’افیون کا نشہ ایک زہر اور موت کا دوسرا نام‘:معالجین

۔2برسوں میں ہیروئن کے نشے میں مبتلا نوجوانوں کی تعداد میں 35فیصد اضافہ

10 جولائی 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

اشفاق سعید
سرینگر // ’’ ہیروئن آگئی ،موتیں گننا شروع کر دیں‘‘۔ ایسا انسداد منشیات کے معالجین کا کہنا ہے۔ ایک تازہ سروے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وادی میںہیروئن(افیون) کے نشے میں35فیصد لوگ مبتلا ہیں جبکہ 30فیصد چرس اور 10فیصد شراب کا نشہ کرتے ہیں ۔ رپورٹ میں یہ انکشاف بھی ہوا ہے کہ 30فیصد افراد ایسے ہیں جو 6ماہ کے دوران 2بار اس لت میں مبتلا پائے گئے ہیں ۔ محالجین کے مطابق پچھلے چار برسوں میں ہیروئن نامی نشے میں مبتلا افراد کی تعداد میں 33فیصد کا اضافہ ہوچکا ہے۔ نیشنل انسٹی چیوٹ آف مینٹل ہیلتھ و نیرو سائنس کی 2018.19 کی تحقیقی رپورٹ میں اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ شہر کے ایس ایم ایچ ایس ہسپتال میں قائم انسدادمنشیات مرکز میں  6476مریضوں میں سے 35فیصد افراد ہیروئن(افیون) کی لت میں مبتلا پائے گئے جبکہ 30فیصد چرس اور 10فیصد شراب کے نشے میں مبتلا تھے۔ اسی طرح 30فیصد (پولی ) یعنی جنہوں نے 6ماہ میں 2بار اس کا استعمال کیا ہو مبتلا پائے گئے ۔سروے رپورٹ میں اس بات کا بھی انکشاف کیا گیا کہ ایسے افراد میں 88فیصد مرد اور12فیصد خواتین بھی شامل تھیں۔رپورٹ میںامراض نفسیات ہسپتال بادام واری میں قائم انسداد منشیات کے مرکز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ وہاں لائے گئے مریضوں میں 5فیصد ہیروین کے نشہ کے عادی تھے، جبکہ25فیصد لوگ 6ماہ میں دو بار نشے میں مبتلا پائے گئے ۔
ان  اعدادوشمار سے اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ ہیروئن کا نشہ کس طرح ہمارے سماج کو کھوکھلا کررہاہے ۔محالجین کا کہنا ہے کہ ہیروئن نشے کا استعمال موت کو دعوت دینے کے برابر ہے ۔ ماہر نفسیات ومیڈیکل کالج کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر زید نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ ہیروین کا استعمال انتہائی خطرناک ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ ہمارے ڈی ایڈیکشن سنٹر میں اس وقت 20مریض داخل ہیں جس میں سے 15ہیروین کا استعمال کر رہے تھے جبکہ 5مریض چرس یا پھر دیگر اشیاء کے نشے میں مبتلا تھے ۔انہوں نے کہا کہ آج سے دو برس قبل 20مریض ہسپتال میںداخل ہوتے تھے اُن میں سے 15چرس لیتے تھے اور پانچ دیگرمنشیات، لیکن اب 15 فیصدہیروئن کے نشے میں مبتلا پائے جاتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ جس معاشرے میں ہیروئن آگئی ، وہاں موتیں گننا شروع کر دیں ۔محالجین کا کہنا ہے کہ ہیروین کے استعمال سے نوجوانوں میں جرائم اورچوریاں جیسے واقعات بڑھ جائیںگے جس سے معاشرہ تباہ وبرباد ہو جائے گا ۔اُن کے مطابق بہت سے لوگ اس لت کو چھوڑنا چاہتے ہیں مگر یہ لت انہیں نہیں چھوڑ رہی ہے ۔محالجین کے مطابق جو اس لعنت کونہیں چھوڑتے وہ جوانی میں ہی مر جاتے ہیں۔ذہنی امراض کے ماہر اور میڈیکل کالج کے پروفیسر ڈاکٹر ارشد حسین کے مطابق ہیروئن ایک جان لیوا نشہ ہے، جسکا انجام موت ہے ۔انہوں نے کہا کہ آج سے 3یا4 برس قبل اس کا استعمال وادی میں صرف 3 فیصد تھا لیکن یہ اب بڑھ کر 35فیصد تک پہنچ چکا ہے ۔
انکا کہنا ہے کہ افیون کے نشے میںجو بھی نوجوان مبتلا ہوگا، سب سے پہلے اسکی نیند ختم ہوجاتی ہے،بھوک مٹ جاتی ہے،بہت زیادہ پسینے آتے ہیں، منہ ہمیشہ خشک ہوجاتا ہے، جسم کانپنے لگتا ہے،اور نسیں کمزور ہوکر سوکھ جاتی ہیں، جس سے خون کی مقدار جسم میں کم ہوجاتی ہے جو موت کی علامت ہوجاتی ہے۔ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ہیروئن( افیون) کا استعمال کرنے سے جسم زہر آلودہ ہوجاتا ہے اور موت آنے کا کوئی پتہ نہیں چلتا۔آئی جی پی کشمیر ایس پی پانی کا کہنا ہے کہ ہیروئن کے نشے کی روکتھام کے حوالے سے سنجیدہ اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ روزانہ اس حوالے سے نہ صرف تھانوں میں بیداری مہم چلائی جا رہی ہے بلکہ اس کاروبار میں ملوث افراد کی گرفتاری بھی عمل میں لائی جاتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ آنے والے دنوں میں مہم کو مزید تیز کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ منشیات سرحد پار سے آرہی ہے  جیسے روکنے کیلئے ہر ممکن اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں ۔

تازہ ترین