تازہ ترین

اکثریتی فرقہ کو الگ تھلگ اور پشت بہ دیوار کرنا منصوبہ بند سازش: تنویر صادق

سول اور پولیس انتظامیہ کے کلیدی عہدوں پر مسلمان برائے نام تشویشناک

9 جولائی 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

نیو ڈسک
سرینگر//نیشنل کانفرنس لیڈر تنویر صادق نے کہا ہے کہ ایک منصوبہ بند ساز ش کے تحت جان بوجھ کر ریاست کے مسلمانوں کو الگ تھلگ اور پشت بہ دیوار کیا جارہا ہے۔ حلقہ انتخاب جڈی بل کے خوشحال سر اور گل کدل زونی مر میں پارٹی کنونشنوں سے خطاب کرتے ہوئے تنویر صادق نے کہا کہ ’’ہم فرقہ پرست نہیں اور نہ ہی ہماری جماعت فرقہ پرستی پر مبنی سیاست میں یقین رکھتی ہے لیکن ایک سیکولر جماعت ، جس نے ہمیشہ ہندو مسلم سکھ اتحاد کو دوام بخشا ہے۔ انہوںنے کہاکہ ریاست میں بڑے پیمانے پر سیاسی تبدیلیاں لانے کی کوششیں کی جارہی ہیںجن پر خاموش نہیں بیٹھ سکتے ہیں۔تنویر صادق نے کہاکہ بھاجپا نے ایسے ہر ایک فرد اور جماعتوں کو ہدف تنقید بنانے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی جس نے ملک میں اقلیتوں کی فلاح و بہبود کی بات کی لیکن جموں وکشمیر میں اقلیتوں کو خوش کرنا بی جی پی کی واحد شناخت بن گئی ہے ، نئی دلی کی ایما پر یہ سب کچھ انتظامی سطح پر کیا جارہا ہے۔انہوںنے کہاکہ گورنر انتظامیہ میں بڑے بڑے اور بااثر عہدوں سے لیکر ضلعی ایس پی تک مسلمانوں کو ہٹا کر باہری لوگوں کو کلیدی عہدوںپر تعینات کیا جارہاہے۔ تنویر صادق نے کہا کہ جموں وکشمیر ایک مسلم اکثریتی ریاست ہے لیکن یہاں کے مسلمان ہی نظرانداز ہورہے ہیں۔ مسلمانوں کی 70فیصدی آبادی ہونے کے باوجود گورنر کے مشیروں میں صرف ایک مسلمان شامل ہے، یہ کہاں کا انصاف ہے؟انہوں نے کہا کہ ہم فرقہ پرست نہیں اور نہ ہی مذہبی بنیادوں پر سیاست اور فرقہ پرستی میں یقین رکھتے ہیں۔ لیکن یہاںمبینہ اور ظاہری طورپر مذہبی بنیادوں پر سب کچھ کیا جارہا ہے تو لوگوں کا سوال اُٹھانا جائز ہے۔ انہوںنے کہاکہ یو پی ، مہاراشٹرااور مدھیہ پردیش وغیرہ میں یہ تصور بھی نہیں کیا جاسکتا ہے کہ کوئی مسلمان انتظامیہ میں کسی کلیدی عہدے پر تعینات ہو ،اور اگر ان ریاستوں میں کبھی ایسا ہوا بھی تو بھاجپا والے اسے اقلیتوں کو خوش کرنے سے جوڑ کو خوب شور شرابہ مچائے گی لیکن جموں وکشمیر میں بھاجپا کا موقف تبدیل ہوجاتا ہے جہاں اقلیتوں کو خوش کرنا کھلے عام جاری ہے کیونکہ یہ مسلم اکثریتی ریاست ہے۔ تنویر صادق نے کہا کہ جب کشمیر کی بات آتی ہے تو سب کچھ تبدیل ہوجاتا ہے، کشمیری مسلمانوں پر بھروسہ نہیں کیا جارہا ہے، تمام کلیدی محکموں کی سربراہی غیر مسلم کررہے ہیں، یہ کیسے چل سکتا ہے اور کوئی اسے کیسے جواز بخش سکتا ہے؟ہمیں کشمیر میں آئی آئی ٹی سے محروم رکھا جارہا ہے اور جو جموں میں ہے وہاں ایک بھی مسلمان استاد یا پروفیسر نہیں۔ عدلیہ، جے کے بنک، پولیس اور انتظامیہ میں برائے نام مسلمان آفیسر ہیں۔ آپ حالات میں سدھار کی کی توقع کیسے کرسکتے ہیں جب آپ مقامی لوگوں پر بھروسہ نہیں کریں گے؟ اگرچہ ہم دہائیوں سے کھلے دل سے یاتریوں کا خیر مقدم کرتے آئے ہیں لیکن اس بار پوری آبادی کو اُس وقت تک یرغمال بنایا جاتا ہے جب تک نہ یاترا کی کانوائے نہیں گزر جاتی۔یہ پہلا موقعہ نہیں جب امرناتھ یاترا ہورہی ہے لیکن یہاں اقلیتوں کو خوش کرنے کیلئے اکثریتی آبادی کو ہراساں کیا جارہا ہے ۔یاترا روز اول سے مقامی مسلمانوں کے تعاون اور اشتراک سے ہی کامیاب ہوپائی ہے،آپ مذہبی سفر کے نام پر پوری آبادی کو ہراسان اور پریشان کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ اقلیتوں کو خوش کرنے کیلئے نہیں ہورہاہے، آپ ملک میں ایک ایسی ریاست دکھائیں جہاں اقلیتوں کی مذہبی تقریب پر اکثریتی لوگوں کیلئے راستہ بند کیا جاتا ہو‘‘۔تنویر صادق نے کہا کہ کشمیری مسلمان کبھی بھی فرقہ پرست نہیں تھے اور ہمیشہ بھائی چارے میں رہے، یہاں کے مسلمانوں نے پنڈتوں کو نہیں نکالا بلکہ سابق گورنر جگموہن نے ایک منصوبہ بند سازش کے تحت یہاں کی پنڈت برادری کو دھوکے سے وادی سے باہر نکالا۔ انہوں نے کہا کہ یہاں جو کچھ ہورہا ہے کہ یہ کوئی معمول کی بات نہیں، یہ سب کچھ بھاجپا کے کشمیر مخالف ایجنڈے کے تحت ہورہاہے جس کے تحت یہ لوگ دفعہ370اور 35اے کو ختم کرکے یہاں کی خصوصی پوزیشن کو تہس نہس کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جموںوکشمیر میں الیکشن کا انعقاد نہ کرنے کا یہی واحد مقصد ہے کہ نئی دلی سے یہاں کا نظام چلایا جائے اور گورنر انتظامیہ، جس میں مسلمانوں کی موجودگی برائے نام ہے، کے ذریعے کشمیر مخالف ایجنڈے کو دوام بخشا جائے۔انہوںنے کہاکہ موجودہ حالات ہمارے لئے ایک امتحان کی گھڑی ہے اور ہمیں اتحاد و اتفاق کا مظاہرہ کرکے اُن طاقتوں کو ناکام بنانا ہے جو یہاں کے آبادیاتی تناسب کو بگاڑنا چاہتے ہیں۔ تنویر صادق نے کہا کہ ریاست کے مسلمانوں کو زبردست چیلنج کا سامنا ہے، حکومت میں ترجمانی نہ ہونے کی وجہ سے مسلمان اس وقت خود کو یتیم محسوس کررہے ہیں، وقت کا تقاضا ہے کہ خطہ پیرپنچال اور خطہ چناب کے لوگ کشمیر کے شانہ بہ شانہ چل کر اُن عناصر اور جماعتوں کو نہ صرف ناکام بنائے بلکہ انہیں باہری راستہ دکھائیں یہاں ریاست کو مذہبی اور علاقائی بنیادوں پر تقسیم کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔انہوںنے کہاکہ آنے والے اسمبلی انتخابات میں فرقہ پرستوں کو منہ توڑ جواب دینے کی ضرورت ہے۔دریں اثناء پارٹی عہدیداروں اور کارکنوں کو 11اور 13جولائی کے پروگراموں میں شرکت کی اپیل کی گئی۔ کنونشنوں سے بلاک صدر جڈی بل مشتاق بیگ، نائب صدرِ بلاک عبدالقیوم، بشیر احمد، معراج الدین صوفی، سکریٹری غلام رسول ڈار، خزانشی نذیر پانپوری، جوائنٹ سکریٹری ماجد شولو، یوتھ صدر عمران بٹ، شیخ شاہد، سینئر لیڈر اور سابق ڈپٹی میئر غلام محمد حکیم، حلقہ صدر زیڈی بل محمد یوسف حلیم، حلقہ صدر کائوڈارا علی محمد ڈار، حلقہ صدر زونی مر نذیر احمد، حلقہ صدر نوشہرہ مشتاق صوفی، حلقہ صدر آنچار محمد ٹپلو، حلقہ صدر لال بازار محمد امین، حلقہ صدر عمر کالونی غلام نبی اور نائب صدر یوسف مغلو کے علاوہ معزز شہریوں اور دیگر عہدیداران بھی نے بھی خطاب کیا۔