فریب!

افسانہ

30 جون 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

عرفان عارفؔ
دن بھر کھیل کو د کے بعد عابد جب گھر لو ٹا تو حسب ِ معمول ما ں کی گو د میں سر رکھتے ہو ئے کہا ’’ما ں اب دھوپ تیز ہو تی جا رہی ہے۔سر میں درد ہو نے لگتا ہے اور تلوئوں سے آگ بھی نکل رہی ہے۔‘‘ ما ں نے ہمدردانہ لہجے میں کہا ’’ بیٹا کہیں چھا ؤں میں بیٹھ کر پڑھ لیا کرو۔ ہمیشہ کہتی ہوں کہ شام کے وقت سر میں مکھن کی ما لش کرلیا کرو۔ اس سے گرمی ذرا کم محسوس ہوتی ہے۔۔۔‘‘لو ۔۔صبا بھی آگئی اور مغرب کی اذان بھی ہو نے والی ہے ۔‘‘
مغرب و عشا کی نما ز کے بعد معمول کے مطابق سب لو گ سو گئے تھے ۔وقت ِ سحر عابد صبا کا  ہا تھ تھا مے ہو ئے تھا کہ ماں کی نظر پھر ان پر پڑی ۔ صبا فوراً با ہر نکل گئی۔با ہر تیز ہو ائیں چل رہی تھیںاور خوش نما پرندوں کی خوش نما آوازوں کے سا تھ قریب ایک بہتے ہو ئے دریا کی روانی سے ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے کو ئی پری کو ہ ٔ قاف سے گھنگرو با ندھے ہو ئے آ رہی ہو۔گھنگرو کی جھنکا ر سنتے ہی عا بد بھی خواب گا ہ سے یو ں دوڑا دوڑا با ہر نکل گیا جیسے صدائے لیلیٰ سن کر مجنوں صحرا کی خا ک اُڑاتا ہو الیلیٰ سے ملنے جا رہا ہو ۔صبا کو عابد کے شہر میں آئے ہو ئے تقریبا ً چا ر برس ہو چکے تھے ۔ عابد اسے کا فی حد تک سمجھ چکا تھا ۔شاید یہ اس کی محبت ہی تھی جو اسے کسی کر وٹ چین نہ لینے دیتی۔عابد کی ہر پل ہر لمحہ بس یہی تمنا رہتی کہ صبا کی با نہو ں میں اس کا سویرا ہو ،دن گزرے شام ڈھلے اور صبا بھی کو ئی نہ کو ئی بہا نہ بنا کر عابد کے گھر آتی جا تی رہتی اور ڈھیر ساری با تیں لمحوں میں کر دیتی جیسے گھر نہ ہو چڑیا گھر ہو ۔
عابد کے لئے سب کچھ صبا۔ لیکن ۔۔’’صبا‘‘آئے دن بے خوف و خطر ہو ا کی طرح ہر سو ہر سمت بکھرتی جا رہی تھی ۔مدت بعد ایک دن اچا نک دونوں کی ملا قات کا لج میں ہو ئی ۔صبا کا کا لج میں اب تیسرا سال تھا ۔عابد نے صبا سے پو چھا ۔’’ کیسی ہوصبا ‘‘صبا نے کہا’’اچھی ہوں اور ۔۔‘‘اور کیا ۔۔۔فوراً عابد بول پڑا ۔صبا نے دہرایا ’’ارے بھائی !تم بتا ؤ۔تم کیسے ہو اور کب آئے ہو۔‘‘عابد نے کہا ۔’’اچھا ہوں یا راور آج ہی پہنچا ہوں۔ آتے ہی تم سے ملنے تمہا رے روم میں گیا تھا۔پتا چلا کہ تم ابھی کا لج میں ہی ہو ۔اس لئے تم سے ملنے یہا ں پہنچ گیا ۔‘‘صبا بڑے تعجب سے بو لی’’اچھا !‘‘ عابدنے بات جاری رکھتے ہوئے کہا ’’خیر تم بتا ؤ ۔۔اب تمہیںیہ شہر کیسا لگتا ہے۔‘‘ صبا نے مغرورانہ انداز میں ’’ہوں ‘‘کہہ کر کہا جواب دیا ۔’’ یہا ں کیا ہے ؟ یہا ں کے لو گ۔۔۔یہا ں تو سب کو ایک دوسرے کی پڑی رہتی ہے۔کس نے کیا کھا یا ،کیا پہنایا ۔کون آیا ،کون گیا ،کس سے با ت کی ‘‘  عابد نے بڑی سنجیدگی کے سا تھ صبا سے مخاطب ہو کر کہا ــ ’’ دیکھو !صبا  ایسا مت کہو کیو ں کہ یہی وہ شہر ہے جہا ں ایک دوسرے کے دکھ درد کو سمجھا جا تا ہے۔ورنہ میں بھی جانتا ہوں ،تمہا رے شہر کی حقیقت‘‘۔ اتنے میں صبا کی ایک سہیلی نے  صبا کو اشارہ کیا اور وہ  جلدی جلدی یہ کہہ کر عابد سے رخصت ہو ئی کہ ’’ با قی با تیں کمرے میں کریں گئے ۔خدا حا فظ‘‘
