تازہ ترین

ضدی

افسانہ

7 جولائی 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

راجہ یوسف
 میری ماں کے چہرے پر یاس اور ناامیدی کا پہرا تھا۔ وہ حسرت بھری نگاہوں سے مجھے دیکھ رہی تھی۔اس کا چہرا بتا رہاتھا کہ وہ   دھاڑیں مار مار کر رونا چاہتی ہے لیکن ضبط کئے ہوئے تھی ۔ اس نے دل پر صبر کا کاغذی پتھر رکھا ہوا تھا اور کلیجے کو امید کے نحیف ہاتھوں سے تھام رکھا تھا۔ وہ میرے چہرے کو ٹکٹکی باندھ کر تکتی جا رہی تھی، شاید میرے دل میں چھپے غموں کا طوفان  میری آنکھوں میں تلاش کر رہی تھی ۔ وہ منتظر تھی کہ کب میرے صبر کا پیمانہ ٹوٹ پڑے اور میں چیخ چیخ کر رو پڑوں اور وہ میر ا سر اپنی گود میں رکھ کر  اپنی پلکوں کانرم باندھ کھول کر میرے ساتھ ساتھ زار و قطار رو لے تاکہ میرے درد کا کچھ مداوا ہوجائے۔ لیکن میں نہیں چاہتا تھا کہ میری ماں کی ا ٓنکھیں میرے دکھ کی وجہ سے تر ہوجائیں ۔ اپنی ماں کے ایک ایک آنسو پر ایسی ہزار جانیں قربان کر سکتا تھا۔  
ایک سانحہ تھا جو مجھ پر گزرا تھا ۔  یہ سانحہ چھوٹا موٹا بھی نہیں تھا۔ کسی اور پہ گزرتا تو وہ ٹوٹ پھوٹ کے بکھر کر رہ جاتا۔ لیکن میں خود کو ٹوٹنے سے روکے ہوا تھا۔میں کتنا مجبور تھا، بے بس تھا اور بے آسرا بھی ،یہ میں ہی جانتا تھا۔میں یہ بھی جانتا تھاکہ میں بہت کمزور اور خوف زدہ ہوں لیکن مجھے  خود کو بہت  بہادر  ظاہرکرنا تھا ۔ میری ذرا سی کمزوری میرا خوف عیاں کر دیتی اور میں روئی کے گالوں کی طرح بکھر کے رہ جاتا۔  
یہ پہلگام کی وادی میں ڈوبتے سورج کا منظر تھا۔  لدر نالے کا اچھلتا پانی سورج کی سنہری کرنوں میں موتیوں کی طرح چمک رہا تھا۔ لدر کے کنارے نرگس کے پھول بہار کی مست ہوائوں سے جھوم رہے تھے ۔ ان کی خوشبو ہوا کو معطر بنا رہی تھی ۔  میں قدرت کے اس حسین نظارے میں کھو چکا تھا کہ روحی کا ہاتھ میرے کندھے سے سرکتا ہوا  اب میرے چہرے کو چھو رہا تھا۔  میں نے پیار سے اس کی طرف دیکھا ۔  وہ مجھ میں جیسے کھو چکی تھی ۔  ایک ٹک میری آنکھوں میں دیکھ رہی تھی ۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ ڈوب کے میری آنکھوں کی گہرائیوں میں کچھ کھوج رہی تھی ۔
’’ روحی ۔ کیا کھوج رہی ہو ۔۔۔‘‘
 ’’ خود کو ۔۔۔ ‘‘ اس نے بنا پلک جھپکائے کہا ۔
 ’’ کہاں ۔۔۔ میری آنکھوں میں ۔‘‘
 ’’ نہیں ۔۔۔ تیری روح کی گہرائیوں میں ۔‘‘  وہ سحر زدہ لہجے میں بول رہی تھی ۔ 
 ’’ میری روح میری آنکھوں میں کب اُتر آئی ہے ، جو تم اُسے یہاں تلاش کر رہی ہو۔ ‘‘ 
