جامع مسجد سیل،پائین شہر میں بندشیں

9 جولائی 2019 (00 : 01 AM)   
(   عکاسی: مبشرخان    )

نیوز ڈیسک
سرینگر//برہان وانی کی تیسری برسی پر پائین شہر میں سخت ترین بندشیں عائد رہیں۔حکام نے صفا کدل، رعناواری، خانیار، مہاراج گنج اور نوہٹہ کے پولیس تھانوں کے تحت آنے والوں علاقوں میں کرفیو جیسی پابندیاں عائد کی تھیں۔ کرفیو جیسی پابندیوں سے مستثنیٰ شہر کے دیگر علاقوں میں مکمل ہڑتال کے باعث بازاروں میں ہو کا عالم طاری رہا۔ حکام نے ممکنہ احتجاجوں کی روک تھام کو یقینی بنانے کے لئے کئی سڑکوں پر خار دار تار بچھادی تھی، حساس چوراہوں پر بلٹ پروف گاڑیوں کو کھڑا کیا گیا تھا اور کئی حساس مقامات پر بھاری تعداد میں سیکورٹی فورسز کی نفری کو تعینات کیا گیا تھا۔شہر سری نگر کے باقی علاقوں میں اگرچہ حکام کی طرف سے پابندیاں عائد نہیں تھیں تاہم بازاروں میں ہو کا عالم طاری رہا، تمام دکانیں بند، کاروباری سرگرمیاں مفلوج، سڑکوں پر ٹرانسپورٹ کی نقل وحمل معطل رہی۔بنکوں اور سرکاری دفاتر میں کام کاج متاثر رہا جبکہ تعلیمی ادارے مکمل طور پر بند رہے۔ نالہ مار روڑ عبور ومرور کے لئے جزوی طور بند رہا جبکہ رعناواری، خانیار، ناؤ پورہ اور بابا ڈیمب علاقوں میں سیکورٹی فورسز کی بھاری تعداد کو تعینات کیا گیا تھا اور سیول لائنزعلاقوں بشمول رزیڈنسی روڑ، مولانا آزاد روڑ، لالچوک، بڈشاہ چوک، جہانگر چوک وغیرہ میں بھی امن وقانون کی بحالی کو یقینی بنانے کے لئے سیکورٹی فورسز کی اضافی نفری کو تعینات کیا گیا تھا۔نوہٹہ میں واقع تاریخی جامع مسجدکے تمام دروازوں کو بند کیا گیا تھا اور جامع کی طرف جانے والی سڑکوں کو بھی خار دار تار سے سیل کیا گیا تھا۔
 

تازہ ترین