تازہ ترین

نصرت جہاں سے زائرہ وسیم تک

ندائے خلق

9 جولائی 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

عاصم طاہر اعظمی
فلمی   دنیا میں جوانی کی دہلیز پر قدم رکھنے والی دومسلم اداکارہ ایک کا تعلق ریاست مغربی بنگال سے تو دوسری کا تعلق ریاست جموں کشمیر سے ہے پچھلے کچھ دنوں سے دونوں کے تذکرے ہر خاص و عام کی زبان ہیں اور پرنٹ میڈیا، الیکٹرانک میڈیااور سوشل میڈیا پر چھائے ہوئے ہیں ۔لوگ ان دونوں پر اپنی اپنی ذہنیت کے مطابق کمنٹس بھی کررہے ہیں۔پہلی مسلم اداکارہ 29 سالہ نصرت جہاں ہیںجو ابھی ابھی لوک سبھا الیکشن میں ترنمول کانگریس کے ٹکٹ پر الیکشن میں کامیاب ہوکر پہلی مرتبہ ایم پی بنیں اور کامیاب ہونے کے فوراً بعد ابھی حلف سیشن بھی نہیں ہوا تھا کہ اپنے بوائے فرینڈ نکھل جین سے شادی کی خبر وائرل کردی اور اس کے کچھ ہی دنوں بعد نصرت جہاں کی دیرینہ خواہش پوری ہوئی نصرت جہاں نے اپنی شادی کی ایک تصویر شیئر کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں نکھل جین کے ساتھ شادی کرکے بہت خوش ہوں۔ صاف ہے کہ یہ ان کا اپنا فیصلہ ہے ۔ ان کے اس فیصلے سے نہ ہی بہت زیادہ میڈیا میں چہ می گوئیاں ہوئیں اور نہ ہی مسلمانوں کے مابین وہ موضوع بحث بنیں۔ دوسری مسلم اداکارہ 18/ سالہ زائرہ وسیم ریاست جموں کشمیر کے شہر سری نگر سے تعلق رکھنے والی ہے۔ انہوں نے اپنی فلمی دنیا کا آغاز عامر خان کی فلم دنگل سے 2015 میں کیا۔ اپنے پانچ سالہ فلمی دنیا میں بالی ووڈ دو فلموں دنگل، سیکریٹ سپر اسٹار اپنی اداکاری کے جوہر دکھائی ہیں ۔زائرہ وسیم نے اپنے فلمی دنیا کو یہ کہتے ہوئے الوداع کہا کہ فلمی دنیا نے مجھے بہت شہرت، عزت اور محبت دی مگر مجھے یہ دنیا اپنے دین سے دور کررہی تھی، میری زندگی میں سکون نام کی کوئی چیز ہی نہیں رہی تھی، سکون کی تلاش میں بقول ان کے انہوں نے قرآن مجید سے رجوع کیا اور قرآن کی تعلیمات نے اسے یہ پیغام ملا کہ فلمی دنیا کی چمک دمک وقتی چیز ہے، جوں جوں وہ قرآن پڑھتی گئی اپنے اندر ایمان کی تازگی محسوس کی اور اپنی فلمی دنیا کو اچانک خیر باد کہہ کر دینِ اسلام کی پیروکار بن گئی۔ 
ان دونوں مسلم اداکاراؤں کے فیصلوں سے جو بات سب سے زیادہ ابھر کر سامنے آتی ہے وہ یہ کہ اگر کوئی سلبرٹی دین اسلام کے خلاف کوئی کام کرلے تو میڈیا میں دور دور تک کوئی گفتگو اور کوئی بحث نہیں ہوتی لیکن اگر کوئی دوسری سلبر ٹی دین اسلام کی طرف لوٹ آئے تو ہر طرف واویلا مچ جاتا ہے، اس کے اوپر تنقیدات کے تیر چلتے ہیں،جیسےمخصوص قسم کے میڈیا میں زائرہ وسیم کے ذاتی فیصلے پر ایک ٹی وی چینل نے ڈیبیٹ کردیا۔ ان نام نہاد میڈیا والوں کو زائرہ وسیم کے ذاتی فیصلے پر زیادہ آپتی ہے ، حالانکہ یہ ان کی مرضی ہے کہ وہ کس طرح جئیں۔ خود زائرہ وسیم نے حقیقت حال تحریراً  منظر عام پر لائی اور یہ  خلاصہ کر دیا کہ میں فلمی دنیا کو کیوں خیر باد کھ رہی ہوں، پانچ سال قبل میں نے ایک فیصلہ لیا جس نے میری زندگی کو ہمیشہ کے لیے بدل دیا جیسے ہی میں نے فلمی دنیا میں قدم رکھا تو میرے لیے شہرت کے دروازے کھل گئے، میں لوگوں کی توجہ کا مرکز بنتی گئی، مجھے کامیابی کے مقدس صحیفے کے طور پر پیش کیا جانے لگا اور نوجوان نسل کے لیے رول ماڈل قرار دیا جانے لگا۔ اس درمیان میں نے کامیابی اور ناکامی کے نظریات کو سمجھنے کی کوشش نہیں کی جسے میں نے اب سمجھنا شروع کیا ہے ۔آج جب کہ میرے پانچ سال مکمل ہوگئے ہیں، میں اس بات کا اعتراف کرنا چاہوں گی کہ واقعی میں اپنے اس کام سے ناخوش ہوں، اگرچہ میں یہاں بالکل فٹ ہوں اور اس فیلڈ میں مجھے بہت پیار بھی ملا لیکن یہ مجھے جہالت کی طرف لے جارہی تھی اور آہستہ آہستہ لاشعوری طور پر اپنا ایمان کھو رہی تھی۔ چونکہ میں ایک ایسی جگہ پر کام کررہی تھی جہاں مستقل طور پر میرے ایمان کے ساتھ خلل اندازی ہورہی تھی، میرے مذہب کے ساتھ میرا رشتہ خطرے میں پڑ گیا تھا، اس وجہ سے میں نے فلمی دنیا کو الوداع کہا۔زائرہ وسیم کو اپنی غلطی کے اعتراف کرنے میں مسلم لڑکوں لڑکیوں کے لیے بھی بڑا سبق موجود ہےبشرطیکہ وہ زائرہ وسیم کی کہی ہوئی باتوں کو سنجیدگی کے ساتھ سنیں اور ان پر عمل کریں۔حق تعالیٰ جل مجدہ سے دعا گو ہوں کہ زائرہ وسیم کو اپنے اس فیصلے میں استقامت عطا فرمائے، خدا اُن کا قدم قدم پر حامی و ناصر ہو۔( آمیــــن) 