 ’’ آنکھیں کبھی دھوکہ نہیں دیتیں۔ آنکھوں سے ہمیشہ سچ میں سچائی اور جھوٹ میں جھوٹاپن مترشح ہوتا ہے ۔ پسندیا نا پسند کا اظہار تو آنکھیں جھپکنے سے ہی معلوم ہوتا ہے۔ خوشی اور غم بیاں کرنے کی ادا کوئی آنکھوں سے سیکھ لے ۔۔۔  آنکھوں سے من کے اندر تک جھانکا جاسکتا ہے۔ روح کی گہرائیوں کو ناپا جا سکتا ہے ۔ بس چاہنے والے میں دیکھنے کی چاہ ہو ۔‘‘
 وہ بول رہی تھی اور مجھے ایسا لگ رہا تھا جیسے محبت کے سارے دیوی دیوتا اس کے بدن میں حلول کر گئے ہوں اور وہ میرے من ، میری روح کے ساتھ ساتھ میری رگ و جاں میں دوڑ پھر رہی ہے اور میرے اندر محبت کے بند کواڑوں کو  ایک ایک کرکے اکھاڑتی جا رہی ہے ۔
’’ اب میرے من میں اتنا بھی نہ ڈوب جا کہ میری زندگی کے سارے سراغ ایک ایک کرکے وا ہوجائیں۔  کچھ راز تو راز ہی رہنے دو نا۔ ‘‘
 ’’ میں تیرے ایک ایک راز کو کھولنا چاہتی ہوں ۔ تیرے سارے راز کھلے اوراق کی طرح میری آنکھوں کے سامنے بکھرے پڑے رہیں تو  میں دیکھ لوں کہ تم کتنا میرا ہوکر رہو گے ۔ میری کتنی سنو گے ۔ میرے بغیر بھی جی تو نہیں لو گے ۔‘‘
 ’’ یعنی سدا تیری انگلیوں پر ناچتا رہوں۔‘‘  میں نے از راہِ مذاق کہہ دیا اور اس نے بڑی سنجیدگی کے ساتھ جواب دیا۔
  ’’ ہاں ۔۔۔ سو فیصدی ہاں۔‘‘
’’  اب بس بھی کرو روحی ۔ شام ہوگئی ہے ۔ واپس گھر بھی پہنچنا ہے ۔‘‘   میں نے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر کہا ۔  اس کی مخروطی انگلیوں سے کھیلنے لگا کیونکہ مجھے  اس کی آنکھوں سے وحشت سی برستی نظر آرہی تھی۔  جیسے یہاں کی ساری بد روحیں اس کی آنکھوں میں اُتر آئی ہوں۔
        روحی اور میں صبح ہی پہلگام کی سیر کرنے آئے تھے۔ لنچ کرنے کے بعد ہم نے پہلگام کی ساری خاص جگہیں دیکھ ڈالیں۔ پوش ون پارک سے ۔ بائسرن ، بے تاب ویلی، شکار گاہ ،  اور اب آڑو جانے والے راستے پر بنے چھوٹے چھوٹے باغ بغیچوں کی سیر ہورہی تھی۔ یہ پھولوں سے بھرے باغیچے  لدر کے کنارے پر بنے ہیں۔ یہاں ایک طرف دیودار کے دختوں سے بھرے جنگل ہیں اور ایک طرف لدر کا اچھلتا پانی ہے جو بڑے بڑے پتھروں سے ٹکراتے ، شور مچاتے بہہ رہا ہے ۔ یہاں لوگوں کی بھیڑ رہتی ہے۔ پانی سے کھیلنا ، پتھروں پر بیٹھ کر ٹھنڈے پانی میں پیر ہلانا ،  فوٹو گرافی کرنا ، وازوان جیسے اچھے اچھے کھانے کھانا اور واز وان میں رستہ ، گوشت آبہ ، قورمہ اور کباب ۔ بس عید ہوتی ہے یہاں ہر روز۔
روحی یونیورسٹی میں میری جونئیر تھی۔ لیکن پیار میں میری سینئر۔ اسی نے میری طرف محبت کا ہاتھ بڑھا یاتھا۔ پہلے تو میں بہت ہچکچایا تھا۔ اس کے ساتھ پیار کرنا  میرے لئے مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن بات تھی ۔ میں اس کے باپ کو جانتا تھا۔ یہ ہمارے پاس والے گائوں کا نو دولتیا  تھا۔ رشوت خوری اور جعلسازی سے بہت پیسہ کمایا تھا۔ زمین جائیداد اور سیبوں کے کئی باغ بھی خرید چکا تھا ۔ لالچی بھی بہت تھا اور تمیزو  تہذیب سے بالکل کورا تھا۔ نک چڑھا اور گھمنڈی تو تھا ہی لیکن چالاک بھی بہت تھا۔ ہر مسلک کی مسجد میں سب سے زیادہ فنڈیہ یہی دیتا تھا۔ لوگ اس کے بارے میں بُرا بھلا کہتے رہتے تھے لیکن جب کبھی کسی مذہبی ادارے کو مالی معاونت کی ضرورت ہو یا کسی نئی مسجد کا سنگ بنیاد رکھنا ہو تو منتظمین فوراً اسی کے گھر کی طرف دوڑ لگاتے تھے۔ یہ سب کا ماننا تھا کہ اسی کے بل بوتے پر نئی مسجدوں اور اداروں کی بنیادیں رکھی جاتی ہیں۔ ہر سال دوسال میں حج عمرہ کرنے جاتا تھا۔ لیکن کسی شخص کی ذاتی مدد کبھی نہیں کرتا تھا۔ اس کے کتنے ہی رشتہ دار اور پڑوسی غربت میں زندگی گزاررہے تھے۔  لاکھ منت سماجت کرنے پر بھی  ان کی مدد نہیں کرتا تھا۔ بس وہی کام دل کھول کرکرتا تھا جس میں تشہیر کا امکان نمایاں ہوتا تھا۔ 
میں بہت ہی غریب ماں کا اکلوتا بیٹا تھا۔ہمارے پاس گزارے کے لئے تھوڑی سی زمین تھی۔ چھوٹا سا گھر تھا۔ لیکن میرے گائوں کے سبھی لوگ میری غریب ماں کی بہت عزت کرتے تھے۔  وہ جن کے کھیتوں یا گھروں میں کام کرتی تھی ۔ وہ اسے دل سے مزدوری کے پیسے دیتے تھے۔ میرے گائوں میں میری ماں کی وجہ سے سبھی لوگ مجھ سے پیار کرتے تھے اور پڑھائی میں میری مدد بھی کرتے تھے۔
  میں نے روحی سے کئی بار کہا۔
’’ روحی یہ کچی جھونپڑی اور تین مالے بنگلے کا پیار  زیادہ  دیرپھل پھول نہیں سکتا ۔  یہ کٹی پھٹی جیب  نوٹوں سے بھری تجوری کے سامنے ٹک نہیں سکتی ۔ ‘‘
’’ رہنے دے ۔ مجھے اب یہ ٹاٹ اور مخمل والے ڈائیلاگ نہ سنا۔ بہت سن چکی میں ۔ ۔۔ یہ کچے گھر نوٹوں سے بھری تجوریوں سے دس منزلہ مال میں بدلے جا سکتے ہیں ۔ آج  ڈائیلاگ بازی نہیں چلتی ہے۔ آدمی کا پریکٹیکل ہونا بہت ضروری ہے ۔ باہر آجائو اپنے اس دقیانوسی زمانے سے اور آج میرے قدم کے ساتھ قدم ملائو اور دنیا فتح کرلو ۔ یہ دنیا اسی کی ہے جو اس کی شہہ رگ پر اپنا پیر رکھنا جانتا ہو ۔ اپنا پیر آگے بڑھائو اور فتح کرلو ساری دنیا کو ۔ دینا طاقتوروں کی ہے ۔ کمزوروں کو یہ دنیا کیڑے مکوڑوں کی طرح کچلتی ہے ۔۔۔نکل آئو اپنی اس کیڑے مکوڑوں والی دنیا سے اور میری دنیا میں شان سے رہو اور عیش کی زندگی گزارو ۔۔۔‘‘
     روحی اور بھی بہت کچھ بولتی جارہی تھی۔ لیکن یہ سب باتیں میرے لئے بالکل غیر مانوس تھیں ۔ میرے کانوں میں آج تک ایسی باتوں کی بھنک بھی نہیں پڑ ی تھی ۔۔۔ میں سب کچھ سمجھتے ہوئے بھی کچھ نہ سمجھ رہا تھا۔ 