شام کو عابد  صبا کے روم میں پہنچا تو وہا ں صبا کی ما ں تھی ۔عابد نے سلام کے بعد کلا م کیا کہ۔’’آنٹی صبا کہا ں ہے‘‘۔’’ چھت پر ہو گئی۔ میں اسے بُلا کے لا تی ہوں۔‘‘آنٹی نے جواب دیا 
صبا کی ماں نہا یت وسیع القلب اور ذہین عورت تھی۔ اسے عابدکا آنا جا نابھی کبھی نا گوار نہ گزرتا تھا کیو ں کہ وہ سوچتی تھی کہ صبا تعلیمی طور پر عابد سے مستفید ہو تی ہے۔مگر صبا تھی کہ اسے ہر روز نت نئے لو گو ں سے ملنے اور نئے نئے دوست بنا نے کا شوق تھا۔عابد کو صبا کی یہی عادت اچھی نہیں لگتی تھی۔مگر صبا اپنی محبت کے سحر سے عابد کا دل جیت لیتی۔صبا چوں کہ ملنسار تھی اور دکھا وا اس کا شیوا تھا لہٰذا جب بھی عابد اسے کچھ کہتا تو وہ با توں با توں میں ٹا ل دیتی اور کبھی ہا ں میں ہا ں ملا دیتی ۔اس طرح دن مہینوں اور مہینے برسوں میں بدل گئے اور عابد علی گڑھ سے تاریخ میں ایم ۔اے کر کے واپس اپنے شہر لو ٹا۔اب وہ زیا دہ تر اپنے گھر میں ہی رہتا اور صبا بھی اسے وقت دیتی۔اس اثنا میں عابد نے  اپنے دوستوں سے صبا کے با رے میںکچھ با تیں سنی تھیں۔ صبا نے بھی جیسے سب کچھ صا ف صاف کہہ دیا ہو ۔صبا کے بتلا نے پر عابد جب شہزاد سے ملنے کا لج گیا تو شہزاد نے بھی وقت کی نزاکت کو سمجھتے ہو ئے معا فی ما نگ لی اور کہا کہ’’ مجھے معلوم نہ تھا کہ وہ تمہا ری کزن (cousin)ہے۔ ‘‘دن ڈھلا شام ہو تے ہی عابد صبا سے ملنے  اس کے روم میںجا ہی رہا تھا کہ راستے میں صبا سے ملا قات ہو گئی اور کہا کہ ’’میں تمہا رے پا س ہی آ رہا تھا ‘‘ صبا نے بھی پلٹ کر جواب دیا کہ ’’ میں بھی تمہا رے ہی گھرجا رہی تھی۔‘‘ عابد نے فوراًصباسے کہا ’’ارے یا ر آج بہت تلا ش و جستجو کے بعد شہزاد کو کا لج میں ۔۔۔‘‘ صبا، عابد کی با ت کا ٹتے ہو ئے ’’تم کو ن ہو تے ہو، اسے ڈھو نڈنے والے؟تمہیں کیا ضرورت تھی اس سے با ت کر نے کی۔۔وہ میرا کلا س میٹ ہے۔۔۔۔‘‘اس سے پہلے کہ صبا کچھ اور کہتی عابد نے اس کے دہکتے ہو ئے گا لوں پر زور دار طما نچہ ما را ۔صبا غصے سے لا ل پیلی ہو گئی اور بو لی کہ’’ دوبا رہ میرے سامنے مت آنا اور نہ ہی ہما رے روم میں آ نے کی تکلیف کرنا ۔تم بھی اپنے گھر والو ں کی طرح ۔۔۔۔ـ’’ہوں‘‘۔۔۔عابد ہا تھ اٹھا تے ہوئے ’’ چپ، تمہیں بھی ہما رے گھر آ نے کی ضرورت نہیں۔‘‘ دونو ں نے اپنی اپنی راہ لی ۔ عابدآنسوؤں کے سیلا ب میں بہتا ہو اگھر تک پہنچا اور صبا کوشریک ِ حیا ت بنا نے کا نظریہ سا نپ بن کر ڈھسنے لگااور بغیر کچھ کھاے پئے سردرد کا بہا نہ بنا کر کے اپنے کمرے میں سونے چلا گیا ۔سوتا کیا گر دش ِ آفتا ب کی طرح اس نے بھی کر وٹ بدل بدل کر شب کی مسا فت طے کی۔
