تازہ ترین

چاروزہ مسلم تعلیمی کانفرنس

ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی

9 جولائی 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

ڈاکٹر عبید اقبال عاصمؔ
آل   انڈیا ایجوکیشنل موومنٹ (AIEM) دہلی، نے مسلم ایجوکیشنل سوشل اینڈ کلچرل آرگنائزیشن (MESCO) حیدرآباد، کے تعاون و اشتراک سے مورخہ ۱۳؍ تا ۱۶؍ جون ۲۰۱۹ء حیدر آباد میں چار روزہ تعلیمی کانفرنس کا انعقاد کیا، جس کا مرکزی عنوان ’’انڈیا ایجوکیشن کنکلیو 2019‘‘ (India Education Conclave 2019) تجویز ہوا اور جس کا محور کوالٹی ایجوکیشن، چیلنجز اینڈ پراسپیکٹس‘‘ (Quality Education Chellanges & Prospectusطے ہوا۔ اس کا ایجنڈاڈراپ آئوٹس، اسکل ڈولپمنٹ، کوچنگ کلاسز، سائبر سیکوریٹی، قرآن فہمی، عربک لینگویج، سیرت النبی، اسلامک تاریخ اور اس کی خدمات نیز جدیدترین تعلیمی اداروں وغیرہ کی صورت حال پر جائزہ و تجزیہ کو پیش نظر رکھ کر ترتیب دیا گیا جس میں ملک بھر کے منتخب تعلیمی ماہرین کے خطابات و بیشتر تحقیقی مقالات کو جدید ترین ٹیکنالوجی یعنی پاور پریزینٹیشن کے ذریعہ پیش کیا گیا۔
حیدر آباد میں منعقدہ اس چار روزہ تعلیمی کانفرنس سے بہت سی باتیں سیکھنے کو ملیں جن میں بعض حوصلہ افزا بھی تھیں اور بہت سی تعجب خیز بھی۔ ۱۳؍ جون کے کسی بھی اجلاس میں شرکت دہلی سے حیدر آباد جانے والوں کے لیے ممکن نہیں ہو سکی کیونکہ دہلی سے فلائٹ قدرے تا خیر ے چل کر شام ۷؍ بجے حیدر آباد ائیرپورٹ پر پہنچی۔ اس کے موضوعات ڈراپ آئوٹس، تلنگانہ اقلیتی رہائشی تعلیمی مراکز سوسائٹی، اسکل ڈیولپمنٹ، نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اوپن اسکولنگ اور کوچنگ کلاسز کے تعلق سے مفید و مؤثر گفتگو کرنا تھی۔ یہ پروگرام مدینہ ایجوکیشنل سوسائٹی نام پلّی علاقے میں منعقد ہوا۔ البتہ ۱۴؍ تا ۱۶؍ جون کے مختلف العناوین اجلاس میں شرکت کا موقع ملا جن سے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا۔ ۱۴؍ جون کی صبح کا سیشن سالار جنگ میوزیم کے آڈیٹوریم میں منعقد ہوا۔ جس کی صدارت حکومت تلنگانہ کے اقلیتی امور کے خصوصی مشیرکار و سابق آئی پی ایس افسر محترم اے کے خان (عبدالقیوم خاں صاحب) نے فرمائی جب کہ مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے حیدر آباد میں واقع ترکی سفارت خانے کے کونسلر صاحب نے شرکت فرمائی۔ نظامت کے فرائض میسکو کے سیکریٹری محترم ڈاکٹر محمد فخر الدین صاحب نے انجام دیئے۔ مسلمانوں کی تعلیم کے تعلق سے پروفیسر محمد اختر صدیقی صاحب (جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی) اور محترم پروفیسر خواجہ محمد شاہد صاحب (صدر اے آئی ای ایم) و سابق پرو وائس چانسلر مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی حیدر آباد نے اپنے تحقیقی مقالات پیش کئے۔ دونوں حضرات نے ہندوستان کی موجودہ تعلیمی صورت حال اور مسلمانوں کے ستر سالہ تعلیمی سفر پر اعداد و شمار کی روشنی میں تخمینے بھی پیش کئے۔ حالات کا جائزہ بھی لیا اور تجزیاتی مطالعہ بھی سامنے رکھا۔ علاوہ ازیں دیگر مقررین نے بھی مرکزی موضوع کے حوالے سے اپنی گفتگو پیش کی، یہ سیشن اپنی معلومات، مطالعات، جائزوں، تجزیوں اور تجربوں کے حوالے سے بیش قیمت سیشن تھا، جس میں جنوبی و شمالی ہند کی تعلیمی صورتحال کا موازنہ بھی بیشتر مقررین نے کیا۔ جنوبی ہندوستان میں مسلمانوں کی تعلیمی صورت حال ہر ایک کے لئے حوصلہ افزا رہی تو شمالی ہندوستان کے مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی بھی اعداد و شمار کی روشنی میں سامنے آئی۔ یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ اس خطہ کے مسلمانوں نے کم و بیش پچاس سالہ تعلیمی غفلت کے جرم عظیم کا مرتکب ہونے کی پاداش میں اپنے کو پیچھے کی طرف دھکیل دیا۔ البتہ ماضی قریب میں مسلمانوں کی طرف سے تعلیم کے فروغ کے لئے جو کوششیں کی جارہی ہیں ان سے یہ امید کی جانی چاہیے کہ ان شاء اللہ مستقبل قریب میں تعلیمی پسماندگی کی صورت حال تبدیل ہوگی۔ 
نمازِ جمعہ و طعام کے بعد مسلم خواتین کی تعلیمی، سماجی، طبی و تہذیبی صورتِ حال پر میسکو کنونشن سینٹر، ملک پیٹ میں ایک خصوصی سیشن منعقد ہوا جس میں مختلف خواتین مقررین نے اپنے مقالات پیش فرمائے۔ انگریزی زبان میں پیش کئے گئے ان مقالات کی خصوصیت یہ تھی کہ نہ تو کوئی تکرار تھی اور نہ ہی منتخبہ موضوع سے ہٹ کر کسی مقرر نے کوئی بات کہی۔  محترمہ پروفیسر اثنا عروج صاحبہ، پروفیسر رخشیدہ سید صاحبہ، محترمہ فخر النساء صاحبہ اور دیگر تجزیہ نگار خواتین نے بہت ہی بہتر انداز سے درج بالا موضوعات کا جائزہ لے کر اس سمت میں چھائی ہوئی بے بسی دور کرنے اور مسلم خواتین کو بیدار کرنے کا مشورہ بھی دیا اور موجودہ صورتِ حال پر اپنی تشویش کا اظہار بھی کیا۔
۱۵؍ جون کی صبح کا پروگرام بنجارہ ہلز میں واقع سلطان العلوم ایجوکیشن سوسائٹی کے زیر اہتمام چلنے والے مفخم جاہ انجینئرنگ کالج کے آڈیٹوریم میں منعقد ہوا۔ جس میں تعلیم کے روز مرہ بدلتے طریقِ کار اور جدید ذرائع تعلیم پر مفخم جاہ انجینئرنگ کالج کے اساتذہ نے تعارفی گفتگو فرمائی، ڈاکٹر احمد عبدالحیٔ صاحب (پٹنہ) انجینئر طارق اعظم صاحب ملیشیا، امریکی سفارت خانہ حیدر آباد کے کونسلر محترم ایلی الیکزینڈر کے خصوصی خطابات ہوئے مذکورہ خطابات کے بعد چائے کا وقفہ ہوا جس میں اس کالج کے طلباء نے اپنی سائنسی ایجادات کا حاضرین اجلاس کومشاہدہ کرایا، اس کے بعد لنچ تک اور پھر لنچ کے بعد شام چھ بجے تک تسلسل کے ساتھ تین اجلاس پر مشتمل اس پورے دن کو ٹیکنالوجی ریسرچ اینڈ انڈسٹری، مصنوعی ذہانت، سائبر سیکوریٹی، سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اینڈ میتھامیٹکس (STEM) کے ذیلی عناوین کے ساتھ مختص کیا گیا تھا۔ جن پر پورے دن سیر حاصل بحث بھی ہوئی۔ اعتراضات و جوابات بھی ہوئے اور تحقیقات و انکشافات سے بھی حاضرین اجلاس متاثر ہوئے بنا نہیں رہ سکے۔بعد نمازِ مغرب قدیم حیدر آباد کے مشہور علاقے ٹولی چوکی میں واقع اذان انٹر نیشنل اسکول میں طلباء کی حوصلہ افزائی کا پروگرام منعقد ہوا جس میں بطورِ خاص خواجہ محمد شاہد صاحب، محترم امان اللہ خاں صاحب، ڈاکٹر جاوید جمیل صاحب اور ڈاکٹر محمد فخرالدین صاحب نے بطورِ خاص اسکول کے ان طلباء کو انعامات و اعزازات سے نوازا جنھوں نے رواں سال میں بہتر تعلیمی کار کردگی کا مظاہرہ کیا، اسکول کے روحِ رواں ڈاکٹر محمد یوسف اعظم صاحب نے اسکول کے مقصدِ قیام اور ارتقائی منازل کی تفصیلات پیش فرمائیں، اس کا اختتام عشائیہ پر ہوا۔
