تازہ ترین

کرناہ میں نیشنل کانفرنس کا کنونشن | نت نئی جماعتوں کا قیام کشمیر کو منقسم کرنے کا حربہ:ساگر،ناصر

9 جولائی 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

نیو ڈسک
سرینگر//نیشنل کانفرنس نے کہاہے کہ پی ڈی پی کے بے نقاب ہونے کے بعد بھاجپا اور آر ایس ایس نے کشمیریوں کی آواز کو تقسیم کرنے کیلئے اپنے نئے اعلیٰ کاروں کو میدان میں اُتارا ہے ۔ وادی میں اس وقت جو نئی جماعتیں اور نئے اتحاد قائم ہورہے ہیں وہ فرقہ پرستوں اور کشمیردشمنوں کے اُسی منصوبہ کا حصہ ہیں ۔ اس لئے کشمیری قوم کو ایسے عناصر سے ہوشیار رہنا چاہئے اور ایسی غلطی دوبارہ دہرانے سے گزیر کرنا چاہئے جو 2014میں پی ڈی پی پر اعتماد کرکے سرزد ہوئی تھی۔این سی کے جنرل سکریٹری علی محمد ساگر نے پارلیمانی چنائو میں جیت کے بعدپارٹی عہدیداروں اور کارکنوں کیساتھ رابطہ مہم کے دوران شمالی کشمیر کے سرحدی علاقہ کرناہ میں پارٹی کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے ان باتوں کا اظہار کیا۔ اس موقعے پر صوبائی صدر ناصر اسلم وانی، سینئر پارٹی لیڈران چودھری محمد رمضان، میر سیف اللہ، قیصر جمشید لون، ڈاکٹر سجاد اوڑی، کفیل الرحمن، سلام الدین بجاڑ اور سید رفیق شاہ بھی موجود تھے۔ علی محمد ساگر نے کہا کہ وادی کشمیر میں نئی جماعتوں کے قیام کے رجحان پر غور و خوض کرناوقت کی اہم ضرورت ہے کیونکہ لداخ اور جموں میں ایسا کوئی بھی رجحان دیکھنے کو نہیں مل رہا ہے۔ یہ سب کچھ ایک منصوبہ بند سازش کے تحت کشمیریوں کو ٹولیوں میں بانٹنے کا ایک حربہ ہے تاکہ یہاں کی آواز کو کمزور اور بے وزن کیا جائے۔ باشعور کشمیری قوم کو تدبر اور دوراندیشی کا مظاہرہ کرکے ایسے تمام عناصر کے مکروہ عزائم کو ناکام بنانا ہوگا جو دشمنوں کے خاکوں میں رنگ بھر کر یہاں کے لوگوں کو تقسیم کرنے کے درپے ہیں۔ جنرل سکریٹری نے کہا کہ نیشنل کانفرنس ریاست دشمنوں کے عزائم کو خاک میں ملانے کیلئے برسرجہد ہے اور اس کیلئے ہمیں عوامی اشتراک اور تعاون کی ازحد ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ نیشنل کانفرنس ریاست کی تعمیر و ترقی اور لوگوں کی خوشحالی کیلئے بھی وعدہ بندہے۔ جہاں ہماری جماعت دفعہ35اے اور370اے کیخلاف جاری سازشوں کا عدلیہ کے ساتھ ساتھ ہر ایک سٹیج پر دفاع کررہے ہیں وہیں ہماری جماعت خصوصی پوزیشن کی بحالی کیلئے جدوجہد کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس ریاست کے لوگوں کیساتھ ساتھ کرناہ کے عوام کے مسائل اور مشکلات سے بھی باخبر ہے۔ سادھنا ٹنل کی تعمیر کی اہمیت یہاں کے عوام کیلئے کیا معنی رکھتی ہے اُس کا بھی ہمیں بخوبی احساس ہے۔ ہمارے 3ممبرانِ پارلیمان ملک کے سب سے بڑے جمہوری ایوان پارلیمنٹ میں اس ٹنل کی تعمیر کیلئے اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سادھنا ٹنل کرناہ کے عوام کی زندگی بدل کر رکھ دے گی۔ اس ٹنل کی تعمیر ہمارے ممبرانِ پارلیمان کی اولین ترجیح ہے۔اس ٹنل کی تعمیر سے نہ صرف یہاں سال کے 12مہینے رابطہ قائم رہ سکتا ہے بلکہ قیمتی جانوں کی تلافی کو بھی روکا جاسکتا ہے اور اس ٹنل کی تعمیر سے یہاں کے لوگوں کی اقتصادی حالت بھی بہتر ہوگی۔صوبائی صدر ناصر اسلم وانی نے اپنے خطاب میں کہا کہ نیشنل کانفرنس کی حکومتوں کی بدولت کرناہ کے تمام دیہات کوسڑکوں سے جوڑ دیا گیا، ہر محلہ میں سکول کھولے گئے جبکہ کئی پل تعمیر کروائے اور بے شمار تعمیرو ترقی کے کام انجام دیئے گئے۔ ہماری جماعت کرناہ میں تعمیرو ترقی اور لوگوں کی خوشحالی اور فارغ البالی کے اپنے کام آگے بھی جاری رکھے گی۔ اس کیلئے نیشنل کانفرنس کو مضبوط سے مضبوط کرنا انتہائی ضروری ہے۔  صوبائی صدر ناصر اسلم وانی نے اپنے خطاب میں کہا کہ ریاست کے لوگ اس وقت زبردست مشکلات سے دوچار ہیں۔ لوگ بنیادی ضروریات سے محروم ہیں، بجلی کی سپلائی میں کوئی بہتری نہیں آرہی ہے۔ کئی علاقوں میں بجلی کی سپلائی سرما سے بھی بدتر ہے۔ تعمیر و ترقی اور جوابدہی کا فقدان ہے۔ ایسے میں ہمارا فرض بنتا ہے کہ ہم لوگوں کے مسائل و مشکلات کو اُجاگر کریں اور ان کا سدباب کرانے کی ہر ممکن کوشش کریں۔ ناصر نے پارٹی عہدیداروں اور کارکنوں پر پر زور دیا کہ وہ لوگوں کے ساتھ قریبی رابطہ رکھیں ۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کا اعتماد اور تعاون ہی سب سے بڑا سرمایہ ہے ، نیشنل کانفرنس کا یہ اصول رہا ہے کہ عوام طاقت کا سرچشمہ ہے اور سرداری عوام کا حق ہے۔ اس سے قبل اجلاس کے شرکاء نے لوگوں کے مسائل ومشکلات اُبھارے اور ساتھ ہی تنظیمی امورات اور سرگرمیوں کے بارے میں بھی اجلاس کو آگہی دلائی۔ کنونشن میں کرناہ، کیرن، ٹنگلڈار ، جمہ گنڈ اور ٹیٹوال کے عہدیداروں نے بھی شرکت کی۔ اس سے قبل ٹی آر سی گرائونڈ کپوارہ میں بھی ایک عظیم الشان یک روزہ کنونشن کا انعقاد ہوا، جس میں لولاب، ہندوارہ،کپوارہ کے عہدیداروں اور کارکنوں نے شرکت کی۔