تازہ ترین

امریکہ کوپوری دنیا کا پولیس والا بننے سے گریز کرنا چاہیے:ٹرمپ

4 جولائی 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

نیو ڈسک
واشنگٹن// صدر امریکہ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے افغانستان سے تقریباً نصف فوجیوں کو واپس بلانے کے اعلان کے بعد ایک اور حیرت انگیز اعلان سامنے آْگیا کہ افغان فریقین پر مشتمل امن مذاکرات قطر کے دارالحکومت میں 7 سے 8 جولائی کو ہوں گے ۔رپورٹ کے مطابق جرمنی کے نمائندہ خصوصی برائے افغانستان اور پاکستان مارکوس پوٹزیل نے کہا کہ جرمنی اور قطر مشترکہ طور پر مذاکرات کو اسپانسر کررہے ہیں اور دعوت نامے بھی مشترکہ طور دئیے گئے ۔ امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کا کہنا تھا کہ کابل میں ہونے والے دہشت گردانہ حملے کے باوجود ‘‘ہم افغان مفاہتمی عمل کیلئے پر عزم ہیں’’۔ امریکی صدر نے بتایا تھا کہ انہوں نے پہلے ہی ‘‘افغانستان میں کافی حد تک فوج میں کمی کردی ہے ’ ’لیکن اس بارے میں اتنی بات نہیں کرتے ۔اب تک واپس بلوائے گئے فوجیوں کی تعداد بتاتے ہوئے امریکی صدر کا کہنا تھا کہ افغانستان میں 16 ہزار فوجی موجود تھے جس میں تقریباً 9 ہزار کی کمی کی جاچکی ہے ۔ان کا مزید کہنا تھا کہ امریکہ وہاں سے نکلنا چاہتا ہے لیکن نہیں نکل سکتا کیوں کہ افغانستان ‘‘دہشت گردوں کی لیبارٹری ہے ’’۔امریکی صدر نے اس بات سے انحراف کیا کہ امریکا کو افغانستان میں امن و سلامتی کے لیے مرکزی سطح پر فوجی موجودگی برقرار رکھنی چاہیے ۔ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کو ‘‘پوری دنیا کا پولیس والا بننے سے گریز کرنا چاہیے ’’ کیوں کہ دنیا میں کوئی اور ملک یہ نہیں کررہا۔اسی طرح اگر روس کو دیکھیں تو وہ دنیا میں پولیس کا کام نہیں کررہا وہ صرف روس میں ہی پولیس ہے اسی طرح چین کے بھی فوجی دستے ہر جگہ موجود نہیں۔تاہم افغانستان کو دہشت گردوں کی آماجگاہ بننے سے روکنے کے لیے امریکی صدر نے تجویز دی کہ اس کے لیے خفیہ اطلاعات کا مضبوط نیٹ ورک چھوڑنا ہوگا۔دوسری جانب واشنگٹن پوسٹ فوجی انخلا کا اعلان امریکہ کے نمائندہ خصوصی برائے افغان مفاہمتی عمل زلمے خلیل زاد کے طالبان کے ساتھ متوقع مذاکرات میں ٹائم فریم کے بارے میں بات چیت پر کیا جانا تھا۔لیکن اب صدر ٹرمپ کے اعلان نے 7 سے 8 جولائی کو ہونے والے افغان امن اجلاس میں متوقع ٹائم فریم میں تیزی آگئی ہے ۔جرمنی کے نمائندہ خصوصی جنہوں نے مذاکرات کی تاریخ کا اعلان کیا، نے اس بات کی تصدیق کی کہ اس میں افغان حکومت حصہ نہیں ہو گی دوسری جانب ‘نیو یارک ٹائمز ’کا بھی یہی کہنا ہے کہ مذاکرات طالبان کی شرائط پر ہورہے ہیں جس میں افغان حکومت کا نمائندہ شامل نہیں ہوگا۔یو این آئی