      روحی ضدی تھی اور اس کی ضد کے سامنے کسی کی کچھ بھی نہیں چلتی تھی۔ اس کا چالاک اور شاطر باپ بھی اس کی ضد کے سامنے  ہار گیا ۔ اس کے سارے رشتہ دار انگشت بدنداں رہ گئے ۔۔۔ اس کی ضد تھی بھی ایسی جو کسی کو بھی قبول نہیں تھی۔ اس نے مجھے اپنا شریک حیات چن لیا تھا۔ اس کے رشتہ داروں کے ساتھ ساتھ میرے پاس پڑوس والے بھی حیران ہوکر رہ گئے تھے۔میری ماں کی عزت کرنے والے اور  میرے ساتھ محبت کرنے والے  لوگ بہت خوش تھے۔ وہ سمجھ رہے تھے کہ میری ماں کا صبر اور اس کی دعائیں رنگ لائیں، جو اس غربت کی دلدل سے ہمارے باہر نکل آنے کی صورت پیدا ہوئی ہے اوراب ہم انسانوں کی طرح خوشحال زندگی گزاریں  گے۔۔۔ اب ہماری ساری مصیبتیں ختم  ہوجائیں گی ۔ 
    اونچے  محلوں کی روحی کا  ہمارے چھپر میںدلہن بن کرآنا کسی کرشمے سے کم نہ تھا۔ ہمارے چھوٹے سے گھر میں ہفتوں پڑوسیوں کی بھیڑ لگی رہی۔ خاص کر چھوٹی چھوٹی لڑکیوں کا جمگھٹا تو دن بھر لگا رہتا تھا۔ وہاں ان کے لئے نیل پالش کے ڈھیر لگے تھے۔ چھوٹے چھوٹے خوشبو دار  صابن ، بالوں کے رنگ برنگے  فیتے اور ربن ، پرفیوم اور دوسری چھوٹی چھوٹی چیزیں ۔۔۔ مسکراہٹ جیسے میری ماں کے چہرے پر ثبت ہوکر رہ گئی تھی ۔ وہ ہنستے مسکراتے مہمانوں کو زعفرانی قہوا پلاتی رہتی تھی اور دن میں سو بار روحی کی بلائیں لیتی نہ تھکتی تھی ۔۔۔
     لیکن غریبوں کے گھر میں خوشیاں زیادہ دیر کہاں ٹک پاتی ہیں۔ ان کا اصل ٹھکانہ چھپر کے نیچے کہاں بن پاتا ہے ۔ ویسے بھی غریب کے گھر میں روزن ہی روزن ہوتے ہیں۔ باہر جانے کے ہزار راستے ۔۔۔ لیکن روحی سر اٹھا ئے ، بڑے تکبر کے ساتھ اپنا سارا سامان سمیٹ کر دروازے سے نکل گئی تھی۔ میری ماں کی چادر روندھ کر جو اس نے روحی کو روکنے کے لئے اُسے پیروں کے سامنے زمین پر ڈال دی تھی۔ میں نے بڑی بے بسی کے ساتھ روحی کی طرف دیکھا اور بڑے دکھ کے ساتھ ماں کے سر کی چادر اٹھائی۔  پہلے آنکھوں سے لگائی پھر دونوں ہاتھوں سے کس کر سینے سے لگا دی۔
روحی کو میری بہت فکر لگی تھی ۔ وہ چاہتی تھی کہ مجھے بہت کچھ کرنا ہے۔ بہت آگے جانا ہے لیکن اس کے لئے یہ گھر اور یہ ماحول ٹھیک نہیں تھا۔  اگر مجھے اپنے سپنے پورے کرنے ہیں تو  اس کے لئے مجھے یہ گھر چھوڑنا  ہوگا۔ روحی کے باپ کے گھر میں  وہ بڑی سی خواب گاہ میری منتظر تھی، جس میں بیٹھ کر یا سو کر میں وہ  بڑے بڑے خواب دیکھ سکتا تھا، جو بڑے لوگ ایسی خوابگاہوں میں دیکھتے رہتے ہیں۔ اورمیرے سپنوں کو ساکار کرنے یا  پورا کرنے کے لئے روحی کے باپ کی تجوریاں بے قرار تھیں۔۔۔ جانے یہ عقل کا اندھیرا پن ہے یا ہم غریب لوگوں کی جبلت ہے ہم  بیوی کی اچھی اور بڑی بات کا مطلب بہت چھوٹا  نکالتے ہیں اور میں نے بھی  اپنی غریب ماں کے ساتھ مل کر  روحی کی بڑی بات کا چھوٹا سا معنٰی نکالا ۔ وہ یہ کہ روحی چاہتی ہے کہ میں اس کے باپ کا گھر داماد بن جائوں ۔۔۔بات تب دل کو زیادہ لگی جب میں نے ماں کا ذکر کیا تو روحی ایک دم چیخ اٹھی ۔
