تازہ ترین

بجٹ کا ہدف حقائق سے دور: کانگریس

9 جولائی 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

یو این آئی
 نئی دہلی// اپوزیشن پارٹی کانگریس نے مالی سال 2019-20 کے عام بجٹ کو‘ہنگ بجٹ’ قرار دیتے ہوئے پیر کو کہا کہ اس میں جو ہدف مقرر کئے گئے ہیں وہ حقیقت سے پرے ہیں اور معیشت کے عوامل کے موجودہ حالات کے پیش نظر انہیں حاصل کرنا ممکن نہیں نظر آتا۔کانگریس کے ششی تھرور نے لوک سبھا میں بجٹ پر بحث کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے بجٹ پیش کرتے ہوئے ‘ہاتھی’ کی تشبیہ کا استعمال کیا تھا۔ اصل میں موجودہ حکومت سست چال میں چلنے والا ایک ہاتھی ہی ہے ۔ ہم نے توانائی ست بھرپور ، تیزی سے معیشت میں اضافہ کرنے والا بجٹ کی توقع کر رہے تھے ۔ انہوں نے کہا، ‘‘یہ ایک معلق بجٹ ہے جونہ اس طرف ہے نہ اس طرف ۔بجٹ تقریر میں الاٹمنٹ تک کا ذکر نہیں کیا گیا ۔ حیرت انگیز طور پر، کہیں بھی جی ڈی پی کا کوئی ذکرتک نہیں تھا۔ صرف ملک کو 50 کھرب ڈالر کی معیشت بنانے کی بات کہی گئی ہے ، معیشت کی اصل تصویر اس سے بالکل مختلف ہے ’’۔شعرو شاعری سے بھرپور اپنی تقریر میں مسٹر تھرور نے کہا کہ معیشت کو تیزرفتار دینے والے عوامل میں سستی ہے ۔ مختلف ذرائع کے اعداد و شمار کا اشتراک کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گزشتہ سہ ماہی میں سرمایہ کاری 81 فی صد کم ہوگئی تھی۔ 26.1 فیصد منصوبے زیرالتوا ہیں۔ مسافر گاڑیوں کی فروخت میں 20.6 فیصد کمی ہوئی جو 18 سال کی سب سے بڑی گراوٹ ہے ۔ ایف ایم سی جی کے سیکٹر میں دو فیصد کمی درج کی گئی ہے اور جون میں سروس سیکٹرکا نکئی کی طرف سے جاری انڈیکس کم ہوکر 49.2 رہ گیا ہے ۔ انڈیکس میں 50 استحکام اور اس سے نیچے کا عدد گراوٹ کو ظاہر کرتا ہے ۔کانگریس کے رکن نے کہا کہ اس قسم کے بجٹ کے لئے وزیر مالیات کو مکمل طور پرقصوروار نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ گزشتہ پانچ سال کی مودی حکومت کے دور کی وراثت انہیں ملی ہے جس میں نوٹ کی منسوخی ہوئی، جی ایس ٹی کو غلط طریقے سے لاگو کیا گیا اور بے روزگاری 45 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔ انہوں نے کہا کہ نوٹ کی منسوخی سے کئی کمپنیاں بند ہوگئیں اور بڑی تعداد میں لوگ بے روزگار ہوگئے تھے ۔پٹرول-ڈیزل پر دو دو روپے فی لیٹر کر بڑھانے کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس حکومت کی ٹیکسیشن کی پالیسیوں کی وجہ سے عام آدمی پہلے ہی پٹرول ڈیزل کے لئے دنیا میں سب سے زیادہ قیمت دے رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وقت کے وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے مالی سال 2015-16 کا بجٹ پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ مالی سال 201920 تک تمام کمپنیوں کے لئے کارپوریٹ ٹیکس 25 فیصد کر دیا جائے گا، لیکن اس بجٹ میں صرف 400 کروڑ روپے تک کا کاروبار کرنے والی کمپنیاں ہی اس کے دائرے میں لائی گئی ہیں۔مسٹر تھرور نے کہا کہ اس بجٹ میں دیہی ہندوستان کو بہت کم دیا ہے ۔ دراصل، گزشتہ پانچ برسوں سے مسلسل اس کے ساتھ سوتیلے سلوک کیا جارہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ دیہی ترقیات کی وزارت کے بجٹ میں جو اضافہ نظرٖٖآرہا ہے دراصل وہ وزیر اعظم کسان سمان فنڈ کے لئے مختص 75،000 کروڑ روپے کی رقم کی وجہ سے ہے اور اسے ہٹا دینے پر وزارت کا بجٹ کم ہو ا ہے ۔ دیہی علاقوں میں بنیادی ساختیاتی چیلنجوں سے نمٹنے کا کوئی طریقہ نہیں ہے ۔وزیر اعظم کسان سمان منصوبہ کے تحت ہر سال چھ ہزار روپے سالانہ رقم مختص کرنے کو ناکافی قرار دیتے ہوئے انہوں نے الزام لگایا کہ‘‘ وزیر اعظم کسان سمان فنڈ کے پیچھے ان کا اصل مسئلہ کی سوچ کبھی تھی نہیں اس کا مقصداتنا پیسہ دینا تھا تاکہ کسانوں کے ووٹوں کو حاصل کیا جا سکے ’’۔کانگریسی رہنما نے کہا کہ پانچ سال پہلے ، مودی حکومت نے وعدہ کیا ہے کہ وہ سال 2022 تک کسانوں کی آمدنی دوگنا کرے گی لیکن حقیقت میں اس کی پانچ سالہ مدت کے دوران، کسانوں کی آمدنی بڑھنے کے بھائے اس میں کمی آئی ہے ۔مسٹر تھرور نے کہا کہ صرف فصل انشورنس کمپنیاں فصل انشورنس اسکیم سے فائدہ اٹھا رہی ہیں۔کسان جتنا پریمیم کمپنیوں کو ادا کر رہے ہیں ،انشورنس کمپنیوں طرف سے پیش کردہ معاوضہ کی رقم پریمیم سے بھی کم ہے ۔ گزشتہ سال خریف فصلوں سے متعلق 12،867 کروڑ روپے کے دعوی کئے گئے تھے جن میں 40 فیصد ادائیگی اب تک نہیں کی گئی ہے ، جبکہ قوانین کے مطابق دو ماہ کے اندر ادائیگی کی جانی چاہئے ۔مسٹر تھرور نے تعلیم، دفاع، ماحول، صحت اور سیاحت پر مختص بجٹ بہت کم اضافہ کے لئے حکومت کی مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ جب فوج کو سامان، ہتھیار اور گولہ بارودی سامان کی خریداری کی سخت ضرورت ہے تو اس وقت دفاعی بجٹ میں بیحدمعمولی اضافہ کیا گیا ہے ۔ ماحولیات کی وزارت کے لئے مختص بجٹ گجرات میں سردار پٹیل کے مجسمہ لگانے میں خرچ کردہ رقم سے بھی کم ہے ۔۔