تازہ ترین

ٹیکس کے التزامات سے ریاستوں کی مالی حالت خراب ہوگی :اپوزیشن

10 جولائی 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

یواین آئی
نئی دہلی//اپوزیشن نے مودی حکومت کے عام بجٹ کو بنیادی کسوٹی پر ناکام قراردیا ہے اور کہاکہ اس کے ٹیکس کلکشن کے التزامات سے ریاستوں کی مالی حالت خراب ہوگی جبکہ ملک کو 50کھرب ڈالر کی معیشت بنانے کا کوئی روڈ میپ نہیں ہے ۔لوک سبھا میں عام بجٹ پر بحث کے دوسرے دن کانگریس رکن پرنیت کور نے کہاکہ بجٹ حکومت کی آمدنی اور خرچ نیز مستقبل کا روڈ میپ ہوتاہے ۔لیکن کئی معاملوں میں یہ بجٹ کھرانہیں اتراہے ۔وزیرخزانہ نرملا سیتارمن پہلے وزیردفاع تھیں ،لیکن انکے پہلے بجٹ میں دفاعی سازوسامان کی خریداری سے متعلق رقم مختص نہیں کی گئی ہے جبکہ ملک کی دفاعی فورسز کے اسلحہ کی تجدیدکاری کی ضرورت ہے ۔افراط زر کو کم کردیاجائے تو بجٹ میں دفاعی بجٹ میں دس فیصد کی کمی آئی ہے ۔مویشی پروری اور ڈیری صنعت کے لیے بجٹ الاٹمنٹ کم ہواہے ۔انتہائی چھوٹی ،چھوٹی اور درمیانہ درجہ کی صنعتوں کی مدمیں بھی سات فیصد،توانائی کے سیکٹر میں دوفیصد ،آئی ٹی اور الیکٹرانکس کی مد میں چار فیصد کی کمی کی گئی ہے ۔محترمہ کور نے کہا کہ بجٹ کے اعدادوشمار کی جگہ سرخیاں دی جارہی ہیں ۔انھوں نے الزام لگایاکہ ٹیکس کے تعین ،سیس اور سرچارج کے معاملہ میں مرکزی حکومت ریاستوں کے ساتھ دھوکہ دہی کررہی ہے ۔پٹرولیم مصنوعات پر جوبھی ٹیکس یا اضافی ٹیکس بڑھاہے ،وہ پورا مرکز کو ملے گا۔انھوں نے کہاکہ ریاستوں کو ٹیکس کلکشن میں 42فیصد کی جگہ 30فیصد حصہ داری ملے گی ۔ریاستوں کا خسارہ بڑھے گا ۔بجٹ میں کہاگیاہے کہ ملک کی ڈھانچہ جاتی ترقی کے لیے 100لاکھ کروڑ روپئے کی سرمایہ کاری ہوگی ،لیکن 90لاکھ کروڑ روپئے کے ذرائع کے بارے میں کچھ بھی نہیں بتایاگیاہے ۔ایک لاکھ کروڑ روپئے کی سرمایہ کشی کی بات کہی گئی ہے ۔جی ڈی پی کے 5اعشاریہ 8فیصد رہنے کا امکان ہے ۔برآمدات کو بڑھانے کی ضرورت ہے ۔انھوں نے کہاکہ ملک میں عجیب وغریب صورتحال ہے اور مرکزی حکومت کی غلط پالیسیوں کاانجام ریاستوں کو بھگتنا پڑ ے گا ۔دراوڑ منیتر کژگم کے رکن اے راجہ نے کہاکہ بجٹ میں اعلانات کا شور بہت ہے لیکن عمل درآمد کے لیے امیدکی کرن نہیں ہے ۔ہندستان ایک زراعت پر مبنی معیشت ہے لیکن حکومت اسے صنعت کاروں کا ملک مانتی ہے اور انھیں پر مہربان ہے ۔زراعت کے لیے 75ہزار کروڑ رپئے کا پرویژن سیاسی ایجنڈے کے تحت 6000روپئے سالانہ تقسیم کرنے کے لیے رکھاہے ۔انھوں نے کہاکہ یہ حکومت عوام کو صرف یہ یقین دلاکر اقتدار میں واپس آئی ہے کہ یہ ملک کے چوکیدار اور رکھوالے ہیں لیکن انکا برتاؤالگ ہے ۔بی جے پی کی سنیتا دگل نے بجٹ کی تعریف کرتے ہوئے کہاکہ وزیراعظم نے ریفارم ،پرفارم اور ٹرانسفارم کے منتر پر چلتے ہوئے گزشتہ پانچ سال میں 70سال کے زخموں پر پرہم پٹی کی ہے ۔پچاس کھرب کی معیشت بنانے کے بارے میں کسی کو شک نہیں ہونا چاہئے ۔مودی ہے تو ممکن ہے ۔انھوں نے کہاکہ مودی حکومت نے خلا سے لیکر پاتال تک ہرجگہ کا خیال رکھاہے ۔انھوں نے میٹرو ،سڑک ،سیٹلائٹ ،ہوابازی کے شعبہ میں ترقی کی مثال پیش کی اور کہاکہ حکومت نے کسانوں کو زبردست فائدہ پہنچانے کا کام کیاہے ۔جل شکتی وزارت نے 1592ایسے بلاکوں کی نشاندہی کی ہے جہاں پانی کا استعمال ضرورت سے زیادہ ہواہے اور جل ہی جیون مشن چلانے کافیصلہ کیاہے ۔بحث میں ترنمول کانگریس کے ششر ادھیکاری ،بی جے پی کے نندکمار چوہان اور سی پی آئی کے سبارائن نے بھی حصہ لیا۔