’’ کیا تم ابھی بھی ماں کی چھاتیوں سے چمٹے بیٹھے ہو۔ ۔۔ تم نے ایک ہی کے ساتھ رہنے کا فیصلہ کرنا ہے ۔۔۔ میں یا تیری ماں۔‘‘
 اور مجھ نالائق نے ماں کو چن لیا  ۔۔۔  پھر روحی کا میرے گھر میں رکنے کا کیا جواز بنتا تھا اور وہ بڑی اکڑ کے ساتھ میری غریبی کو ٹھوکر مار کر چلی گئی ۔۔۔ پھر اس کی ضد بہت زیادہ بڑھ گئی اور اب کی بار اس کی ضد کے ساتھ اس کے ماں باپ کی ضد بھی شامل تھی اور ان کا شکار میں، ایک غریب ماں کا اکلوتا سہارا  ۔۔۔۔ لیکن ان سب کی ضد نے مل ملا کر مجھے بھی بہت ضدی بنا ڈالا تھا ۔  پہلے انہوں نے کئی طریقوں سے مجھ پر دبائو ڈالا ۔ پھر مجھے ڈرایا دھمکایا  ۔ لیکن جب ان کی کچھ نہ چلی تو انہوں نے سیدھے مجھ سے طلاق کی مانگ کرلی ۔ میں روحی سے ملنا چاہتا  تھا۔  اسے محبت کے دن یاد دلانا چاہتا تھا۔  یونیورسٹی میں گزارے وہ پیار و محبت کے لمحات ۔  پہلگام کی سرمئی شامیں آنکھوں میں اتارنے کے حسین پل ۔ گلمرگ کی حسین صبحیں،  سورج کی سنہری کرنوں سے مخملی گھاس پر شبنمی قطروں کی رنگینوں میں کھو جانا ۔ سونہ مرگ، نشاط، شالیمار، چشمہ شاہی اور پری محل باغات کی سیر ۔ ڈل جھیل کے نرم سینے پر مچلتے تیرتے شکارے سے ہاتھ میں ہاتھ ڈالے ہائوس بوٹ کے ٹیرس تک آنا۔ پھر گھنٹوں  پیار محبت کی باتیں ۔ وہ سب اسے یاد دلانا چاہتا تھا۔ لیکن روحی کی ضد ہمارے آڑے آرہی تھی۔ وہ شادی سے پہلے جتنا مجھ سے پیار کرتی تھی اب اسے ہزار گنا مجھ سے نفرت کرتی تھی۔ کبھی وہ مجھے آنکھوں سے دور رکھنے کی سوچ بھی نہیں سکتی تھی اور اب ان ہی آنکھوں میں میرے لئے حقارت  کی آندھی اُٹھ رہی تھی۔ وہ مجھ سے ملنا بھی نہیں چاہتی تھی۔  وہ جب بھی کہیں چلی جاتی تھی تو کئی لوگوں کے ساتھ جاتی تھی ۔ ۔۔ 
طلاق مانگ کر وہ میری مردانگی کو چلینج کر رہے تھے اور یہ میں کسی بھی حالت میں نہیں مان سکتا تھا۔ لیکن تب مجھے اس کے باپ کی طاقت کا اندازہ نہیں تھا۔  یا شاید یہ اس کے باپ کی نہیں بلکہ پیسے کی طاقت تھی ۔ پیسے کی طاقت سب پر حاوی تھی ۔ انہوں نے میرے خلاف ہر شرعی کوٹ سے رجوع کیا اور مجھے بیوی کے لئے نا اہل ثابت کرنے کے  ڈھیروں فتوے لائے ۔  پھر پولیس ،  روز کسی نہ کسی تھانے سے مجھے بلاوا آنے لگا تھا ۔ پھر کورٹ کچہری ۔جہاں میں کسی بڑے وکیل کی خدمات بھی لے نہیں سکتا تھا۔ یہاں سب جگہ پیسہ بولتا تھا۔ میرا وکیل بھی کمزور تھا اور میرے مددگار بھی مسکین ۔۔۔ لیکن  میںپھر بھی  ڈٹا رہا ۔۔۔ ڈٹا رہنا میری مجبوری تھی ۔ میری ماں کی خاطر۔  