی کمی دیکھنے کو ملی۔ وزیر مملکت کا کہنا تھا کہ فوج، سی آر پی ایف، جموں وکشمیر پولیس اور دیگر سیکورٹی ایجنسیوں کے باہمی تال میل اور اشتراک کے نتیجے میں رواں برس کے ابتدائی چھ مہینوں میں جنگجوانہ سرگرمیوں میں 28فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔انہوںنے کہا کہ امسال کے ابتدائی چھ مہینوں میں نہ صرف جنگجوانہ سرگرمیوں پر قابو پایا گیا بلکہ لائن آف کنٹرول اور بین الاقوامی سرحد پر بھی دراندازی کے واقعات میں 43فیصد کمی آئی۔ انہوں نے کہا کہ رواں برس کے ابتدائی چھ مہینوں میں سیکورٹی فورسز نے مشترکہ طور پر جنگجوئوں کے خلاف جو کاروائیاں عمل میں لائیں اُن میں بھی گزشتہ سال کے مقابلے میں 22فیصد اضافہ دیکھنے کو ملا۔انہوںنے کہا کہ پلوامہ خود کش حملے سے متعلق قومی تحقیقاتی ایجنسی نے جو تحقیقاتی سرگرمی شروع کی تھی اُس میں اب تک حملہ کے منصوبہ سازوں کی نشاندہی، خود کش بمبار کے علاوہ حملے میں استعمال کی گئی گاڑی کے مالک کا سراغ لگایا ہے۔
 

سپریم کورٹ میں دفعہ 370کیس

 فوری سماعت کیلئے عرضی دائر

نیوز ڈیسک
 
نئی دہلی //بی جے پی لیڈر ایڈوکیٹ اشونی اُپادھیائے نے دفعہ 370کیخلاف دائر عرضیوں کی فوری سماعت  پر سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے۔ اشوک اُپادھیائے نے بدھ کو سپریم کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے جموں وکشمیر کو خصوصی پوزیشن فراہم کرنے والی دفعہ 370کیخلاف دائر عرضیوں پر فوری سماعت کی استدعا کی ہے۔ بی جے پی لیڈر نے عرضی میں کہا ہے کہ جموں وکشمیر کو فراہم کی گئی خصوصی پوزیشن 370کو فوری طور پر منسوخ کیا جائے ، اس معاملے کو پایہ تکمیل تک لیجانے کیلئے دفعہ کیخلاف دائر عرضیوں پر فوری سماعت کی ضرورت ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ چیف جسٹس رنجن گوگوئی نے عرض گذار اُپادھیائے کی جانب سے خصوصی پوزیشن سے متعلق عرضی پر فوری سماعت کیلئے کوئی بھی یقین دہانی نہیں کرائی۔ اس سے قبل عدالت عظمیٰ نے مرکزی سرکار کو نوٹس جاری کرتے ہوئے عرض گذار کی طرف سے دائر عرضی پر جواب طلب کیا تھا۔دائر عرضی میں کہا گیا تھا کہ معاملہ قومی مفاد سے جڑا ہوا ہے لہٰذا اس کی سماعت فوری طور پر ہونی چاہیے۔
 

تازہ ترین