۱۶؍ جون کی صبح میسکوکنونشن سینٹر ملک پیٹ حیدر آباد میں دینی مدارس کی موجودہ تعلیمی صورت حال اور بدلتے حالات کے تقاضوں کے مطابق اس کے نصاب و نظام میں تبدیلی کی راہیں تلاش کرنے کے لئے مختص تھا جو مشہور عالمِ دین محترم مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں محترم پروفیسر فہیم اختر ندوی صاحب، حیدر آباد میںمقیم انگلینڈ کے سفارت کار ڈاکٹر جاوید جمیل صاحب، محترم ڈاکٹر عمری صاحب اور ایک خاتون مقرر نے اپنے خطابات کی روشنی میں مدارس کی صورتِ حال، طریق کار، قرآن و دینیات کے نصاب، انتظامی طریق کار کی خوبیوں و خامیوں پر سیر حاصل گفتگو فرمائی۔ دوسرا سیشن تسلسل کے ساتھ پروفیسر فہیم اختر ندوی صاحب کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں ڈاکٹر مولانا عمرالعابدین رحمانی صاحب، پروفیسر جہانگیر عالم صاحب اور دوسرے بہت سے حضرات نے اظہارِ خیال فرمایا، اس اجلاس میں بطورِ خاص مولانا محمد ولی رحمانی صاحب جنرل سکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے شرکت فرمائی۔ نماز و طعام کے بعد اجلاس کو حیدر آباد میں چلنے والے خواتین کے مختلف دینی مذہبی تعلیمی اداروں سے متعلق مخصوص رکھا گیا اس اجلاس میں اساتذہ نے اپنے ہوشیار طلباء و طالبات کے پر کشش پروگرام پیش کئے۔ علوم دینیہ کے ابتدائی و ثانوی، درجات، طالبات کے ذریعہ عربی قواعد، ادب، قرآن و سیرت پر عبور کے نمونے پیش کئے گئے۔ اس پروگرام کی سر براہی عربک لینگویج اینڈ انگلش ایجوکیشن فائونڈیشن (ALEFF)نامی ادارے کے منتظمین نے کی۔ اس کے ساتھ ساتھ برابر والے ہال میں  آل انڈیا ایجوکیشنل موومنٹ کی نویں سالانہ میٹنگ کا انعقاد بھی عمل میں آیا۔
کانفرنس کا آخری اجلاس محترم ڈاکٹر فخرالدین صاحب کی زیر صدارت شام۵؍ بجے منعقد ہوا، جس کا آغاز عبید اقبال عاصم کی تلاوتِ کلام اللہ سے ہوا۔ محترم عبدالرشید صاحب ایڈیشنل جنرل سیکریٹری (AIEM)نے نظامت کے فرائض انجام دیے، صدارت محترم ڈاکٹر محمد فخرالدین صاحب نے فرمائی۔ ڈاکٹر ابرار اصلاحی صاحب اور پروفیسر محمد یوسف اعظم صاحب کے خصوصی خطابات ہوئے۔ جناب سید مظفر علی صاحب جنرل سیکریٹری آل انڈیا ایجوکیشنل موومنٹ نے تجاویز پیش کیں جنہیں تمام حاضرین نے متفقہ رائے سے پاس کیا۔بعد ازنمازِ مغرب نیو ملک پیٹ میں شاہین گروپ کی حیدرآباد شاخ کا انعقاد عمل میں آیا جس میں تمام اراکین کارواں نے شرکت کی، اس تقریب میں ملک پیٹ کے ایم ایل اے پاشا صاحب بھی تشریف لائے۔ موصوف کے علاوہ مفتی عمر العابدین رحمانی صاحب اور ڈائرکٹر شاہین گروپ ڈاکٹر عبدالقدیر صاحب کے خصوصی خطاب کے ساتھ یہ مختصر سی تقریب دعاء پر اختتام پذیر ہوئی۔
۱۷؍ جون کی صبح شمالی ہندوستان کے شرکائے کانفرنس نے حسبِ پروگرام گلبرگہ کے لئے رختِ سفر باندھا۔ یہاں پر جنوبی ہند کے معروف صاحب سلسلہ بزرگ حضرت خواجہ بندہ نواز گیسو دراز کی درگاہ واقع ہے۔ کم و بیش ساٹھ سال قبل اس درگاہ کے سجادہ نشین خواجہ محمد حسینی صاحب کے دل میں تعلیم کا چراغ روشن کرنے کی رمق پیدا ہوئی جسے انھوں نے اخلاص و محبت کے ساتھ تن تنہا یہ سوچ کر جلایا    ؎
شکوۂِ ظلمت شب سے تو کہیں بہتر تھا
اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے
9358318995
ubaidiqbalasim@gmail.com  
(بقیہ  بدھ کے شمارے میں ملاحظہ فرمائیں)