میں نہیں چاہتا تھا کہ میری ماں کو لگے کہ میرا بیٹا اتنا کمزور ہے کہ پہلی ہی پیشی پر ٹوٹ گیا ۔۔۔  اصل میں تو یہ جنگ میں بہت پہلے ہار چکا تھا  لیکن پتا نہیں  میرے حریف یہ کیسے سمجھ رہے تھے کہ میں جیت رہا ہوں ۔ اب روحی کو طلاق دینے کے لئے میرے پاس کئی آفر آرہے تھے۔ مجھے پیسے سے خریدا جا رہا تھا لیکن میں اپنی ضد پہ اڑا رہا ۔ میں نے بھی فیصلہ کرلیا تھا کہ کچھ بھی ہوجائے لیکن میں روحی کو چھوڑوں گا نہیں ۔ لیکن یہ سب کہنے کی باتیں تھیں ۔ کچھ بھی ہوجائے کہنا آسان ہے لیکن جب سچ میں جان پر بن آتی ہے  تو معاملے کی نوعیت بدل جاتی ہے ۔۔۔ کورٹ کچہری اور تھانوں میں گھسیٹنے تک میں ڈٹا رہا۔ لیکن اب بات دوسری تھی۔ انہوں نے کرائے کے غنڈے خرید لئے۔ اب وہ میری جان ہی لینا چاہتے تھے۔ میری جان جاتی تو روحی خود بخود آزاد ہوجاتی ۔ وہ کہتے ہیں نا کہ جان ہے تو جہان ہے ۔۔۔ ایک بار مجھ پر جان لیوا حملہ بھی ہوا  پر میں بچ گیا ۔ لیکن ایسا بار بار ہوجائے یہ ضروری نہیں تھا۔ جب یہ بات میری ماں تک پہنچی تو اس کی راتوں کی  نینداور دن کا چین اڑ گئے ۔۔۔ ڈر تو میں بھی بہت گیا تھا۔ لیکن ماں کی طرف دیکھتا تو ضبط کرلیتا تھا۔ پر  اب سیلاب سر تک آگیا تھا ۔ اب تو میں بھی ایسے موقعے کی تلاش میں تھا کہ معاملہ تھوڑا سا بات چیت پر آجائے اور میں روحی کو  طلاق دے دوں تاکہ لوگوں میں میری سبکی نہ ہوجائے ۔ لیکن ایسا کوئی ثالث بھی نہیں تھا جو میری طرف سے ان کے پاس جاتا اور معاملہ رفع دفع کرکے آجاتا ۔۔۔ میں اب خاموشی کے ساتھ  روحی کو چھوڑنے پر آمادہ تھا لیکن اب مجھے کوئی پوچھتا بھی نہیں تھا۔
خوف اور ڈر کا ماحول میرے ارد گرد اپنا حصار تنگ کرتا جا رہا تھا۔ خاموشی بھی اتنی جتنی ایک بڑی سونامی ا ٓنے سے پہلے سمندر میں ہوتی ہے ۔ اب تو  مجھے یقین ہو رہا تھا کہ اب یا جب مجھے مار دیا جائے گا اور یہ ساری لڑائی ختم  ہوجائے گی ۔
     پھر کچھ ایسا ہوا کہ میںایک دم آزاد ہوگیا ۔ وہ دن میرے لئے ڈھیرساری خوشیاں ایک ساتھ لے کر آیاتھا ۔ یہ ساری خوشیاں میں اپنی ماں کے ساتھ بانٹنا چاہتا تھا۔ مجھ سے کوئی چھیڑ چھاڑ کئے بغیر ۔ مجھ سے پوچھے بغیر ۔ مجھے کسی خاطر میں لائے بغیر روحی اپنے باپ کے ایک نوکر کے ساتھ بھاگ گئی تھی ۔ مجھے نہیں معلوم روحی کے اس کانڈ میں اس کا باپ شامل تھا کہ نہیں لیکن میں جانتا تھا کہ وہ بہت خوش ہوگا ۔ کیونکہ اسے برسوں سے اپنے ہی جیسے ایک بے ضمیرگھر داماد کی تلاش تھی ۔۔۔ 
 لیکن جانے کیوں مجھے اپنے جان پہچان والوں کی آنکھوں میںیہ ایک لفظ تیرتا اور اچھلتا ہوا نظر آرہا تھا’’ بے غیرت ‘‘ 
���
 اسلا م آباد،اننت ناگ  کشمیر
موبائل نمبر9419734234