کانگریس میں استعفیٰ دینے کا سلسلہ راہل نے شروع کیا: راج ناتھ

9 جولائی 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

نئی دہلی’// کرناٹک اور مدھیہ پردیش میں حکمراں کانگریس کے ممبران اسمبلی کو توڑنے اور استعفی دلانے کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے بی جے پی نے آج پارلیمنٹ میں طنز کیا کہ کانگریس میں استعفی دینے کا سلسلہ مسٹر راہل گاندھی نے شروع کیا جس کا بی جے پی سے کوئی لینا دینا نہیں ہے ۔لوک سبھا میں وقفہ صفر شروع ہوتے ہی ایوان میں کانگریس لیڈر ادھیر رنجن چودھری نے یہ معاملہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ جمہوریت سازش کا شکار ہوگئی ہے ۔ مدھیہ پردیش او رکرناٹک کی حکومت میں دل بدل کرایا جارہاہے ۔ مرکزی حکومت خفیہ طریقے سے سازش کررہی ہے ۔ بی جے پی کو پسند نہیں ہے کہ اپوزیشن جماعتوں کی حکومت کسی بھی ریاست میں چلے ۔ یہ نہایت تشویش کی بات ہے ۔مسٹر چودھری نے کہا کہ کانگریس کے ممبران اسمبلی کو گورنر کے دفتر سے منصوبہ بند طریقے سے کاروں کے ذریعہ ہوائی اڈے لے جایا گیا اور پھر وہاں سے بی جے پی کے ایک ممبر پارلیمنٹ کے چارٹرڈ طیارہ سے ممبئی لے جاکر ایک فائیو اسٹار ہوٹل میں رکھا گیا ہے ۔ یہ سب کچھ منصوبہ بند طریقے سے کرایا گیا ہے ۔ مرکزی حکومت کہتی ہے کہ وہ جمہوریت پر یقین رکھتی ہے لیکن یہ تو جمہوریت کی دھجیاں اڑا رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آپ کے 303ممبران جیت گئے لیکن آپ کا پیٹ نہیں بھرا۔ آپ کاپیٹ کشمیری گیٹ ہوگیا ہے ۔ر چودھری کے بعد پارلیمانی امور کے وزیر پرہلاد جوشی نے کہا کہ ایوان کے ڈپٹی لیڈر وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ اس موضوع پر بات رکھیں گے ۔ اس پر اپوزیشن کے اراکین نے مطالبہ کیا کہ وزیر داخلہ امت شاہ ایوان میں موجود ہیں تو انہیں کو جواب دینا چاہئے ۔ لیکن مسٹر جوشی نے کہا کہ مسٹر سنگھ ایوان کے ڈپٹی لیڈر ہیں۔مسٹر راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ کرناٹک میں جو کچھ بھی ہورہا ہے اس سے ان کی پارٹی کا کچھ بھی لینا دینا نہیں ہے ۔ ان کی پارٹی کی ایسی کوئی تاریخ نہیں ہے کہ کسی دوسری پارٹی کے ممبران اسمبلی یا ممبران پارلیمنٹ پر دباو ڈال کر استعفی دلوایا ہو۔ بی جے پی پارلیمانی وقار کو برقرار رکھنے کے سلسلے میں ہمیشہ عہد بند رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کانگریس میں استعفی دلانے کا سلسلہ ہم نے نہیں شروع کیا۔ مسٹر راہل گاندھی نے استعفی دے کر ایک سے ایک بڑے لیڈروں کو استعفی دلانے کا سلسلہ شروع کیا ہے ۔ بی جے پی کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں ہے ۔مسٹر سنگھ کے جواب سے کانگریس کے اراکین مشتعل ہوگئے ۔ انہوں نے اپنی اپنی سیٹوں پر کھڑے ہوکر جمہوریت بچاو کے پلے کارڈ اٹھاکر حکومت کے خلاف نعرے لگائے ۔ اسی شور شرابے کے درمیان اسپیکر اوم برلا نے دراوڑ مونیتر کزگم کے ٹی آر بالو کا نام پکارا۔ مسٹر بالو نے نیٹ کے نصاب کی یکسانیت کے سلسلے میں سوال اٹھائے اور کہا کہ تمل ناڈو میں کچھ لڑکیوں نے خودکشی بھی کی ہے ۔ شور شرابے میں ان کی بات صاف نہیں سنائی دی۔ انہوں نے حکومت سے جواب مانگا لیکن اسپیکر نے اس کی اجازت نہیں دی تو ڈی ایم کے کے تمام اراکین ایوان سے واک آوٹ کرگئے ۔یو این آئی
 

تازہ ترین