تازہ ترین

لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر کی تقرری سے متعلق دائر مفاد عامہ عرضی خارج

9 جولائی 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

نئی دہلی// دہلی ہائی کورٹ نے پیر کے روز سترہویں لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر کی تقرری کے سلسلے میں ہدایات دینے سے متعلق دائر مفاد عامہ کی عرضی خارج کر دی۔ چیف جسٹس ڈی این پٹیل اور جسٹس سی ہری شنکر کی بنچ نے درخواست کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ عدالت کو اس درخواست پر سماعت کرنے کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی کیونکہ ایسا کوئی قانون نہیں ہے جو کہ لوک سبھا میں حزب اختلاف کے رہنما کی تقرری کا تعین کرتا ہو ۔ بنچ نے مزید کہا کہ کیونکہ لوک سبھا میں حزب اختلاف کے رہنما کی تقرری کی کوئی آئینی ضرورت نہیں ہے ۔ اس لئے عدالت کو لوک سبھا میں حزب اختلاف کے رہنما کی تقرری کی کوئی پالیسی بنانے کے لئے بھی ہدایت دینے کی کوئی وجہ نظر نہیں آ رہی ہے ۔ مفاد عامہ کی یہ عرضی منموہن سنگھ نرولا اور سشمیتا کماری نے دائر کی تھی۔ سترہویں لوک سبھا میں کانگریس 52 ممبران پارلیمنٹ کے ساتھ سب سے بڑی اپوزیشن پارٹی ہے ۔ لوک سبھا کے اراکین کی کل تعداد کا ایک پارٹی کے 10 فیصد سیٹیں جیتنے پر ہی حزب اختلاف کے رہنما کا عہدہ دیے جانے کی روایت ہے ۔ سولہویں لوک سبھا میں بھی کانگریس کے 44 رکن تھے اور کسی کو اپوزیشن لیڈر کا عہدہ نہیں دیا گیا تھا۔  مفاد عامہ کی عرضی میں پارلیمنٹ میں دوسری بڑی پارٹی کانگریس کو حزب اختلاف کے رہنما کا عہدہ نہیں دینے کو غلط روایت بتاتے ہوئے کہا کہ اس سے جمہوریت کمزور ہوتی ہے ۔ کانگریس نے اس بار مغربی بنگال کے بھرامپور سیٹ سے منتخب ایم پی ادھیر رنجن چودھری کو لوک سبھا میں پارٹی کے پارلیمانی پارٹی کا لیڈر بنایا ہے ۔ سولہویں لوک سبھا میں ملک ارجن کھڑگے اس عہدے پر تھے اور اس بار وہ الیکشن ہار گئے ہیں۔یو این آئی