عابد کی ما ں نے فجر کی نما ز کے لئے جب عابد کو آواز دی تو عابد نے حسب ِ معمول پہلے دریچہ کھو ل کر با ہرخو د رو گھا س کی طرف دیکھا اور کیا دیکھتا ہے کہ آج چند پرندے دانہ چگ رہے ہیں اور چگتے چگتے ایک پرندے نے دوسرے پرندے کا دانہ چھین کر کھا لیا اور کسی پرندے نے کوئی آہ و زاری نہ کی بلکہ اپنا اپنا دانہ چگنے میں مصروف رہے۔عابد یہ سب دیکھ کر حیرت زدہ ہو گیا اور دریچہ بند کر کے اس پہ قتل چڑھا دیا ۔عابد کی ما ں نظر شنا س تھی۔ وہ عابد کی روز بروز بگڑتی حالت سے آشنا تھی اور صبا کی تما م تر حرکا ت و سکنا ت سے بھی واقف تھی۔اس لئے وہ عابد کو کبھی لا ڈ کرتی ،کبھی ڈانٹتی تو کبھی سمجھا تی ۔ اس لئے کہ دونو ں کے درمیا ن کو ئی نہ کو ئی مو ضو ع صبا کے حوالے سے زیر ِ بحث رہتا ۔ عابدکو بھی آہستہ آہستہ احساس ہو نے لگا کہ اس نے اپنی ما ں کو سوائے غم کے آنسووں  اور کچھ نہیں دیا ہے ۔۔عابد کے دوستوں اور دیگر افرادخا نہ کو بھی صبا کا روز بروز دوسروں سے ملنا جُلنا اچھا نہیں لگتا تھا۔ عابد کو اکثر دوست سمجھاتے کہ ــ’’ عابد اگر وہ تجھ سے محبت کر تی ہے توپھر اس کا یہ روز روز کسی اور سے ملنا کیسا ۔‘‘ پر عابد ۔۔کب کسی کا کہنا خا طر میںلا تا تھا اس کے دل میں تو صبا کی محبت کا جو ش تھا ۔ایک دن مجبوراً زاہد نے، جو عابد کابہت قریبی دوست تھا، کہا کہ ’’ تم خو د دیکھنا چاہتے تھے نا ۔جا ؤاور دیکھو وہ آج بھی تم سے ملنے کے بجا ئے شہزاد کے ساتھ لکشمی رستوران میں بیٹھی گپیں ما ر رہی ہے اور تم ہو کہ ۔۔۔‘‘ یہ سنتے ہی عابد فوراً رستوران پہنچا ۔منیجرکے روکنے کے با وجو د اس نے ہر کیبن میں جھانکنا شروع کیا ۔آخر ایک کیبن میں دیکھا کہ صبا اور شہزاد دونوں ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر محو ِ گفتگو ہیں۔عابد کو چڑیو ں کا دانہ چگنے کا منظرآنکھوں کے سامنے آگیا ۔ اپنی محبت کے جذبے کے ساتھ ایسا فریب اسے اندر تک توڑ گیا۔اس کا جی چاہا کہ وہ ساری دنیا کو اسی وقت آگ لگا دے لیکن یہ اس کے اختیا ر میں نہ تھا ۔اپنے سینے میں تیز درد اٹھتا محسوس کیا ،یک بہ یک اسے پوری دنیا گھومتی نظر آئی ۔شاید یہ اس کا ایک طرفہ پیا ر تھا لیکن فریب ہر حال میں فریب ہوتا ہے اور اس کا درد انسان کو لمحہ بھر میں ختم کر دیتا ہے ۔اب کہنے سننے کو کچھ باقی نہ رہ گیا تھا ۔کانپتے لرزتے قدموں پر قابو پاتے ہوئے عابد رستوران  سے باہر نکل آیا ۔با ہر ہر طرف تیز شور و غل تھا لیکن عابد کے اندر ایک گہرا سناٹا پھیل چکا تھا  اچا نک  اسے غشی سی محسوس ہوئی اور خود کو سنبھالنے کے باوجود وہ چکرا کر گر پڑا۔ 
٭٭٭
اسسٹنٹ پروفیسر اردو، جموں،aliapfan@gmail.com
 

تازہ ترین